ایسے مناتے تھے بزرگان دین عید

Share Article

محترم اسلامی بھائیو ! ہم اور آپ صرف نئے نئے کپڑے پہننے اور لذیذ و عْمدہ کھانے تناول کرنے کو ہی عید سمجھ بیٹھے ہیں، مگر آئیے ذرا اپنے بزرگوں اور اپنے اسلاف کی عید کی تاریخ بھی پڑھ لیں، کہ کس طرح سے انہوں نے عید کے دن خوشی کا اظہار کیا۔ دیکھئے ! ان کے عید منانے کا انداز ہی نرالا تھا، وہ دنیا کی لذتوں سے کوسوں دور بھاگتے تھے، خلاف شرع نفسانی خواہشات کا کبھی اتباع نہیں کرتے تھے۔ جس کی چند مثالیں تاریخ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں:۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وہ واقعہ جو شیخ فریدالدین عطار علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب’ تذکرۃ الاولیاء ‘میں فرماتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا ذوالنون مصری علیہ الرحمہ نے دس برس تک کوئی لذیذ کھانا تناول نہ فرمایا۔ نفس چاہتا رہا اور آپ نفس کی مخالفت کرتے رہے۔ ایک بار عید کی مقدس رات کو دل نے مشورہ دیا کہ کل اگر عید سعید کے روز کوئی لذیذ کھانا کھا لیا جائے تو کیا حرج ہے ؟ آپ نے دل سے کہا کہ اے دل! تمہاری خواہش اس وقت پوری کروں گا جب تو یہ برداشت کرلے کہ دو رکعت نفل نماز میں پورا قرآن ختم کروں اور تو اسے برداشت کرلے۔ اس کے بعد آپ نے ایسا ہی کیا۔یہاں تک کہ اب لذیذ کھانا منگوایا اور جوں ہی نوالہ اٹھا کر منہ میں ڈالنا چاہا کہ بیقرار ہوکر رکھ دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضور آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو فرمایا کہ نفس نے مجھ سے کہا دیکھا ! میں آخر اپنی دس سال کی خواہش میں کامیاب تو ہو ہی گیا، اس پر میں نے کہا جب یہ بات ہے تو میں تجھے کامیاب ہرگز ہرگز نہیں ہونے دوں گا اور ہرگز ہرگز لذیذ کھانا نہ کھاؤں گا۔ اتنے میں ایک شخص لذیذ کھانا لئے حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور ! یہ کھانا میں نے اپنے لئے رات تیار کرایا تھا۔ رات جب سویا تو ہمارے آقا ﷺ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر کل قیامت کے دن تو مجھے دیکھنا چاہتا ہے تو یہ کھانا ذوالنون مصری کے پاس لے جا اور ان سے جاکر کہہ کہ ‘‘حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ دم بھر کیلئے نفس کے ساتھ صلح کرلو اور چند نوالے اس لذیذ کھانے میں سے کھالو۔‘‘ اس کے بعد حضرت ذوالنون مصری یہ پیغام رسالت سن کر وجد میں آگئے اور تناول فرمالیا۔ (فیضان سنت)
سبحان اللہ ! حضرات ! آپ نے دیکھا کہ اللہ کے نیک بندے عید کے روز بھی نفس کی پیروی سے کس قدر دور رہتے ہیں اور ہر آن اللہ کی عبادت میں خوش رہتے ہیں، جو اللہ کی رضا کیلئے اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے اللہ اسے ہمیشہ زندہ جاوید رکھتا ہے اور اسے اپنی طرف سے روزی عطا فرماتا ہے۔
عید کے دن لوگ خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانۂ خلافت پر حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ آپ دروازہ بند کرکے زار و قطار رو رہے ہیں۔ لوگوں نے تعجب سے عرض کیا، یا امیر المومین ! آج تو عید کا دن ہے، آج تو شادمانی و مسرت اور خوشی منانے کا دن ہے، یہ خوشی کی جگہ رونا کیسا ؟
آپ نے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا، ھذا یوم العید وھذا یوم الوعید اے لوگو ! یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے۔ آج جس کے نماز روزہ مقبول ہوگئے، بلاشبہ اس کیلئے آج عید کا دن ہے، لیکن آج جس کی نماز روزہ کو مردود کرکے اس کے منہ پر مار دیا گیا ہو، اس کے لئے تو آج وعید ہی کا دن ہے اور میں تو اس خوف سے رو رہا ہوں کہ آہ ! انا لا ادری امن المقبولین امن المطرودین یعنی مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوا ہوں یا رد کر دیا گیا ہوں۔ (فیضان سنت)
حضرات ذرا غور کیجئے اور اپنے دل پرہاتھ رکھ کر سوچئے! یہ وہی فاروق اعظم ہیں جن کو مالک جنت تاجدار مدینہ ﷺنے اپنی حیات ظاہری ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ پھر بھی خشیت الٰہی کا یہ حال کہ صرف یہ سوچ کر رو رہے ہیں کہ نہ معلوم میری رمضان المبرک کی عبادتیں قبول ہوئیں یا نہیں۔
اللہ اکبر ! مسلمانوں ذرا سوچو تو صحیح جن کی نماز عید اور رمضان کے روزوں کی مقبولیت میں ذرہ برابر بھی کوئی شک و شبہ نہ ہو، ان کا یہ عالم ہے تو ہم اور آپ جیسے نکمے اور باتونی لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ مگر خوش فہمی کا یہ عالم کہ ہم جیسا نیک اور پارسا تو شاید اب رہا ہی نہیں، مگر افسوس صد افسوس ! کہ ہم لوگ اپنے اسلاف کی تاریخ بھول گئے۔ مسلمانوں ! ذرا غور تو کرو جن کا حقیقی حق تھا عید کی خوشی منانا وہ تو خشیت الٰہی سے لبریز ہیں، مگر ہم اور آپ خوشی سے جھوم رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانی قمیص پہنے دیکھا تو رو پڑے بیٹے نے عرض کیا، پیارے ابا جان ! آپ کس لئے رو رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا، بیٹے مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑکے تجھے اس پھٹے پرانے قمیص میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے گا۔ بیٹے نے جواب دیا، ابا جان ! دل تو اس کا ٹوٹے گا جو رضائے الٰہی کو نہ پا سکا یا جس نے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے اْمید ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے راضی ہوگا۔ یہ سن کر حضرت عمر رو پڑے بیٹے کو گلے لگالیا اور اس کیلئے دعا کی۔ (مکاشفۃالقلوب)
مسلمانو! ذرا غور کرو ! ایک بیٹا اپنے باپ کو کتنا پیارا جواب دے رہا ہے، جس پر پوری دنیا قیامت تک رشک کرے گی۔ ہمارے اسلاف کی تاریخ کس قدر انسانیت، وفاشعاری اور خدمت والدین کی داستانوں سے لبریز ہے۔ مگر آہ ! ایک ہمارے بھی اولاد ہیں جو وفادار اور فرمانبردار ہونا تو دور کی بات ہے نہ جانے انہیں کتنی گالیاں سننے کو ملتی ہیں اور بہت تو اپنے والدین کو اس قدر مارتے پیٹتے ہیں کہ انہیں لہو ولہان کر دیتے ہیں، مگر ذرہ برابر بھی انہیں شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا۔ آخر کیوں ؟
شاید یہ ان کی ہی پرورش کا نتیجہ ہے ! جس کا پھل وہ خود کھا رہے ہیں، جیسا انہوں نے پودا لگایا تھا ویسا کاٹ رہے ہیں ۔جیسی انہوں نے محنت کی تھی ویسا پا رہے ہیں۔ اس میں اولاد کی کیا کمی ہے ! یہ تو کمی والدین کی ہے جنھوں نے ماڈرن زمانے سے متاثر ہوکر اسلاف کی تاریخ کو فراموش کرکے اس کی پرورش کی تھی۔ اگر وہ پرورش تاریخ فاروقی کی روشنی میں کرتے تو فاروق اعظم کی اولاد جیسا جواب ہوتا، مگر ہم نے ویسی پرورش ہی نہیں کی تو پھر اولاد کیسی ہوگی ؟ آپ خود فیصلہ کیجئے۔
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں عید سے ایک دن قبل آپ کی بچّیاں حاضر ہوئیں اور بولیں، بابا جان! کل عید ہے اور ہمارے پاس کوئی کپڑا نہیں ہے، ہم کیا پہنیں گے ؟ فرمایا یہ کپڑے جو تم نے پہن رکھے ہیں، اسے ہی دھو کر آج صاف کرلینا اور کل اسے ہی پہن لینا ! مگر بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں، ضد کرنے لگے کہ نہیں باباجان آپ ہمیں نئے کپڑے بنوادیں، تو آپ نے فرمایا میری بچیوں عید کا دن اللہ کی عبادت کا دن ہے نئے کپڑے پہننا ضروری نہیں ہے، اس پر بچیوں نے کہا باباجان آپ کا کہنا بالکل صحیح ہے، مگر کل عید کے دن ہماری سہیلیاں مجھے پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھ کر طعنہ دیں گی کہ تم نے امیر المومنین کی لڑکیاں ہو کر وہی کپڑے پہن رکھے ہیں، چنانچہ یہ سن کر آپ کی آنکھ سے آنسو آگئے اور خازن کو بلا کر فرمایا مجھے میری ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی لادو ! اس پر خازن نے عرض کیا حضور ! کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہیں گے ؟
آپ نے فرمایا جزاک اللہ ! تونے بیشک عْمدہ اور صحیح بات کہی۔ اس کے بعد آپ نے اپنی بیٹیوں کو سمجھایا اور کہا کہ میری پیاری بیٹیو ! اللہ و رسول کی رضا پر اپنی رضا کو قربان کردو، کوئی شخص اس وقت تک جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک وہ کچھ قربانی نہ دے۔ (فیضان سنت بحوالہ معدن اخلاق)
حضرات ! ان دونوں واقعہ سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو عید کی خوشی کو نئے کپڑے پہننے اور لذیذ تر غذائیں کھانے کو عید کی خوشی سمجھ بیٹھے ہیں۔ پورے رمضان ایک روزہ بھی نہیں رکھتے اور خوشی کا یہ عالم کہ چاند دیکھنے کیلئے بے قرار رہتے ہیں اور ایک مہینہ پہلے ہی سے نئے کپڑوں کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔ مسلمانو ! کیا عید اسی کا نام ہے ؟ کیا ہمارے اسلاف نے اسی طرح سے عید منائی ہے۔۔۔۔۔ ؟
اللہ اکبر ! حضرات ! ذرا غور تو کیجئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنی بڑی سلطنت کے حاکم ہونے کے باوجود اس قدر دیانتدار اور امانتدار تھے کہ ایک ماہ پیشتر تنخواہ لینی بھی مناسب نہیں سمجھی، مسلمانوں ! ایک وہ بھی وزیر اعظم تھے اور ایک آج کا بھی وزیراعظم ہوتا ہے جو پہلے اپنی سات پشتوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی کسی عام آدمی کا خیال کرتا ہے، مگر اسلام نے امانت و دیانتداری کا ایسا درس دیا جو آج تک کوئی مذہب نہ دے سکا، جس کی مثال سے پوری خلفائے راشدین اور اس کے بعد کے مسلمانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *