شہریت ترمیمی بل معاملہ:انڈین یونین مسلم لیگ کے ممبران پارلیمنٹ کا احتجاج

آج وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل پیش کیا گیا۔جس کی اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے ساتھ انڈین یونین مسلم لیگ کے چاروں ممبران پارلیمنٹ نے پر زور مخالفت کی۔لوک سبھا ممبرپارلیمنٹ پی کے کنہالی کٹی ،ای ٹی بشیر احمد ،رب نواز غنی اور راجیہ سبھا ممبر پی وی عبدالوہاب نے پارلیمنٹ کے صحن میں گاندھی جی کے مجسمہ کے سامنے احتجاج درج کرایا۔

اس موقع پر دہلی پردیش کے صدر مولانا نثار احمد نقشبندی ،عمران اعجاز،سید فیصل سمیت درجنوں کارکنان موجود تھے۔ممبر پارلیمنٹ پی کے کنہالی کٹی نے کہا کہ حکومت بدستور یہ کہہ رہی ہے کہ اس میں ہندوستان کے مفادات کا پورا خیال رکھا گیا ہے لیکن اس بل میں مذہبی بنیاد پر شہریت طے کرنا ملک کے بنیادی آئین کے خلاف ہے۔بل کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ اس میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینا اور نہ دینا ہے۔

Image result for Citizenship Amendment Bill Matters: Members of Indian Union Muslim League Protest
واضح رہے بل میں بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں مذہب کی بنیاد پراذیت کی وجہ سے ملک میں پناہ لینے والے غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت دینے کا التزام ہے۔لیکن مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جو ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا ہماری پارٹی وہ تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہے جو ہندوستان کے آئین پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس بل کی شدید مخالفت کریں۔کیونکہ یہ بل ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو برباد کرنے والا ہے اس سے ملک میں مذہبی منافرت میں اضافہ ہو گا ،یہ بل ملک کے دستور کیسراسر خلاف ہے اس لئے ہماری پارٹی اس بل کی سخت مخالفت کرتی ہے اور اس بل کے خلاف جو بھی جائز اور قانونی پہلو ہے پارٹی اس کے لئے لڑنے کے لیے تیار ہے۔ہماری پارٹی کے علاوہ کانگریس، ترنمول کانگریس کے ساتھ ساتھ آسام میں آل آسام اسٹوڈنٹ یونین اور شمال مشرقی ریاستوں کی مختلف پارٹیوں اور سماجی تنظیمیں بھی بل کی زبردست مخالفت کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *