وسیم راشد 
چوتھی دنیا کی ایک اور مہم کامیاب ہوگئی۔جی ہاں جس طرح بے شمار گھوٹالوں کا پردہ سب سے پہلے ’چوتھی دنیا‘ نے فاش کیا تھا ۔اسی طرح’ رائٹ ٹو رجیکٹ‘ اور ’ رائٹ ٹو ری کال ‘ کے بارے میں بھی ’چوتھی دنیا‘ نے ہی سب سے پہلے اظہار خیال کیا تھا۔بارہا ہم نے اپنے اخبار کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی کہ ’رائٹ ٹو رجیکٹ ‘ اور ’ رائٹ ٹو ری کال‘ کے بغیر یہ جمہوریت ادھوری ہے اور اب جب سپریم کورٹ نے یہ اعلان کردیا ہے کہ رائٹ ٹو رجیکٹ کا حق آنے والی لوک سبھا الیکشن میں دیا جائے گا تو ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی عدالت پر عوام کا بھروسہ بڑھ گیا ہے۔
’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ کا مطلب ہے انتخاب میں امیدواروں کومسترد کرنے کا اختیار اور ’رائٹ ٹو ری کال ‘ کا مطلب ہے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو واپس بلانے کا اختیار۔ ان دونوں رائٹس کا سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ٹرم یا بات اتنی مشہور ہوجاتی ہے کہ ہم پوری طرح اس کا مطلب بھی نہیں سمجھتے اور بس اس کے حق میں یا مخالفت میں بول جاتے ہیں۔ ’رائٹ ٹو ری کال ‘ میں اگر کوئی ممبر اسمبلی یا ممبران پارلیمنٹ جس کو آپ نے اپنے حلقہ سے اپنے علاقہ سے چنا ہو اور وہ عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر پایا ہو یا پھر بد عنوانی میں ملوث ہو تو عوام کو اختیار ہے کہ وہ اپنے ایم پی یا ایم ایل اے کو اس حق کے تحت واپس بلا سکتا ہے۔ دنیا میں ایسے کئی ملک ہیں جہاں ’رائٹ ٹو ری کال‘ کا پورا حق عوام کو حاصل ہے۔امریکہ کے کئی صوبوں میں ایسا حق دیا گیا ہے۔ہندوستان میں جے پرکاش نارائن جی نے سب سے پہلے ’رائٹ ٹو ری کال‘ کی مانگ کی تھی۔
’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ جس کا تاریخ ساز فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا ہے ،یہ وہ رائٹ ہے جس سے عوام ہر وقت اپنے حق کا استعمال ووٹ دیتے وقت کرسکتے ہیں۔اگر کسی بھی علاقہ کے لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے پاس جو فہرست ہے ،اس میں کوئی بھی نام اس قابل نہیں ہے یا نااہل ہے تو ای وی ایم مشین میں لگے اسی بٹن کا استعمال کرسکتے ہیں جو رائٹ تو رجیکٹ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔کئی بار الیکشن میں ہم نے ووٹ ڈالتے ہوئے لوگوں سے سنا ہے کہ کس کو ووٹ دیں،ان میں سے کوئی اس قابل نہیں ،سب چور ہیں ،سب بد عنوان ہیں،سب کرپٹ ہیں۔یہاں تک کہ خواتین تک کو میں نے سنا ہے یہ کہتے ہوئے، ارے ہمارے لئے تو سب ایک جیسے ہیں ،سارے چور ہیں،ہمارا خون پی رہے ہیں،مہنگائی سے ہم جوجھ رہے ہیں ،یہ تو فائیو اسٹار ہوٹلوں میں مزے کرتے ہیں۔اب ایسے میں آپ مجبوری میں کسی کو بھی ووٹ نہ دیں بلکہ آپ ان کو رجیکٹ کردیں۔ووٹ ہمارا آئینی حق ہے اور ووٹ دینے سے آپ جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو بھی نمائندہ آپ کے ووٹ سے چن کر اسمبلی یا پارلیمنٹ میں جاتا ہے وہ اچھا ہے یا برا ،یہ فیصلہ آپ نے ہی کیا ہوتا ہے۔ آپ اگر اس کو چن کر نہ بھیجیں تو وہ آگے کہیں مزید بد عنوانی کا حصہ نہ بنے ۔اسی لئے سپریم کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلہ پر اطمینان کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے آنے والے اسمبلی الیکشن سے ہی اسے لاگو کرنے کو کہا ہے اور ہدایت جاری کی ہے کہ ووٹنگ مشین میں تبدیلی کرکے ایک ایسا بٹن بھی دیا جائے جو امیدوار کو کسی کو بھی نہ چننے کا حق دے سکے۔
سپریم کورٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسی طرح کے حق سے صاف ستھری شبیہ والے امیدوار ہی انتخاب جیت کر اسمبلی یا لوک سبھا میں جائیںگے۔وہ نہیں جو داغی امیدوار ہیں۔کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ سپریم کورٹ ایک فیصلہ دیتی ہے کہ داغی امیدواروں کو الیکشن لڑنے کا حق نہ دیا جائے اور داغی لیڈروں کی رکنیت خارج کردی جائے اور حکومت اس کے خلاف فیصلہ کرتی ہے اور یہ اعلان کردیتی ہے کہ داغی وزراء کی رکنیت خارج نہیں کی جائیںگی اور پھر کانگریس کے یوراج ہی حکومت کے خلاف بیان دیتے ہیں کہ اس فرمان کو پھاڑ دینا چاہئے اور یہ فرمان پوری طرح بکواس ہے۔
عجیب مذاق بنا دیا ہے اس سرکار نے ملک اور جمہوریت کا۔ایسے میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس لئے بھی قابل تعریف ہے کہ آنے والے پارلیمنٹ اور اسمبلی الیکشن میں جب عوام مہنگائی اور بد عنوانی کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔ایسے میں ان کے قیمتی ووٹ کا حقدار صحیح نمائندہ ہو ،یہ بہت ضروری ہے۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قابل احترام ہے۔ جس میں چیف جسٹس ستھا سوم کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا انحصار پسند نا پسند پر ہے اور ووٹرس کے پاس یہ حق حاصل ہے کہ وہ منفی ووٹنگ کرسکتے ہیں اور یہ نیگیٹیو ووٹنگ سیاسی پارٹیوں کو صاف اور کھلا پیغام دے سکتی ہے کہ ووٹرس ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
دہلی ،مدھیہ پردیش، راجستھان،چھتیس گڑھ اور میزورم جہاں نومبر میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں ۔وہاں کے ووٹرس کو یہ ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ کا اختیار دیا جائے گا۔
ابھی تک ایسا ہوتا تھا کہ اگر کوئی امیدوار پولنگ بوتھ چلا جاتا تھا اور رجسٹر پر دستخط کرکے واپس آجاتا تھا تو ایک تو وہ سیکریٹبیلٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا تھا۔ اس لئے اسے مجبوری میں کسی نہ کسی امیدوار پر مہر لگانی ہی پڑتی تھی اور منفی ووٹوں کا پتہ ہی نہیں چل پاتاتھا۔ایسے میں کچھ سماجی تنظیموں کی طرف سے یہ بھی مانگ کی گئی تھی کہ اگر کسی بھی حلقہ میں 50 فیصد منفی ووٹنگ ہوجاتی ہے تو وہاں دوبارہ الیکشن کرایا جاسکتا ہے۔
انا ہزارے نے’ رائٹ ٹو رجیکٹ‘ اور’ رائٹ ٹو ری کال‘ دونوں کی بہت زیادہ مانگ کی تھی۔ انا ہزارے جی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی امیدوار کسی حلقہ کے عوام کی امیدوں پر کھرا نہیں اترتا تو عوام کو اختیار ہونا چاہئے کہ اسے واپس بھیج دیں یا پھر اگر ووٹ نہ دینا چاہیں تو رجیکٹ کردیں۔ حالانکہ حکومت نے ابھی اس کی مخالفت کی ہے کیونکہ حکومت کا ماننا ہے کہ الیکشن کا مطلب ہی ہے کسی کو چننا نہ کہ اس کو رجیکٹ کردینا اور یہ رجیکٹ کا بٹن ووٹر کو کنفیوز کردے گا۔
یہاں مرکزی سرکار سے یہ جاننے کی خواہش ہوتی ہے کہ ملک کے آئین میں جب کسی بھی قانون کو بنانے اور اس میں ترمیم کرنے کی گنجائش ہے تو پھر عوام کے حق کے لئے کسی قانون میں ترمیم کیوں نہیں۔
سبھاش کیشپ جو ماہر قانون داں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ پہلے بھی یہ حق تھا لیکن اس میں ووٹر کو ایک فارم دیا جاتا تھا اور وہ اس میں کسی کو وو ٹ نہ دینا چاہے تو بھر سکتا تھا لیکن اس سے اس کا نام ظاہر ہوجاتا تھا۔
مایا وتی نے بھی بھیم رائو امبیڈکر کے بارے میں کہا کہ وہ بھی اس کے حق میں تھے۔گرجا ویاس بھی اسی کے حق میں ہیں لیکن وہ ابھی پوری طرح یہ نہیں سمجھ پائیں کہ اس کا استعمال صحیح ہو پائے گا یا نہیں ۔ووٹ دینے کا حق بنیادی حق ہے۔اسے کوئی نہیں چھین سکتا ۔اسی طرح رجیکٹ کرنے کا حق بھی ہمارا ہی ہے ۔ آج جو حالات ہیں مہنگائی ،بے روزگاری، بد عنوانی ، نوجوانوں میں فرسٹریشن،وہ سب اسی وجہ سے ہے کہ جمہوریت سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔حکومت نے غریب عوام کا اتنا پیسہ گھوٹالوں میں لگادیا کہ اب عوام پوری طرح غریبی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایسے میں ’رائٹ ٹو رجیکٹ عوام کے غم و غصہ دکھانے کا ایک ہتھیار ہے۔حالانکہ اس کے نفاذ میں کافی دشواریاں ہوںگی لیکن ہارنے کے ڈرسے نہ کھیلنا یہ بہت بڑی بے وقوفی ہے ۔ہمیں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here