چدمبرم اور آر بی آئی نے ملک کو دھوکہ دیا

Share Article

ششی شیکھر
ہزاروں کروڑ کا تیلگی اسٹامپ پیپر گھوٹالہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اسٹامپ پیپرکی چھپائی کے حفاظتی انتظامات کے تعلق سے سرکاری مشینری کتنی لاپرواہ تھی۔ تیلگی کے ذریعہ چھاپے گئے اسٹامپ پیپر نقلی تھے، اس کی شناخت کرپانے میں برسوں لگ گئے۔ اب پارلیمنٹ کی ہی ایک کمیٹی نے ہندوستانی نوٹوں کی چھپائی کے تعلق سے جو باتیں کہی ہیں وہ خاصی تشویشناک ہیں۔ کشور چندر ایس دیو کی صدارت میں لوک سبھا کی سرکاری تنصیب سے متعلق کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 1997-98کے دوران ہندوستان نے ایک لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کے برابر ہندوستانی نوٹوں کی چھپائی بیرونی ممالک میں کرائی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ایک لاکھ کروڑ روپے کے یہ نوٹ امریکہ،جرمنی اور انگلینڈمیں چھپوائے گئے تھے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں صاف صاف کہا ہے کہ ہندوستانی نوٹوں کی چھپائی کا معاملہ ایک طرح سے ہندوستان کی اقتصادی عظمت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ کمیٹی کا یہ ماننا ہے کہ جن غیر ملکی ایجنسیوں نے نوٹوں کو چھاپا ہے، وہ اگر چاہتیں تو زیادہ تعداد میں ہندوستانی نوٹوں کو چھاپ سکتی تھیں، جس سے ہندوستانی اقتصادیات کو ایک بہت بڑا خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ اگرچہ یہ باتیں بظاہر عجیب سی معلوم ہو رہی ہیں، لیکن اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ مذکورہ ایجنسیوں نے زیادہ تعداد میں ہندوستانی نوٹوں کونہیں چھاپا ہوگا یا ترقی یافتہ ممالک کی ان ایجنسیوں نے ہندوستانی نوٹ چھاپنے کی تکنیک کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد استعمال نہیں کیا ہوگا۔غور طلب ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے چند ایسے ہی سوالات آربی آئی کے سامنے بھی اٹھائے تھے۔تشویش اور شک پیداکرنے والی بات یہ ہے کہ آربی آئی اپنے جواب سے کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بہر حال اس پورے معاملے میں جتنی ذمہ داری آربی آئی کی ہے اتنی ہی ذمہ داری یوپی اے کی حکومت میں وزیر داخلہ مسٹر پی چدمبرم کی بھی ہے۔کیونکہ موجودہ وزیر داخلہ چدمبرم اندرکمار گجرال کی حکومت(1997-98) کے دوران وزیر مالیات ہوا کرتے تھے۔ چدمبرم کے وزیر مالیات رہتے ہوئے ایک لاکھ کروڑ روپے کی قیمت کے برابر کے100 اور500 روپے کے نوٹ برطانیہ، امریکہ اور جرمنی کی کمپنیوں میں چھپوائے گئے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیر مالیات نے اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے پارلیمنٹ کو اس کے بارے میں مطلع کیا یا اس کی رائے لی گئی۔ ظاہر ہے ایسا نہیں کیا گیا، کیونکہ ایسا کیا گیا ہوتا تو ملک کے عوام کو اس حوالے سے اطلاع ہوتی۔ آخر کیوں 13سال بعد اس کے بارے میں معلومات منظرعام پر آئیں، وہ بھی ایک پارلیمانی جانچ رپورٹ کے ذریعہ۔وی کشور چندر دیو کی صدارت والی کمیٹی نے جب ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی) سے بیرونی ممالک میں نوٹ چھپوانے کی وجہ جاننی چاہی تواس پر آربی آئی کا جواب تھا کہ اس وقت اس کی مختلف شاخوں کو جتنے نوٹوں کی ضرورت تھی، انڈین ٹکسال ان کی سپلائی کرنے کا اہل نہیں تھا۔ اس کے علاوہ، پھٹے پرانے نوٹوں کی تعداد بھی زیادہ ہوگئی تھی اور آربی آئی کو جلد سے جلد نئے نوٹ چاہئے تھے۔
اعدادوشمار کے مطابق 1996-97کے دوران آربی آئی کو 3 لاکھ 35ہزار 900کروڑ روپے کی قیمت کے برابر نوٹوں کی ضرورت تھی، جب کہ اس وقت کل پروڈکشن(چھپائی) صرف 2لاکھ 16ہزار 5 سو75کروڑ روپے کی قیمت کے برابر ہی تھی۔اس طرح آربی آئی کو ایک لاکھ 20ہزار کروڑ روپے کی قیمت کے برابر نوٹوں کی ضرورت تھی ۔ یہی وجہ بتا کر آربی آئی اور اس وقت کے وزیر مالیات نے غیر ملکی ایجنسیوں سے ہندوستانی نوٹ چھپوانے کا فیصلہ لیا تھا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزیر مالیات اور آربی آئی نے اپنے اس فیصلے کے بارے میں پارلیمنٹ کو مطلع کیا تھا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا انہیں اپنے ملک کے ٹکسال پر بھروسہ نہیں تھا؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ مذکورہ کمپنیوں پر کس بنیاد پر بھروسہ کیا گیا؟ کیا ان کمپنیوں نے ہندوستانی نوٹوں کا غلط استعمال نہیں کیا ہوگا؟ یا اب نہیں کررہی ہوںگی؟ اس کی گارنٹی کیا آربی آئی اور چدمبرم(تب کے وزیر مالیات) دے سکتے ہیں، کیونکہ کمیٹی نے جب آربی آئی سے بیرونی ممالک میں نوٹ کی چھپائی کے دوران اختیار کی گئیں حفاظتی تدابیر کے بارے میں دریافت کیا تو آربی آئی کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا۔ آربی آئی کے تحریری جواب کے مطابق نوٹ کی چھپائی میں اپنائے گئے خصوصی حفاظتی انتظامات کی نگرانی چھپائی سے پہلے اور معاہدہ ختم ہونے کے بعد کی ذمہ داری چھپائی کرنے والی کمپنی کی تھی۔ اس کے علاوہ نوٹ چھاپنے کے لیے ضروری پلیٹس تیار کرنے کی ذمہ داری بھی کمپنی کی ہی تھی۔ اتنا ہی نہیں فوٹو پرنٹ، ڈائی، نمبرنگ باکس وغیرہ کے تحفظ کی ذمہ داری بھی مذکورہ کمپنیوں پر تھی۔ ظاہر ہے، جس کمپنی کے پاس نوٹ چھپائی کے بارے میں اتنی معلومات ہیں، وہ اگر چاہے تو کبھی بھی اس کا ناجائز فائدہ اٹھاسکتی ہے۔ ایک ہی نمبر کے کئی لاکھ نوٹ چھاپ سکتی ہے۔ پلیٹس یا ڈائی کا استعمال بعد میں کر سکتی ہے۔ کیا یہ سب دیکھنے یا جانچنے کی کوشش کبھی آر بی آئی یا حکومت ہند نے کی؟
ایسے میں اگر لوک سبھا کی کمیٹی یہ خدشہ ظاہر کر رہی ہے کہ آر بی آئی کا یہ فیصلہ ملک کی اقتصادی بادشاہت کو خطرے میں ڈالنے کے برابر تھا، تو اسے بے بنیاد نہیں مانا جاسکتا۔ آزادی کے 50سالوں کے اندر کبھی بیرونی ممالک میں نوٹ نہیں چھپوائے گئے تو 1997میں اچانک ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ غیرملکی کمپنیوں سے نوٹ چھپوانے کا فیصلہ لینا پڑا۔ کیا ملک کے ٹکسال نوٹ چھاپنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اگر نہیں تو انہیں اس قابل بنانے کی بجائے غیرممالک سے نوٹ کیوں چھپوائے گئے؟ کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ جن کمپنیوں سے نوٹ چھپائی کا معاہدہ تھا اس میں اس بات کی وضاحت تھی کہ چھپائی کے بعد نوٹ پلیٹس، بچی ہوئی سیاہی کو ضائع کرنا ہوگا۔ اب ان کمپنیوں نے ایسا کیا یا نہیں، یہ واضح نہیں ہے۔ ساتھ ہی آر بی آئی بھی اس بات کی گارنٹی نہیں دے رہا ہے کہ مذکورہ کمپنیوں نے معاہدہ پر عمل کیا ہے۔ اسی کمیٹی نے ہندوستان میں نقلی نوٹوں کے بارے میں کہا ہے کہ ابھی ملک میں تقریباً ایک لاکھ 69ہزار کروڑ روپے کے جعلی نوٹ بازار میں ہیں اور جب کمیٹی نے اس بارے میں آر بی آئی سے پوچھا کہ کیا آربی آئی نے ملک میں جعلی نوٹوں کے بارے میں کوئی تجزیہ کیا ہے تو آر بی آئی کا واضح جواب تھا کہ ان کی جانب سے ایسا کوئی تجزیہ نہیں کیا گیا ہے۔
بہرحال سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس پورے معاملہ میں خاموش ہے۔ یہ معاملہ ملک کے اقتصادی نظام سے منسلک ہے۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو دھوکہ میں رکھنے کا بھی ہے۔ اس وقت کے وزیر مالیات آج وزیر داخلہ ہیں۔ انہیں تو سب کچھ معلوم ہے۔ پھر وہ کیوں چپ ہیں؟ کیوں نہیں اس پورے معاملے کی جانچ کرائی جارہی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *