چندریان -2: مقررہ ہدف حاصل کرنے کی ہندوستان کی کوششیں جاری

Share Article

 

نئی دہلی، مشن مون کے تحت چندریان -2 کے لینڈر وکرم سے رابطہ ٹوٹنے کے بعد بھی مقرر ہدف حاصل کرنے کی ہندوستان کے کوششیں جاری ہیں۔ اسرو اب بھی اعداد و شمار کا انتظار کر رہا ہے۔

جمعہ-ہفتہ کی درمیانی رات چندریان -2 کے چاند پر اترنے سے ٹھیک پہلے لینڈر سے رابطہ ٹوٹنے سے سائنس دانوں اور ملککے عوام کو تھوڑی مایوسی ہوئی۔ اس دوران اسرو سینٹر میں پہنچ کر وزیر اعظم نریندر مودی نے سائنسدانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ (سائنسداں) مکھن پر نہیں، پتھر پر لکیر کھینچنے والوں میں سے ہیں۔اس لئے آپ لوگوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ویسے چاند پر پہنچنے کی یہہندوستان کی پہلی کوشش نہیں ہے اور نہ ہی آخری ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان نے چندریان -1 کو بھی چاند پر بھیجا تھا۔ اسے سیٹلائٹ لانچ وہیکل پی ایس ایل وی سی ٹو سے 22 اکتوبر 2008 ء کوشری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چھوڑا گیا تھا۔ اس جہاز نے چاند کی 3400 سے زیادہچکر لگائے اور یہ 312 دن یعنی 29 اگست، 2009 تک کام کرتا رہا۔

اس دوران چندریان -1 نے چاند پر پانی ہونے کی تصدیق کی۔اس کی تلاش مختلف تھی۔ چندریان -1 نے چاند کے قطب شمالی کے علاقے میں برف پر پانی جمع ہونے کی بھی تلاش کی تھی۔ اگرچہ وہاں پانی کتنی مقدار میں موجود ہے اس کی جانکاری دینے میں چندریان -1 ناکام رہا تھا۔ اس نے چاند کی سطح پر میگنیشیم، المونیم اور سلیکون ہونے کا بھی پتہ لگایا تھا۔ اتنا ہی نہیں چاند کا عالمی نقشہ تیار کرنا اس مشن کی ایک اور بڑی کامیابی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ چاند کو چھونے کی پہلی کوشش 1958 میں امریکہ اور سوویت یونین روس نے کی تھی۔ اگست سے دسمبر 1968 کے درمیان دونوں ممالک نے 4 پانئیر ٓربیٹر (امریکہ) اور 3 لونا امپیکٹ (سوویت یونین) بھیجے لیکن سبھی ناکام رہے۔ اب تک چاند پر دنیا کے صرف 6 ممالک یا ایجنسیوں نے سیٹلائٹ جہاز بھیجے ہیں۔ کامیابی صرف پانچ کو ملی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *