چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات : سب سے اہم ایشو نکسلواد انتخابی ایجنڈے سے غائب

Share Article

شاہد نعیم 

پانچ ریاستوں (دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور میزورم) میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کئی مہینے پہلے سے سیاسی سرگرمیاں تیز چل رہی تھیں، لیکن الیکشن کمشنر نے جب گزشتہ دنوں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر کے انتخابی بگل بجایا، تو ان ریاستوں کا سیاسی پارہ اچانک ہی تیزی سے اوپر چڑھ گیا۔ ان ریاستوں میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے ساتھ دیگر سیاسی پارٹیاں پورے جوش و خروش کے ساتھ انتخابی میدان میں اترگئی ہیں اوراپنی اپنی ریاست پر قبضہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چھتیس گڑھ کے عوام ریاست کی باگ ڈور کس کے ہاتھوں میں سونپتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں اس رپورٹ میں چھتیس گڑھ کے عوامی رجحانات و امکانات ۔

p-9چھتیس گڑھ سینٹرل انڈیا کی ایک ایسی ریاست ہے، جسے ملک کو بجلی اور اسٹیل فراہم کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پورے ملک کا 15فیصد اسٹیل یہیں پر ہی تیار ہوتا ہے۔ یکم نومبر 2000کو مدھیہ پردیش کے جنوب مشرقی اضلاع میں سے چھتیس گڑھی زبان بولنے والے افراد کے 16 علاقوں سے یہ ریاست وجود میں آئی۔ رائے پور اس کی راجدھانی بنی اور کانگریس کے اجیت جوگی کو چھتیس گڑھ کے پہلے وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ اس ریاست میں 27اضلاع ہیں اور اس کی کُل آبادی 25.5ملین نفوس پر مشتمل ہیجبکہ ووٹروں کی کل تعداد 1.67ملین ہے۔ یہاں اسمبلی کی 90سیٹیں ہیں۔
2003میں یہاں اسمبلی انتخابات عمل میں آئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رمن سنگھ اس ریاست کے دوسرے وزیر اعلیٰ بنے۔2008کے اسمبلی انتخابات میں چھتیس گڑھ اسمبلی کی 90سیٹوں میں سے 50سیٹیں جیت کر رمن سنگھ نے اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ اب نومبر 2013میںپھر اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ رمن سنگھ تیسری بار وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے’ شپتھ‘لینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ان کے ساتھی اور پارٹی کارکنان بھی بازی مارنے کے لییجی توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
چھتیس گڑھ ملک کی ایسی ریاست ہے، جہاں نکسل ازم کا بہت زیادہ اثر پایا جاتا ہے۔ یہاں ماؤ نواز وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے ہیں۔ 25مئی2013کو ماؤ نوازوں نے ’دربھا ویلی‘ میں کانگریس کے ’پریورتن یاترا‘ قافلے پرحملہ کیا ، جس میں 28افراد کی موت واقع ہوئی اور 32 زخمی ہوئے۔ اس حملے میں کانگریس کے چھتیس گڑھ کے چیف نند کمار پٹیل، سابق وزیر مہیندر کرما اور کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا سمیت کئی کانگریسی لیڈر اور کارکن ہلاک ہوئے۔ ان کے علاوہ 8پولیس و سی آر پی ایف کے جوان اور 4گاؤں والے بھی ماؤ نوازوں کی بربریت کا شکار ہوئے۔حال ہی میں ماؤ نوازوں نے بستر میں ایک انڈین فورس کے ہیلی کاپٹر پر حملہ کر کے ایک فوجی آفیسر کو ہلاک کر دیا۔

چھتیس گڑھ ملک کی ایسی ریاست ہے، جہاں نکسل ازم کا بہت زیادہ اثر پایا جاتا ہے۔ یہاں ماؤ نواز وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے ہیں۔ 25مئی2013کو ماؤ نوازوں نے ’دربھا ویلی‘ میں کانگریس کے ’پریورتن یاترا‘ قافلے پرحملہ کیا ، جس میں 28افراد کی موت واقع ہوئی اور 32 زخمی ہوئے۔ اس حملے میں کانگریس کے چھتیس گڑھ کے چیف نند کمار پٹیل، سابق وزیر مہیندر کرما اور کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا سمیت کئی کانگریسی لیڈر اور کارکن ہلاک ہوئے۔ ان کے علاوہ 8پولیس و سی آر پی ایف کے جوان اور 4گاؤں والے بھی ماؤ نوازوں کی بربریت کا شکار ہوئے۔حال ہی میں ماؤ نوازوں نے بستر میں ایک انڈین فورس کے ہیلی کاپٹر پر حملہ کر کے ایک فوجی آفیسر کو ہلاک کر دیا۔  تعجب کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات ہونے کے باوجود کسی بھی سیاسی پارٹی نے ماؤنوازوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی پارٹی نے نکسل ازم کے مسئلے کو انتخابی ایشو بنایا۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات ہونے کے باوجود کسی بھی سیاسی پارٹی نے ماؤنوازوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی پارٹی نے نکسل ازم کے مسئلے کو انتخابی ایشو بنایا۔
اسمبلی انتخابات کے تعلق سے جہاں تک کانگریس کا معاملہ ہے، ماؤنوازوںکے حملے میں کانگریسی قیادت کے ایک بڑے حصے کی ہلاکت کے بعد یہاں کانگریس کی حالت کافی پتلی نظر آتی ہے۔ نند کمار پٹیل کی موت کے بعد چھتیس گڑھ کا چیف چرن داس مہنت کو بنایا گیا ہے، لیکن ریاست کے اولین وزیر اعلیٰ اجیت جوگی ہر طرح سے موقع کا فائدہ اٹھانے کی فراق میں ہیں، جس کی وجہ سے کانگریس بری طرح کشمکش میں مبتلا ہے۔ ٹکٹ نہ ملنے کے سبب لیڈران پارٹی سے بغاوت کرنے پر آمادہ ہیںاور ان باغیوں کے پیچھے اجیت جوگی کی حمایت بتائی جا رہی ہے۔
برسر اقتدار بی جے پی مئی کے مہینے تک حکومت کے خلاف فضا بننے کی وجہ سے کافی پیچھے تھی، کیونکہ چھتیس گڑھ کے کانگریسی رہنما آنجہانی نند کمار پٹیل نے کانگریس کے مختلف گروپوں کو متحد کر کے رکھا تھا۔ ان کی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد بھی ریاست میں کانگریس کے تئیں عوام میں ہمدردی تھی، اس دوران رمن سنگھ کی سرکار پر یہ الزام بھی لگا تھا کہ انھوں نے کانگریس کی ’پریورتن یاترا‘کو معقول سیکورٹی نہیں دی ، جس کی وجہ سے ماؤنوازوں نے کانگریسی قافلے پر حملہ کیا اور اس کے کئی رہنما لقمہ اجل بن گئے۔ مگر بی جے پی مخالف یہ لہر زیادہ دنوں تک برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ ایک ماہ بعد ہوئے پنچایتی انتخاب میں اجیت جوگی کے حمایت یافتہ ایک باغی نے کانگریس کے نامزد امیدوار کو بستر میں ہرادیا۔ گویا اجیت جوگی کے باغی تیور بی جے پی کی حمایت کا سبب بنتے گئے۔ اس دوران کانگریس کی جانب سے چھتیس گڑھ میں مارے گئے کانگریسی رہنماؤں کی استھیوں کو لیکر علاقے میں گھوما گیا، تاکہ کانگریس کے حق میں ماحول سازگار ہو، لیکن عوام اس طرح بھی متاثر نہیں ہوئے۔
کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ چھوٹی پارٹیوں میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)، بی ایس پی اور چھتیس گڑھ سوابھیمان منچ بھی اپنے طور پر پوری کوشش کر رہی ہیں کہ 2013 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی موجودگی کا بھر پور مظاہرہ کریں۔
یہ انتخابات ماؤنوازوں کے لیے بھی بہت اہم ہیں۔ وہ الیکشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں، اس کے باوجود ریاستی سیاستدانوں سے ان کی ساز باز ہے۔ ماؤنواز لیڈر پودیام لنگاکو بی جے پی کے معروف لیڈر شو دیال تومر کے قتل کے الزام میں دنتے واڑہ میں گرفتار کرلیا گیا، ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بی جے پی کے لیے بہت کام کیا ہے۔ انھوں نے دنتے واڑہ کے بی جے پی رہنما بھیمامندوی سے قریبی تعلقات ہونے کابھی دعویٰ کیا، حالانکہ مندوی اس بابت انکار کر رہے ہیں۔
بی جے پی کی پوزیشن میں مئی کے بعد کافی بہتری آئی ہے۔ اس دوران رمن سنگھ نے ’ وکاس یاترا‘ کے نام سے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا، جس کے تحت انھوں نے اپنے وزراء اور کارکنان کے ساتھ پوری ریاست کا دورہ کیا۔ اس یاترا کے دوران رمن سنگھ نے عوامی فلاحی بہبود کی متعدد اسکیموں کا اعلان کیا، جبکہ کانگریسی لیڈر بی جے پی کی اس مہم کا مقابلہ کرنے کے بجائے 10 جن پتھ کے ارد گرد کیمپ لگاکر آپسی انتشار کی شکایت کانگریسی اعلیٰ کمان سے کر رہے تھے۔ ظاہر ہے جو پارٹی آپسی انتشار کا شکار ہو، وہ اپنے حریفوںسے بھلاکس طرح مقابلہ کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھتیس گڑھ میں کانگریس کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے، جبکہ بی جے پی اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے برابر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
چھتیس گڑھ میں 98.3فیصد ہندو، 1فیصد مسلم اور 0.7فیصد عیسائی آباد ہیں۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ ریاستی سطح پر پورے ملک میں یہ سب سے زیادہ ہندو آبادی والی ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی پارٹیوں کے ذریعے اقلیتی کارڈ نہیں کھیلا جاتا ہے، یہاں صرف ایشوز کی بات کی جاتی ہے۔ جو پارٹی ترقی کی بساط بچھاتی ہے، بازی بھی وہی مارتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نکسل ازم چھتیس گڑھ کا سب سے اہم مسئلہ ہے، لیکناس مسئلہ کو حل کرنے یااس سے نمٹنے کے لیے کوئی پارٹی آگے نہیں آتی۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جب دربھا ویلی میں کانگریسی قافلے پر ماؤنوازوں نے حملہ کیا، جس میں متعدد کانگریسی رہنما اور کارکن مارے گئے تھے، اس موقع پرراہل گاندھی فوری طور پر جائے واردات پر پہنچے، جہاں انھوں نے پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کیا، اس کے بعد وہ جگدل پور گئے، وہاں بھی انھوں نے اپنی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور پارٹی کے باغیوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے کا بھی ذکر کیا، لیکن ماؤ واد یا نکسلواد سے نمٹنے یا ا ن کے مسئلے کے بارے میں کوئی بھی تذکرہ نہیں کیا۔ اسی طرح بی جے پی کے رمن سنگھ نے بھی اس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی ، جبکہ نکسلواد یا ماؤ واد چھتیس گڑھ کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہکسی بھی سیاسی پارٹی نے اسے اس بار انتخابی ایشو نہیں بنایا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *