شیو کمار
آر ایس ایس کے بطن سے پیدا شدہ دونوں بھارتیہ جن سنگھ اور بی جے پی، آر ایس ایس کے قومی منصوبوں کو پورا کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوپائیں۔ بھارتیہ جن سنگھ جہاں قلیل مدت میں ہی غائب ہوگیا، وہیں بی جے پی کی چال چلن اور چہرہ کے اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس کاری ہوگئی، ایسے میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت تنظیم میں نئے انداز میں روح پھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
بی جے پی میں گاندھی وادی سماج واد سے رام راج کا تصور لے کرضابطے اور نظریے وضع کئے گئے، لیکن آرایس ایس سے بی جے پی میں پہنچے سویم سیوکوں کی ناکامی کے تعلق سے بھاگوت کافی فکرمند ہیں۔ سویم سیوک موہن بھاگوت میں کیشو ہیڈگیوار کی شبیہ دیکھ رہے ہیں۔ سخت ڈسپلن اور اصولوں کے حامی بھاگوت کی سانسوں میں آرایس ایس بچپن سے ہی رچابسا ہوا ہے۔ہندوتو کے تعلق سے ان کے دل میں کسی طرح کا اگر مگر اور لیکن ویکن نہیں ہے، انہوں نے آر ایس ایس کی باگ ڈور سنبھالتے ہی بی جے پی کے اصول ونظریات کو پوری طرح آر ایس ایس کے سانچے میں ڈھالنے شروع کردیے ہیں۔
دلّی میں بی جے پی میں برتری کی جنگ جاری ہے۔عوام کے ذریعہ مرکز سے بے دخل کی جاچکی اور اپنے آپ کو ڈسپلنڈ اور سب سے الگ ماننے والی بی جے پی میں اقتدار کی آگ لگی ہوئی ہے۔ اسے زندگی عطاکرنے والا اور اپنے آپ کو سیاست سے دور سمجھنے والا آر ایس ایس بھی اس تعلق سے فکر مند ہے۔
چھتیس گڑھ کی آر ایس ایس قیادت بھی ریاستی حکومت کی کارگزاری سے بددل اور غم زدہ ہے، لیکن چند بارسوخ لوگوں کے اقتدار میں موثر رول کی وجہ سے اس کی ایماندار قیادت پریشان اور فکر مند ہے۔سیاسی پاکیزگی اور انفرادی طور پر ایمانداری اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار آر ایس ایس کا ایک طبقہ ابھی تک خاموش ہے، لیکن دوسرا بارسوخ طبقہ اقتدار کی چاشنی میں لپٹ کر سیدھے سادے اور ایماندار وزیر اعلیٰ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاکر انہیں گمراہ کرچکا ہے۔ چھتیس گڑھ کی فضاؤں میں ایسی آوازیں بھی گونج رہی ہیں، جس سے لوگوں کو لگنے لگا ہے کہ بی جے پی کا اقتدار ، آرایس ایس کی ایماندار قیادت کو کنارے کرچکا ہے۔آر ایس ایس کے کارکن مایوسی کا شکارہیں، آر ایس ایس میں وہ عناصر حاوی ہوچکے ہیں جو اقتدارکی آغوش میںمست ہوکر قومی جواب دہی کو کنارے کرچکے ہیں۔
ریاست میں برسراقتدار بی جے پی سے عوام کی امیدیں 6سال میں ہی دم توڑنے لگی ہیں۔دلی سے رائے پور تک لوگ ڈاکٹر رمن سنگھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر پرموشن کی وجوہات کو تلاش کررہے ہیں ۔ریاستی بی جے پی کے کئی سورما آپسی تذکروں میں بدعنوانی کا گڑھ بنتے جارہے چھتیس گڑھ کے تعلق سے فکر مندی کا اظہار کررہے ہیں۔
بی جے پی کے ایماندار لیڈر پارٹی میں گرفت بناچکے ان منافع خوروں ، دلالوں اور اقتدار کے توسط سے اقتصادی منافع حاصل کرنے والے لوگوں کا اب تذکرہ کررہے ہیں جو آر ایس ایس  کے کچھ بارسوخ لوگوں کو اپنے حق میں کرکے بھر پور فائدہ اٹھارہے ہیں اور حکمرانی کے مزے لے رہے ہیں۔
سیدھے سادے رمن سنگھ کے دور اقتدار میں انتظامی جواب دہی اور انتظامی حساسیت پر سوال کھڑے ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ کبھی ایماندار، سیدھے اور اچھے سمجھے جانے والے صوبے میں بدعنوانی تیزی سے پھیلی اور اب وہ اس کا گڑھ بنتا جارہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اجیت جوگی کے اقتدار میں ریاست کا بجٹ 100کروڑ کے آس پاس ہوا کرتا تھا، جو اب 22ہزارکروڑ سالانہ سے زیادہ ہوچکا ہے۔ بدعنوانی کے لئے پوری ریاست میں زبردست ترقی کے تانے بانے بنے گئے۔ حالانکہ ترقیاتی کاموں کی پول دو تین مہینوں کے اندرہی کھل گئی۔ ریاست کے کسانوں کے نام پر بنائی گئی پالیسیوں اور اسکیموں سے لے کر جوانوں کی سہولتوں کے نام پر کروڑوں روپے ہضم کر لئے گئے ۔ انہیں ہضم کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو آر ایس ایس اور بی جے پی کے ذریعہ وزیروں سے لے کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک مقرر کئے گئے ہیں۔
ریاست میں جب بی جے پی اقتدار سے بے دخل ہوئی تو تجربہ کار اور ایماندار سینئر کارکنوں نے ایک اسکیم بنائی ۔ انہو ںنے کچھ ایماندار سویم سیوکوں کو وزیر اعلیٰ اور وزراء کے معاون کے طور پر مقرر کرنے کی اسکیم وضع کی تاکہ شفاف اور ایماندار انتظامیہ میں وہ اپنا موثر رول ادا کرسکیں، لیکن یہیں پر چوک ہوگئی۔ اس اسکیم کا حصہ بن کر اور آرایس ایس و بی جے پی میں اپنی مضبوط گرفت کا استعمال کرکے وہ لوگ ان عہدوں پر فائز ہوگئے جو آج دلالوں کا کردار بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔
آر ایس ایس کے نام پر وصولی مہم: بی جے پی سے جڑی سوریہ فاؤنڈیشن نام کی ایک تنظیم جو اپنے آپ کو سماجی خدمات اور جواب دہی سے منسلک مانتی ہے، اس کی شبیہ پارٹی میں ان خدمات کے لئے تیزی سے ابھری ہے۔ یہ تنظیم سیاسی اور انتظامی شعبہ کے مینجمنٹ کی تربیت دے کر کارکنوں کو ریاست کے برسراقتدار اشخاص کے معاونین کے طور پرتقرر کروانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ تنظیم لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی اقتصادی طور پرمدد بھی کرتی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس ادارے کے مالک کے ایک بھائی کی صنعت ریاست میں ہی قائم ہے اور کئی بار اس کے تذکرے بھی منظر عام پرآئے ہیں۔
مذکورہ تنظیم کا مالک یا ڈائریکٹر جے پرکاش اگروال ہے۔ یہ تنظیم کے ذریعہ تربیت یافتہ کارکنوں کی تقرری وزیروں کے یہاں کرواتے ہیں۔ اس کام میں ان کے معاون کے طور پر بی جے پی کے قومی سطح کا ایک عہدیدارہے، جس کا ریاستی انتظامیہ اور اقتدار میں بااثر رول ہے، اور وہ’ سپر سی ایم ‘کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
تنظیم کے ذریعہ تربیت یافتہ کارکن آرایس ایس کے تعاون سے ریاستی بی جے پی کے اقتدار کے قیام کے بعد وصولی میں مصروف ہوگئے ہیں۔ وہ آر ایس ایس کے پروگراموں کے نام پر وصولی کرتے ہیں۔آرایس ایس کے ایک سینئر عہدیدار کا بیٹا بھی بی جے پی کی سیاست میں اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرکے پیسہ کمانے میں مصروف ہے۔ ابھی حال ہی کی بات ہے کہ اس شخص کو روپے لیتے ہوئے ایک صحافی نے اپنے موبائل کیمرے میں قید کرلیا ۔
چھتیس گڑھ سے تعلق نہیں : دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایسے کارکنوں یا پھر آرایس ایس سے جڑے کارکنوں کا چھتیس گڑھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ودیشا گنا علاقے کے ٹھوکنے اور دویدی جیسے لوگ ریاستی بی جے پی کے اقتدار کی چاشنی میں لپٹے ہوئے ہیں۔اسی طرح سودان سنگھ کے کہنے پر نلنیش کو وزیر رام وچار نیتام کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ اتراکھنڈ کے چندر موہن بی جے پی کے وزیر ہیں۔سری سنگھ کی سفارش پر روہت دویدی ،جو ہوشنگ آباد (مدھیہ پردیش) کے ہیں، ایک وزیر کے یہاں مقرر کئے گئے ،جن کے بارے میں شکایت کی گئی ہے کہ وہ نوکری دلانے کے نام پر پیسے وصول کرتے ہیں۔ بہار کے جے رام داس بی جے پی کے میگزین’ دیپ کمل‘ میں ایڈیٹر ہیں۔اسی طرح وزیر امر اگروال کے معاون کے طور پر خدمات انجام دے چکے شیام تانڈی اور درگیش بھی بہت مشہور رہے ہیں۔ سری تانڈی کے لئے تو دھرم پردھان جیسے ریاستی بی جے پی سکریٹری کا بھی دباؤ رہا۔ انہوں نے روپے کی وصولی کے مختلف معاملات میں شہرت حاصل کی۔ وزیر ننکی رام کنور نے تو روہت کے خلاف باقاعدہ شکایت بھی درج کرائی تھی۔اسی طرح ستنا کے گورو سنگھ دلی میں چھتیس گڑھ کے کاموں کے لئے سودے بازی کرتے سنے گئے ہیں۔ اسی فہرست میں راجندر اپادھیائے، آکاش، سشیل سنگھ جیسے کئی نام ہیں۔ آر ایس ایس کی تقریباً 35تنظیمیں ریاست میں بہت ہی موثر انداز میں متحرک ہیں اور اس کے کئی کارکن پروگراموں کے نام پر رقم اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں۔ ان میں کئی لوگ جو وزیروںکی مدد کے لئے رکھے گئے تھے یا ہیں، آج وزیروں کی ہی سی ڈی بناکر پروگرام اور افسروں کے نام پر دولت جمع کررہے ہیں۔
آر ایس ایس کی شاخوں میں سویم سیوکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ سوریہ فاؤنڈیشن کے شخصیت کا ارتقا کیمپ میں تربیت یافتگان کی فہرست بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بھیجی گئی، جن میں سب سے زیادہ چھتیس گڑھ کے اقتدار اور بی جے پی کی جوری میں شامل ہوئے، لیکن ان کی طرز عمل سے آرایس ایس رسوا ہوا اور وزیر پریشان ہوئے۔ دو درجن سے زیادہ ایسے لوگ چھتیس گڑھ کے اقتدار میں مختلف طریقوں سے شامل کئے گئے ہیں ۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا وہ صحیح طریقے سے کام کررہے ہیں؟ یا پھر دلالی یا اقتصادی سودوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اور رکن اسمبلی ان کے سامنے بے بس اور مجبور کیوں بنے ہوئے ہیں؟ یہ تربیت یافتہ لوگ انتظامیہ اور نظم ونسق کی بہتری کے لئے کیا کررہے ہیں؟ آخر ریاست میں بڑے اقتصادی گھوٹالے کیوں ہورہے ہیں ؟کیوں آر ایس ایس کے ایک سینئر عہدیدار کے ذریعہ وزیر اعلیٰ سے جائز شکایتیں کرنے پر اسے ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ آخر بی جے پی اور آر ایس ایس کے برسوں سے محنتی اور ایماندار کارکنوں کو پارٹی کے اقتدار میں حصہ کیوں نہیں مل رہا ہے؟ بی جے پی کی بربادی اور اقتصادی کمزوری کے ذمہ دار انہیں ڈسپلن کے نام پر خاموش کیوں کرادیتے ہیں؟ ایسے قابل کارکنوں کو ہی ایمانداری اور محنت کا سبق کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ اگر ان سوالوں کے جواب نہیں تلاش کئے گئے تو مستقبل میں پارٹی اور آر ایس ایس کے کرتا اور دھرتا کو جواب دینا مشکل ہوجائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here