ایم ایل سی رمیش مشرا سمیت کئی مورنگ (ریت )کان کنی کاروباریوں کے یہاں سی بی آئی کے چھاپے

Share Article

 

اتر پردیش کے حمیر پور ضلع میں غیر قانونی مورنگ کان کنی کیس میں بدھ کو سی بی آئی ٹیم نے ایس پی کے ایم ایل سی رمیش مشرا اور سابق ضلع پنچایت صدر سمیت کئی مورنگ کاروباریوں کے یہاں چھاپہ ماری کی۔ سابق ضلع پنچایت صدر سنجے دکشت کے رشتہ دار کے یہاں بھی سی بی آئی ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔ اس کارروائی کو لے کر کوئی بھی بولنے کو تیار نہیں ہے اور میڈیا اہلکاروں کو بھی دور رکھا گیا ہے۔ درخواست گزار اور سماجی کارکن وجے دویدی نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سی بی آئی کے ریڈار پر متعدد مورنگ کاروباری ہیں جن میں ایم ایل سی سمیت کئی مورنگ کان کنی سے وابستہ تاجروں کے یہاں چھاپے پڑ رہے ہیں۔

 

سی بی آئی کے افسر بدھ کو آٹھ گاڑیوں میں آئے اور ٹیم بنا کر مورنگ کاروباریوں کے یہاں چھاپہ ماری شروع کر دی ہے۔ ایم ایل سی رمیش مشرا کے گاؤں املیا میں ٹیم نے چھاپہ ماری کی ہے تو پہلے ضلع پنچایت صدر کے رشتہ دار راکیش دکشت کے گہرولی گاؤں میں بھی چھاپہ ماری کی گئی۔ اس کے بعد راکیش دکشت کے راٹھ قصبے میں واقع رہائش گاہ پر ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔ چھاپہ ماری میں گھر کے دروازے ٹوٹ گئے ہیں۔حمیر پور میں مورنگ کان کنی کے بڑے کاروباریوں میں جاوید حبیب کے آفس پر چھاپہ ماری کی گئی ہے۔ چھاپہ ماری کے خوف سے وہ فرار ہو گیا ہے۔ مورنگ کان کنی میں سی بی آئی کی جانچ میں پھنسے ہوئے رام اوتار مورنگ کاروباری کے یہاں بھی چھاپے ماری جاری ہے۔

 

قابل ذکر ہے کہ اکھلیش یادو کی حکومت میں حمیر پور کی اس وقت کی ضلع مجسٹریٹ آئی اے ایس بی چندرکلا نے اپنی تعیناتی کے دوران مورنگ کاروباری رمیش مشرا اینڈ کمپنی کو قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے ضلع میں 47 مورنگ کان کنی لیز پر جاری کئے ہوئے تھے۔ اس کے بعد مورنگ کے 13 اور لیز جاری کئے گئے تھے جنہیں کچھ وقت بعد ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔ مورنگ کے یہ لیز قوانین کے خلاف تھے جبکہ ای ٹینڈرنگ سے مورنگ کے لیز کئے جانے کی تجویز تھی۔ اکھلیش یادو کی حکومت میں انہوں نے یہاں ضلع میں 50 مورنگ کان کنی کی لیز جاری کئے تھے۔ مورنگ کی کانوں میں حمیر پور-باندہ کے ایم ایل سی رمیش مشرا، ان کے بھائی دنیش مشرا کا قبضہ رہا ہے۔ رمیش مشرا اینڈ کمپنی نام پر ایک درجن سے زیادہ مورنگ لیزپر تھے۔ اسی طرح سابق ضلع پنچایت صدر سنجے دکشت کی ماں مایا دیوی کے نام پر بھی بہت سے مورنگ کان لیزپر تھے۔

 

ہائی کورٹ سے غیر قانونی مورنگ کان کنی کی جانچ کرانے والے حمیر پور کے وکیل اور سماجی کارکن وجے دویدی نے بدھ کو دوپہر سی بی آئی ٹیم کی چھاپہ ماری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ضلع مجسٹریٹ بی چندرکلا نے قوانین کے برعکس مورنگ کان کنی کے لیز جاری کئے تھے جنہیں کافی وقت بعد ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی ضلع میں غیر قانونی مورنگ کان کنی کا کھیل چلتا رہا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *