شہریت ترمیمی بل مشکل میں

Share Article
NRC-in-Assam
شہری ترمیمی بل 2016مشکل میں آگیاہے۔عیاں رہے کہ اس ترمیمی بل کی آئندہ شروع ہونے والے سرمائی اجلاس کے آخرمیں مدت ختم ہورہی ہے۔اس تعلق سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ راجندر اگروال کی سربراہی والی 30رکنی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی 27نومبر کونئی دہلی میں ہوئی میٹنگ میں 17غیربی جے پی ارکان نے بھی شرکت کی۔مذکورہ کمیٹی نے ترمیمی بل کے تمام شعبوں پرتفصیل سے غوروخوض کیا۔
میٹنگ کے دوران مجوزہ بل میں کل 18ترمیمات کی تجاویزپیش کی گئیں۔ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ سوگتارائے اورکانگریس رکن پارلیمنٹ سشمیتادیو نے مذکورہ بل میں مخصوص 6مذہب اور3ممالک کی شرط ہٹانے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ اس کے بجائے بل میں صاف اورواضح الفاظ میں یہ کہاجانا چاہئے کہ کوئی بھی شخص جسے مذہبی ، لسانی اورعلاقائی تفریق کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑنا پڑتاہے، وہ ترمیم شدہ بل کی روسے ہندوستانی شہریت کا اہل ہوگا۔
علاوہ ازیں بی جے پی رکن پالیمنٹ میناکشی لیکھی نے خواہش کی کہ تین ممالک بنگلہ دیش، پاکستان اورافغانستان میں اکثریتی مسلمانوں کوچھوڑکر پریشان حال اورستائی گئی 6اقلیتی مذہبی کمیونٹیوں کے افراد کے خلاف شہریت کیلئے قانونی کارروائیوں کی لازمیت کوختم کردینا چاہئے ۔لیکھی کی تجویزکومان لینے کا مطلب یہ ہوا کہ آسام کے ڈبیٹنشن سینٹروں میں بند بنگلہ دیشی ہندوؤں کو فوری طورپر راحت مل جائے گی اوران کے خلاف ملک سے باہربھیجنے کی کارروائی رک جائے اورتب وہ غیرقانونی غیرملکی نہیں کہلائیں گے۔
مذکورہ بل مرکزمیں برسراقتدار بی جے پی نے 2014کے عام انتخابات کے موقع پر جاری انتخابی منشور میں مذکورہ بالا تین ممالک میں 6اقلیتی مذہبی کمیونٹیوں کے افراد کوہندوستانی دینے کے تعلق سے وعدہ کیا تھا جن میں ہندو، چینی ، سکھ ، پارسی، عیسائی اوردھسٹ کمیونٹیوں کے افراد شامل تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *