چھتیس گڑھ: وہاٹس ایپ جاسوسی کیس، وزیر اعلی نے دیا جانچ کا حکم

Share Article

وہاٹس ایپ جاسوسی کیس معاملے میں اب چھتیس گڑھ میں بھی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ یہاں پانچ لوگوں کی جاسوسی کی بات سامنے آنے کے بعد پیر کو وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے اس معاملے میں تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سی ایم بگھیل کی ہدایت پر تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی کا قیام بھی کر دیا گیا ہے۔ تین رکنی کمیٹی ایک ماہ میں انکوائری رپورٹ حکومت کو سونپے گی۔ اس کے بعد آگے کی کارروائی طے کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ بھارت سمیت کئی جگہوں پر اسرائیل کی ایک کمپنی کی طرف سے حال ہی میں جاسوسی کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ جس کے بعد حکومت ہند نے وہاٹس ایپ کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ اسی درمیان چھتیس گڑھ میں بھی بہت سے لوگوں کے موبائل فون کی جاسوسی وہاٹس ایپ ہیک کر کئے جانے کا الزام سامنے آیا۔ جس میں ابھی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے اسے لے کر ایک ٹویٹ بھی کیا۔ انہوں نے لکھا ہے، جاسوسی کرنا جاسوسوں کا کام ہے، وہ ایسا رہیں گے۔

شہریوں کی رازداری کو محفوظ رکھنا میری ذمہ داری ہے، میں نے بھی اسے کرتا ہی رہوں گا۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے اس معاملے پر ٹویٹ کرکے لکھا تھا کہ جاسوسی کا کام ملک میں ہزاروں سالوں سے چلتی آرہی ہے۔ ملی معلومات کے مطابق چھتیس گڑھ میں پانچ افراد کے وہاٹس ایپ ہیک کر فون کی جاسوسی کرنے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ ان میں سماجی کارکن بیلا بھاٹیہ، آلوک شکلا، شالنی گیرا، ایڈووکیٹ ڈگری چوہان اور صحافی شبھرانشو چودھری کے نام سامنے آئے ہیں۔

بتاتے چلیں کہ مئی اور جون 2019 میں ان کے فون کی جاسوسی کئے جانے کی معلومات وہاٹس ایپ کے ذریعے ہی انہیں ملی۔ اگرچہ ان کے الزامات کتنے صحیح ہیں، یہ اب جانچ کے بعد ہی معلوم چلے گا۔ہندوستھان سماچار کو ملی معلومات کے مطابق، اسرائیل کی جس این ایس او سافٹ ویئر کمپنی پر وہاٹس ایپ ہیک کرنے کا الزام لگا ہے، وہ کمپنی تقریبا تین سال پہلے رائے پور میں حکومت کی طرف سے کچھ پری زنٹیشن دینے آئی تھی۔ وزیر اعلی بھوپیش بگھیل کو بھیجی گئی شکایت میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہیک کیس اس واقعہ سے کوئی لنک ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لئے ریاست کے سربراہ داخلہ سکریٹری سبرت ساہو کی قیادت میں ٹیم بنائی گئی ہے ۔ اس میں رائے پور پولیس کے آئی جی آنند جھابڑا اور تعلقات عامہ محکمہ کے افسر تارن پرکاش سنہا شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *