صاف ستھرے بھارت کا مشن ہدف اور مسلم علاقوں سے دور

Share Article

یاد آتا ہے 1997میں ملکہ برطانیہ الیزابتھ کا 1961اور 1983 کے بعد تیسری بار دورہ ہند۔ 12 اکتوبر کو نئی دہلی پہنچنے کے بعد دوسرے روز علی الصباح یہ کھلی گاڑی میںاپنے ملک کے ہائی کمشنر سر ڈیوڈ گورے بوتھ کے ساتھ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ انھیں خراج عقیدت پیش کرنے جارہی تھیں۔ اچانک رنگ روڑ پر راج گھاٹ سے ٹھیک پہلے ان کی نظر سڑک کے کنارے متعدد خواتین پر پڑی جو انھیں دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ اس پر ملکہ نے اپنے ہائی کمشنر سے پوچھا کہ یہ سب اچانک کیوں کھڑی ہوگئیں اور کیا کررہی ہیں؟ جواب ملا کہ ’’دے آر ایزنگ آؤٹ‘‘ (They are easing out)۔ یعنی یہ خواتین حاجت سے فارغ ہورہی ہیں۔ پھر ملکہ برطانیہ شرماتے ہوئے مسکرائیں اور اپنے دانشور ہائی کمشنر کا منہ دیکھنے لگیں۔ بعدازاں راج گھاٹ سے لوٹ کر جب یہ راشٹرپتی بھون واپس آئیں تو وزیراعظم اندرکمار گجرال سے ملاقات کے دوران انھوںنے ان سے برجستہ دریافت کیا کہ جب وہ 1958 میںنئی دہلی میونسپل کمیٹی کے نائب صدر بنے تھے تب اور اب جب وہ وزیراعظم ہیں تب کیاقومی راجدھانی میںکوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے ہیں؟ یعنی اب بھی 39 برس میںوافر بیت الخلاء نہیں بنائے جاسکے ہیں اور خواتین تک کو سڑک کے کنارے علی الصباح حاجت سے فراغت کرنی پڑ رہی ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ اس وقت ملک کے وزیر اعظم کے لیے ملکہ برطانیہ کوجواب دینا بہت مشکل ہوگیا تھا۔
مگر 1997کے بعد 2014میں جب نریندر مودی وزیر اعظم بنے تو انھوںنے ملک بھر میں’سوچھ بھارت مشن‘ کا پانچ سالہ منصوبہ بنایا جس کے تحت ہر جگہ بیت الخلاء مہیا کرانا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسا منصوبہ بنانے کا صاف مطلب یہ تھا کہ اب بھی کھلی جگہ پر مرد و خواتین دونوں حاجت سے فارغ ہورہے ہیں۔ عجب بات تو یہ ہے کہ اگر ملکہ برطانیہ 2016 میںایک بار پھر ہندوستان آتی ہیں تو انھیں 1997 والا ہی منظرنامہ کم و بیش دیکھنے کو ملے گا۔ قومی راجدھانی میںایسے بے شمار مقامات آسانی سے علی الصباح کسی کو بھی دیکھنے کو مل جائیںگے۔ ابوالفضل انکلیو، اوکھلا میں سکونت پذیر قطب الدین جو کہ پٹیالہ کورٹ میںوکیل ہیں، کہتے ہیںکہ شہر کے ہر حصے میںایسے مقامات کی کمی نہیں ہے جہاں کھلے آسمان کے نیچے حاجت سیفارغ ہونا پڑ رہا ہے۔ انھوںنے کہا، کسی روز گنجان آبادی والے اسی شاہین باغ میںلمبے نالے کے کنارے بوتل میں پانی لیے لوگوں کو آپ بڑی آسانی سے اس حالت میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ دہلی میںمحنت و مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنے والے لوگ بڑی تعداد میں ہیںجنھیں کسی طرح کہیں بھی کھلی جگہ کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے۔
عیاں رہے کہ دو برس قبل وزیر اعظم مودی نے سوچھ بھارت مشن شروع کرتے وقت طے کیا تھا کہ اواخر 2019 تک ہندوستان کو کھلے آسمان کے نیچے حاجت سے فراغت کرنے سے نجات دلادی جائے گی۔ اب تک جو اعداد وشمار ملے ہیں،ان کے مطابق کل 4041 شہروں میں سے 141 شہر اور 6.08 لاکھ گاؤں کے 1/6 واں حصے سے کم گاؤںکو ’اوپن ڈیفیکشن فری‘ (او ڈی ایف) قرار دیا گیا ہے۔ شہری علاقوںمیںصرف 22000 اجتماعی بیت الخلاء کی اب تک تعمیر ہوسکی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ پانچ برس کی مدت میں 2.55 لاکھ اجتماعی بیت الخلاء کے ٹارگیٹ کے محض 9 فیصد پر کامیابی مل پائی ہے۔ جہاںتک کمیونٹی بیت الخلاء کا معاملہ ہے،صرف 76 ہزار 744 بیت الخلاء بنائے جاسکے ہیں جو کہ ٹارگیٹ کا محض 30 فیصد ہوا۔
سوچھ بھارت مشن کا یک اور مقصد تھا کہ 4041 شہری علاقوں کو کوڑے یعنی ویسٹیج سے نجات دلاکر انھیںصاف ستھرا بنا دیا جائے گا۔ لیکن اس مقصد میں بھی کامیابی بہت کم ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر گھرتک میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی پہنچ نہیں ہے یا ان کے پہنچنے کا کائی انتظام نہیں ہے۔ شہری مشن کے تحت یہ طے کیا گیا تھا کہ اکتوبر 2019 تک کل 1.04کروڑ گھروں میںبیت الخلاء بنائے جائیںگے۔ اس اسکیم کے پہلے سال صرف 4.6 لاکھ بیت الخلاء کی تعمیرکرائی جاسکی ہے۔
متعلقہ وزارت نے اپنے ٹارگیٹ پر نظر ثانی کرتے ہوئے مطلوبہ تعداد کو کم کرکے 66.42 لاکھ کردیاہے۔ اس طرح ٹارگیٹ میں کمی کردینے سے کارکردگی 36 فیصد تک پہنچ گئی جس کے تحت 24 لاکھ گھروں میں بیت الخلاء بنائے گئے۔ متعلقہ وزارت کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کیرل، گجرات اور آندھرا پردیش کو سال رواں کے آخر تک کھلے آسماں کے نیچے حاجت رفع کرنے کی ضرورت قطعی نہیں پڑے گی۔ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں کل 650 اضلاع جو کہ سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے تحت آتے ہیں، میں سے صرف 23 اضلاع میںبیت الخلاء کا مسئلہ اب تک حل نہیں ہوپایا ہے۔ واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت 650 اضلاع میں6.08 لاکھ گاؤں آتے ہیں۔
ان تفصیلات سے یہ تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے ملک میں شہری و دیہی علاقے جو کہ کل 29ریاستوں اور 7 یونین ٹیریٹریوں میںپھیلے ہوئے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ پور ے ملک میں کوئی ایسا شہر نہیں ہے جہاں صد فی صد ویسٹ مینجمنٹ ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ معاملہ بیت الخلاء کا ہو یا ویسٹ مینجمنٹ کا، سوچھ بھارت مشن دوبرس گزرجانے کے بعد اپنے ٹارگیٹ سے بہت پیچھے ہے اور اگر اس رفتار کو رجحان مان لیا جائے تو یہ ماننے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ باقی بچے تین برسوں میںہم اپنے ٹارگیٹ کو ہرگز پورا نہیںکرپائیں گے۔
جب ہم بیت الخلاء اور ویسٹ مینجمنٹ کے معاملے میں گھنی مسلم آبادی والے یعنی مسلم کنسنٹریٹیڈ ڈسٹرکٹس(ایم سی ڈیز) کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں تو صورت حال اور بھی مایوس کن ہے۔ نیشنل سیمپل سروے (این ایس ایس) کے ڈاٹا اور سچر رپورٹ سے مسلم علاقوں میں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہی، یہ حقیقت پہلے سے عیاں ہے کہ یہاں بیت الخلاء کی زبردست کمی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کا کوئی معقول انتظام نہیںہے۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیںہے کہ جامعہ نگر اوکھلا میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی رہتی ہے۔ یہاںکسی بھی علاقے میںگھوم جائیے، سڑک کے کنارے کوڑے کا ڈھیر ہر محلے میںملے گا۔ ابولفضل انکلیو میں واقع سُپر اسپیشلٹی الشفاء ہاسپٹل کے سامنے تقریباً دو برسوں سے سڑک کے کنارے کوڑے کا بہت بڑا ڈھیر جمع ہے۔ نوجوانوںنے احتجاج کیا، راستہ بند کیا اور اخبارات میںرپورٹیں آئیں نیز مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خاں بھی جائے وقوع پر پہنچے مگر نتیجہ صفر ۔ کوڑے کے ڈھیر سے ایسی بدبوآتی ہے کہ کسی کا بھی وہاںسے گزرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسے اتفاق کہیے یا کچھ اور کہ دو برس قبل شروع ہوئے سوچھ بھارت مشن سے یہ علاقہ و دیگر مسلم علاقے غائب ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر اس مشن کے منتخب علاقوں میں مسلم علاقے کیوں شامل نہیں کیے گئے؟ ویسٹ مینجمنٹ یا بیت الخلاء کا ٹارگیٹ ان علاقوں تک آخر کیوں نہیں پہنچ پایا؟
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ دو برس سے زائد عرصے میں مختلف مہمیں اور اسکیمیں چلانے کا اعلان کرایا لیکن ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘ کے تحت یہ سب مسلم علاقوں تک نہیںکے برابر پہنچے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملہ سوچھ بھارت مشن کا ہو یا سنسد گرام یوجنا، انھیں بلا امتیاز و تفریق ہر جگہ پہنچنا چاہیے۔ تبھی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ ہوپائے گا۔
ویسے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں میں اس تعلق سے بے حسی بھی پائی جاتی ہے۔ ان مسلمانوں میںجن کے نزدیک صفائی آدھا ایمان ہے۔ اگر کسی بھی علاقہ کی پوری آبادی طے کرلے کہ وہ میونسپل کا رپوریشن کو مجبور کردے گی کہ وہ ویسٹ مینجمنٹ کرائے تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کے پاس بھی فرار کی کوئی راہ نہیں بچے گی۔ سرکاری سطح کے علاوہ شہریوں کے بھی اپنے فرائض ہیں اور ذمہ داریاں ہیں۔ لہٰذا انھیں بھی اس تعلق سے فکر مند ہونا پڑے گا۔یہ لمحہ فکریہ ہے ملک کے شہریوں کے لیے کہ وہ اپنے حقوق سے آخر کیوں محروم ہیں؟
یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ 1997 میںملکہ الیزابتھ اپنے دورہ ہندکے دوران دہلی کی سڑکوں پر حاجت سے فراغت پانے کے جو مناظر دیکھ کر گئی ہیں، وہ آج بھی کم وبیش اسی طرح سے موجود ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے سوچھ بھارت مشن سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اس جانب توجہ دی جاسکے گی لیکن دو برس گزرنے کے بعد دستیاب اعدادوشمار مایوسی پیدا کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ دوبرسوں کے تجزیوں کی روشنی میںنئے پُرجوش او رغیر جانب دارانہ انداز میںتوجہ دی جائے گی۔

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *