چھپرا سیٹ : قدآور لیڈروں کی عزت دائو پر

Share Article

وجیندر کمار
چھپرامیں اسمبلی الیکشن کا مقابلہ دلچسپ ہوگا، کیونکہ یہاں کئی قد آور لیڈروں کی عزت دائو پر لگی ہوئی ہے۔پارلیمانی تاریخ میں اس حلقہ کی خاصی اہمیت رہی ہے۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں چھپرا اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے راجیو پرتاپ روڑھی و آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کے مقابلہ میںروڑھی اس حلقہ سے تقریباً 4500 ووٹوں سے لالو پرساد سے آگے تھے ، حالانکہ وہ اس الیکشن میں لالو یادو سے ہار گئے تھے۔آر جے ڈی نے یہاں سے مقامی جگدم کالج کے پرنسپل پریمیندر رنجن سنگھ کو اپنا امید وار بنایا ہے، جبکہ این ڈی اے کی طرف سے بی جے پی کے جناردن سنگھ سیگریوال اپنی قسمت آزمانے کے لیے رائے دہندگان سے آشیرواد لینے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔یہاں کانگریس کی جانب سے سارن ضلع یوتھ کانگریس کے صدر انل کمار سنگھ امید وار ہیں۔ بی ایس بی نے راج نارائن پرساد گپتا عرف منا جی کو اپنا امیدوار بنا کر بی جے پی کے جناردن سنگھ سیگریوال کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ نئی حد بندی کے تحت ہونے والے پہلے اسمبلی انتخابات میں یادو طبقہ کے کسی تنظیمی امیدوار کا نہ ہونا پریمیندر سنگھ کی پوزیشن کو مستحکم کر رہا ہے۔ اس سے قبل2005اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کے رام پرویش رائے نے آر جے ڈی کے ادت رائے کو شکست دے کر آر جے ڈی کی روایتی سیٹ پر اپنا پرچم لہرایا تھا۔
اگر حال کے دنوں میں اس حلقہ کی سیاسی سرگرمیوں کا بغور مطالعہ کریں تو یہ حلقہ راجپوتوں کی اکثریت والا مانا جاتا ہے۔ آبادی کے حساب سے دوسرے مقام پر یادو و تیسرے مقام پر اقلیتی طبقہ کے رائے دہندگان کی اکثریت ہے۔ اس حلقہ میں ویشیہ کمیونٹی کے رائے دہندگان کی تعداد تقریباً20ہزار بتائی جاتی ہے، جو روایتی طور پر بی جے پی کے ووٹروں کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔ اس طبقہ کے بی ایس پی کے امیدوار کی شکل میں منا کی دعویداری سے بی جے پی کے امیدوار کے سامنے مشکلیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق اس سے قبل اس حلقہ سے یادو و راجپوت طبقہ کے ہی امیدواروں نے اسمبلی میں نمائندگی کی ہے۔
بہر حال اس اسمبلی حلقہ سے کئی سیاسی جماعتیں و آزاد امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے، لیکن یہ طے مانا جا رہا ہے کہ بڑا مقابلہ آر جے ڈی و این ڈی اے کے درمیان ہی ہونے والا ہے، جبکہ کانگریس کے امیدوار مقابلہ کو سہ رخی بنانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔
سارن کی سیاست کی سمت طے کرنے والی چھپرا اسمبلی سیٹ پر لالو پرساد کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی بھی پینی نگا ہ ہے۔پربھو ناتھ سنگھ کے لیے بھی یہ سیٹ وقار سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ چھپرا سیٹ پر پربھو ناتھ سنگھ کے قریبی مانے جانے والے معروف ماہر تعلیم و پرنسپل پریمیندر رنجن چندیل آر جے ڈی کے امیدوار ہیں۔ اس سے قبل یہاں آر جے ڈی کے متفقہ امیدوار کے طور پر لالو پرساد کے خاص رہے سابق وزیر ادت رائے کا سالوں تک قبضہ رہا۔این ڈی اے کی جانب سے بی جے پی نے جلال پور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے و سابق وزیر کھیل جناردن سنگھ سیگریوال کو انتخابی میدان میں اتارا۔ پہلے اس سیٹ کے حوالہ سے این ڈی اے خیمہ کی دونوں جماعتوں جے ڈی یو اور بی جے پی میں کافی رسا کشی کے حالات پیدا ہو گئے تھے۔ این ڈی اے کے مقامی لیڈر اس سیٹ پر اپنا دعویٰ ٹھونک رہے تھے، لیکن نئی حد بندی میں جلال پور اسمبلی حلقہ کا وجود ختم ہو جانے اور ریول گنج پر کھنڈ کے چھپرا میں شامل ہو جانے کے حالات میں بی جے پی کے امیدوار سیگریوال اس سیٹ پر انتخاب لڑنے کے لیے اتائولے تھے۔ کانگریس نے اپنی جانب سے شفاف شبیہ کے نوجوان امیدوار کی شکل میں انل کمار سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ بی ایس پی نے ویشیہ طبقہ سے اپنا امیدوار کھڑا کرکے بی جے پی امیدوار سیگریوال کے سامنے مشکلیں پیدا کر دی ہیں۔ چھپرا سیٹ پر یادو طبقہ سے سماجی کارکن جھریمن رائے کا آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں کودنا طے ہے۔ وہیں دوسری جانب سابق وزیر ادت رائے کے کنبہ سے کسی بھی رکن کا آزاد امیدوار کی شکل میں انتخابی میدان میں اترنا آر جے ڈی کے امیدوار کے لیے تشویش کا سبب بن سکتا ہے۔ کانگریس میں بھی آسن اسمبلی انتخاب کے حوالہ سے پرانے کانگریسیوں میں خیمہ بندی شروع ہو گئی ہے۔
118چھپرا اسمبلی حلقہ میںکل رائے دہندگان کی تعداد 2لاکھ57ہزار779ہے۔ جس میں ایک لاکھ19ہزار 482مرداور ایک لاکھ13ہزار956خواتین ہیں۔ ذات پر مبنی نئے اعداد و شمار کے لحاظ سے اس سیٹ پر راجپوت رائے دہندگان کی تعداد سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔اس اسمبلی حلقہ میںراجپوت60ہزار،یادو40ہزار، مسلم 28ہزار، ویشیہ26ہزار،بھومیہار12ہزار، دلت10ہزار کے ساتھ باقی دیگر ذاتوں کے رائے دہندگان ہیں۔ نئی حد بندی کے بعد پہلی بار ہونے والے انتخابات میں قد آور لیڈروں کے علاوہ سب کچھ نیا نظر آتا ہے۔ یہاں سبھی جماعتوں کے بیشتر امیدواروں کے چہرے نئے ہیں۔ نئی حد بندی کے تحت اس اسمبلی حلقہ کے یادو اکثریت والے صدر علاقہ کی 14پنچایتوں کو ہٹا کر ریول گنج پر کھنڈ کو شامل کر دیا گیا ہے۔اس طرح چھپرا صدر پرکھنڈ کی سات پنچایتوں کے ساتھ چھپرا شہر کے44وارڈ و ریول گنج نگر پنچایت و پرکھنڈ کو ملا کر بنائے گئے چھپرا اسمبلی حلقہ میں راجپوت رائے دہندگان فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ ویسے یادو و مسلمان رائے دہندگان توازن بر قرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ چھپرا اسمبلی سیٹ پر کسی سیاسی پارٹی کے ذریعہ یادو طبقہ سے کوئی پارٹی کا امیدوار نہیں بنانا ایک تاریخی واقعہ مانا جا رہا ہے۔ اس سے الگ سارن پارلیمانی حلقہ سے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے امیدوار کی شکل میں لالو پرساد کے خلاف الیکشن لڑے بی جے پی لیڈر و قومی ترجمان راجیو پرتاپ روڑھی کی پینی نگاہیں بھی اس سیٹ پر آ ٹکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میںاین ڈی اے کے کچھ مقامی لیڈروں کا امید کے مطابق تعاون نہ ملنے کے باوجود روڑھی اس اسمبلی حلقہ میں لالو پرساد سے ساڑھے چار ہزار ووٹوں سے آگے چل رہے تھے۔
روڑھی مذکورہ الیکشن میںاپنی جماعت کے لیڈروں کے اندرونی خلفشار سے خفا ہیں۔ بی ایس پی کے امیدوار اپنی براردی کے رائے دہندگان کو متحد کرنے میں رات دن ایک کیے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بی ایس پی کے بنیادی ووٹوں کو روکنے کے لیے سیگریوال کو کافی مشقت کرنی پڑ رہی ہے،جبکہ جے ڈی یو خیمہ میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالہ سے باہمی خلفشار اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ آسن اسمبلی کو ضلع سطح کے جے ڈی یو لیڈران و کارکنان میں کوئی خاص جوش نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تیسرے مرحلہ میں ہونے والے انتخاب کے سابق جے ڈی یو کے ضلع سطح کے کارکنان کا ایک بڑا طبقہ آر جے ڈی میں شامل ہونے کے لیے اپنے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔ بہر حال یہی حالات برقرار رہے تو راجپوت رائے دہندگان کا جھکائو بھی آر جے ڈی کی پوزیشن مضبوط بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ سابق ایم پی پربھو ناتھ سنگھ اس سیٹ کو آر جے ڈی کے پالے میں ڈالنے کے لیے راجپوت رائے دہندگان کو پٹانے کے لیے کوئی کمی باقی نہیں چھوڑیں گے۔ آسن اسمبلی حلقہ میں ترقی کے ایشوز ختم ہونے لگے ہیں، جبکہ ذات پر مبنی اعداد و شمار عموماً سبھی جماعتوں پر حاوی ہو رہے ہیں۔ چھپرا اسمبلی سیٹ پر این ڈی اے آر جے ٹی کے ساتھ ہی کانگریس کے امیدواروں کی رابطۂ عامہ مہم پروان چڑھنے لگی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ اس سیٹ پر سہ رخی مقابلہ کے آثار بن سکتے ہیں۔اپنی سطح کے مقابلہ میں آنے کے لیے جی جان لگائے ہوئے اہم امیدواروں کو اندرونی خلفشار کے حالات سے نبرد آزما ہونا پڑ سکتا ہے، جو کہ کسی کی ہار جیت کا سبب بنے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *