کول انڈیا لمیٹڈجو کہ ملک کی کل کوئلہ پیداوار کی تقریباً80فیصد پیداوار کرتی ہے، کا اگلا سربراہ کون ہوگا؟ اس کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ اس کے سربراہ پارتھ ایس بھٹاچاریہ کی جگہ کون لے گا، یہ طے ہونا ابھی باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت کوئلہ نے پی ایس ای بی کو سلیکشن کمیٹی بنانے اور تقرری کا عمل شروع کرنے کی صلاح دی ہے۔ پی ایس ای بی نے بھی دو لوگوں ڈی سی گرگ اور ٹی کے لاہری کا نام پیش کیا ہے، لیکن وجیلنس کمیشن نے اس پر اپنا اتفاق ظاہر نہیں کیا۔ اب نئے لوگوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ وزارت کوئلہ کے جوائنٹ سکریٹری اجے بھلا کا کہنا ہے کہ تقرری کا عمل ایک مہینہ کے اندر شروع کر دیا جائے گا۔ دراصل، کوئی بھی وزارت کسی سینئر افسر کی تقرری میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتی ، کیونکہ وہ کسی تنازعہ میں پھنسنا نہیں چاہتی ہے۔ سبھی محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔g
بابوئوں کی پریشانی
ضابطہ کے مطابق سول سروس کا کوئی بھی آفیسر ریٹائرمنٹ کے ایک سال تک پبلک سیکٹر کی کسی کمپنی میں نوکری نہیں کر سکتا ہے، لیکن یو پی اے حکومت کی پہلی مدت کار میں اس ضابطہ پر شاید ہی عمل کیا گیا تھا۔ آرٹی آئی سے ملی جانکاری کے مطابق 2010میں25افسران میں سے صرف ایک آفیسر کو ہی اس کے لیے اجازت نہیں دی گئی ، لیکن اس بار حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ اس ضابطہ پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، این ایچ اے آئی کے ایک آفیسر نے ریٹائرمنٹ کے بعد جب لرسین اینڈ ٹربو کمپنی میں کام کرنے کے لیے وزارت سے اجازت مانگی تو انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ غور طلب ہے کہ بڑے افسران ریٹائرمنٹ کے بعد کمپنی میں مقرر ہوتے ہیں اور اپنی ساکھ کا استعمال وزارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر نارائن سامی نے تو ایک سال کی مدت کو دوگنا کرنے کی تجویز رکھی ہے۔g
اضافی چارج اور بابو
وزیر ا عظم کے غیر ملکی دورہ کے سبب بہت سے محکموں میں سکریٹری سطح کے افسران کی تقرری نہیں ہو پا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے غیر ملکی دورہ سے واپسی کے بعد بھی کئی اہم محکمے اور وزارتوں میں سکریٹری سطح کے افسران کی تقرری نہیں ہو پائی ہے اور ان کے لیے عارضی بندوبست کیا گیا ہے۔ حکومت نے کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل محکمہ کے سربراہ کے جوسے کو تین مہینے کے لیے فرماسیوٹیکل محکمہ کا اضافی چارج دے دیا ہے۔اس کے علاوہ محکمہ شہری ہوا بازی کے سکریٹری ایس این زیدی کو اوورسیز انڈین افیئرس منسٹری کے سکریٹری کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ یا تو حکومت یہ سمجھتی ہے کہ یہ محکمے اتنے اہم نہیں ہیں کہ مستقل سکریٹری کی تقرری کی جائے یا پھر اسے یہ لگتا ہے کہ اضافی چارج والے افسران بھی اسی طرح کام کر سکتے ہیں جس طرح کا کام مستقل سکریٹری کر سکتا ہے۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here