چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے خود پر لگے جنسی تشدد کے الزام سے کیا انکار، کہا۔ عدلیہ کی آزادی خطرے میں

Share Article

CJI-ranjan-gogoi

چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی پر ایک خاتون نے سنگین الزام لگایا ہے۔اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اپنے اوپر لگے جنسی استحصال کے الزام کوخارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس پر جنسیتشدد کے معاملے میں خود جسٹس رنجن گوگوئی نے صفائی دی ہے اور خود پر لگے جنسیتشدد کے الزامات سے انکارکیااور کہاکہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا،میں ان الزامات کا جواب نہیں دینا چاہتا ہوں‘۔ سی جے آئی رنجن گوگوئی نے کہا کہ عدلیہ خطرے میں ہے۔اگلے ہفتے کئی اہم مقدمات کی سماعت ہونی ہے، اسی لیے جان بوجھ کر ایسے الزام لگائے گئے۔

چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی پر جنسی تشدد کا الزام

ایکنیوز ویب سائٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی سابق ملازمہ کی ایک حلف نامہ سامنے آیا ہے۔ 22 صفحات کے اس حلف نامے میں سابق ملازمہ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی تشدد اور واقعہ کے بعد اس کے خاندان کو پریشان کرنے کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ خاتون جونیئر کورٹ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھی۔ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ چیف جسٹس نے گزشتہ سال اکتوبر 10 اور 11 کو اپنے گھر کے آفس میں ’فائدہ‘اٹھانے کی کوشش کی۔
خاتون نے اپنے حلف نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ اس نے جسٹس گوگوئی کا مطالبہ ٹھکرا دیا اور آفس سے باہر آ گئی۔ اس کے بعد 21 اکتوبر کو اسے اس کی نوکری سے باہر کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ہفتہ کو ’عدلیہ کی آزادی‘ کو لے کر خصوصی بینچ تشکیل کر دی۔
سپریم کورٹ کے مطابق یہ بنچ ’مفاد عامہ سے جڑے اس اہم مسئلے‘ پر فوری طور پر اس پر توجہ دے گی۔ اس بنچ میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی سمیت جسٹس ارون مشرا اور جسٹس سنجیو کھنہ شامل ہیں۔ کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے اس سلسلے میں جاری نوٹس کے مطابق سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کے ایک حوالہ کے بعد یہ حکم آیا ہے۔ حالانکہ یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ کس مسئلے پر ہے۔

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *