مسلمانوں کو تحفظ کی گارنٹی کون دے گا؟

میور وہار فیز 1میں ایک تقریب میں جانا ہوا ، چند خواتین کے درمیان میں بھی بیٹھی ہوئی تھی، ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا آپ اوکھلا میں رہتی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں بولیں وہاں تو سبھی مسلمان رہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں زیادہ تر مسلمان ہی بسے ہوئے ہیں اور یہ وہ مسلمان ہیں جو پرانی دلی کی تنگ و تاریک گلیوں سے نکل کر آئے ہیں، جن کو اپنے بچوں کی پڑھائی کے لئے کھلا ماحول چاہئے تھا ، جن کو اپنے بچوں کے کھیلنے کے لئے کشادہ کالونیاں اور باغ چاہئیں۔ جن کو گھر ، گاڑی ، پارک کرنے کے لئے جگہ چاہئے ۔ یہ تقریباً وہی مسلمان ہیں، جو پرانی دہلی کی بھیڑ بھاڑ سے اور وہاں کی گالی گلوچ والے ماحول سے بچ کر آئے ہیں۔ اوکھلا تقریباً ایسے ہی مسلمانوں سے آباد ہے ، یہاں پڑھے لکھے نوکری پیشہ افراد بھی کافی ہیں۔ خاتون خانہ بڑے غور سے میری باتیں سن رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد بولیں آپ ہمارے لئے بھی کوئی گھر اوکھلا میں دیکھ لیجئے میں نے چونک کر حیرت سے ان کو دیکھا اور کہا کیوں آپ نے ابھی تو اتنا پیسہ لگا کر گھر بنایا ہے تو بولیں نہیں اگر مودی کی حکومت آ جاتی ہے تو ہمیں مسلم محلوں میں گھر لینا ہوگا کیونکہ آس پاس مسلم آبادی نہیں ہے، صرف ہمارا ہی گھر ہے اور اب ہم سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اگر مودی کی حکومت آ جائے گی تو ہم یہاں بالکل غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ ایک دھکا سا لگا مجھے اور میں بھونچکا سی ان کی شکل دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ کوئی جواب ہی بن نہیں پڑا کچھ سوجھا ہی نہیں کہ ان کو کیا جواب دوں۔

Read more

آخر دائوں پر تو عورت ہی لگی نا؟

دو اہم خبروں پر بات کرنے کی آج خواہش ہے۔ یہ میرے سامنے ایک چینل ہے ، جس پر عاصم وقار، ونود اگنی ہوتری، یحیٰ بخاری ، مہیش شرما نام کے چند اہم سماجی کارکن ملائم سنگھ یادو کے اس بیان پر بحث کر رہے ہیں، جو انھوں نے عصمت دری کے تعلق سے دیا ہے۔ اس پینل میں یحیٰ بخاری تو کافی دنوں سے خبروں میں ہیں، جب سے انھوں نے اپنے بڑے بھائی شاہی امام احمد بخاری کی مخالفت کانگریس کی حمایت کے خلاف کی ہے۔ ظاہر ہے ملائم سنگھ یادو کا یہ بیان کہ لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے تو کیا اس کی سزا پھانسی ہے، ایک نہایت ہی شرمناک بیان ہے۔ یہی نہیں ملائم سنگھ یادو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میری حکومت آئے گی تو ایسے قانون کو بدل دے گی۔

Read more

مولانا احمد بخاری پہلے گھر کی مخالفت کو سنبھالیں

الیکشن اور مسلمان، مسلمان اور الیکشن ، بی جے پی اور مسلمان، کانگریس اور مسلمان۔ الیکشن نزدیک آتے آتے بس یہی آوازیں چاروں طرف سے سنائی دینے لگتی ہیں، ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کو لبھانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف مسلمانوں کے نام کی ہاہا کار مچ جاتی ہے اور ایسے میں مسلم امیدوار تو اپنی جگہ، مسلم لیڈران بھی سیاست چمکانے میں لگ جاتے ہیں۔ لیڈران کو اچانک اردو اخبارات کے صحافی یاد آجاتے ہیں اور پھر ان صحافیوں کے ساتھ دو اور دو چار کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے دہلی میں راج ناتھ نے اپنے گھر پر اردو اخباروں کے صحافیوں سے بات چیت کی، پھر کانگریس نے

Read more

مسلم نوجوانوں کی گرفتاری: اب سڑک پر اترنے کا وقت ہے

میری مسلم نوجوانوں سے بڑی عاجزانہ درخواست ہے کہ جب بھی گھر سے نکلیں، اپنے شناختی کارڈ کو ساتھ رکھیں اور دیر رات گئے گھر نہ لوٹیں، کسی بھی مشکوک جگہ نہ جائیں، گاڑی ہو یا موٹر سائیکل، کاغذات پورے رکھیں۔ علاقے کے بااثر لوگوں سے رابطہ رکھیں۔ اگر خدانخواستہ کبھی پکڑے جائیں، تو فوراً اپنے علاقے کے با اثر ذمہ داران کو مطلع کریں۔ والدین کو چاہیے کہ فوراً کسی وکیل سے رابطہ کریں، علاقے کے لوگوں اکٹھا کریں اور پولیس کو بنا اسٹامپ پیپر پر پنچ نامہ بنائے بغیر کسی بھی نوجوان کو نہ لے جانے دیں۔

Read more

الیکشن2014 :اس بے حساب چندے کا حساب کو ن لے گا

الیکشن کے دوران اداریہ لکھنا بے حد مشکل کام ہے کیونکہ ایک غیر جانبدار مدیر سے یہ امید لگائی جاتی ہے کہ وہ سچی اور ایماندارانہ بات کہے۔ جیسے کسی بھی چینل کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کس پارٹی کا چینل ہے اور اس نے کس سے پیسہ کھایا ہے، اسی طرح اخبار کے بارے میں بھی عوام فوراً اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ کس پارٹی کا اخبار ہے۔ کتنا ہی آپ یقین دلاتے رہیں جو فیصلہ قاری کر لیتے ہیں،ا سے بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ ہمارے اخبار نے ہمیشہ ہی کانگریس، بی جے پی ،سماجوادی پارٹی، آپ پارٹی تقریباً سبھی پارٹیوں کی مخالفت کی ہے۔ جہاں ہم نے کانگریس کے گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا، وہیں بی جے پی کی فرقہ پرستی کو بھی کھل کر بے نقاب کیا ہے۔ اسی طرح ملائم سنگھ کا مکھوٹا جو مسلمانوں کو بہکانے کے لئے لگایا ہوا تھا ، وہ مکھوٹا بھی ہم نے اتار پھینکا۔ آپ پارٹی

Read more

ایسے ہی مناتے رہئے یوم خواتین، کبھی کچھ نہیں بدلے گا

بین الاقوامی خواتین کا دن، یعنیInternational Women’s Day۔ یہ عنوان ہی مجھے بے حد تکلیف دیتا ہے۔ خواتین کا دن منانے سے کیا خواتین کے تئیں سماج کے رویہ اور اس کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے؟ کیا خواتین کا دن منانے سے خواتین کی حالت میں کوئی سدھار ہوا ہے، یا ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کٹّی پارٹی کرنے والی خواتین اگر ملک میں یومِ خواتین مناتی ہیں، تو اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ عورتوں کی حالت سدھر رہی ہے یا پھر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بڑے سے سجے ہوئے ہال میں اکٹھّا ہو کر قیمتی سلک کی ساڑیوں اور ادھ ننگے بلاؤز والی خواتین سے یومِ خواتین کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟

Read more

یکساں مواقع کمیشن کو پارلیمنٹ میں پاس نہ کرنا مسلمانوں سے ایک اور دھوکہ ہے

چلئے یو پی اے حکومت کی مدت کار آخیر کار ختم ہوگئی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آخری خطاب بھی کرلیا ۔اجلاس بھی ختم ہوگیا اور اس پورے پس منظر میں مسلمان فقط حسین وعدوں میں ہی الجھ کر رہ گیا۔وعدے اور صرف وعدے نہ تو مسلم ریزرویشن بل پاس ہوا نہ ہی فرقہ وارانہ بل اور نہ ہی سچر کمیٹی سفارشات پر پوری طرح عمل در آمد ہوا ،نہ رنگا ناتھ مشرا کمیشن ٹیبل ہوا اور نہ ہی وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام پر پوری طرح سے کام ہوا۔ خود وزیر اعظم نے وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی افتتاحی تقریب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ مسلمانوں کے لئے اپنے پندرہ نکاتی پروگرام کو پوری طرح عمل میں نہیں لا پائے اور رہی سہی کسر اس پروگرام میں ہنگامہ کرنے والے شخص نے پوری کردی۔ایسا نہیں ہے کہ اس حکومت نے اپنے دس سالوں میں کوئی کام نہیں کیا ۔آر ٹی آئی کا قانون نافذ کرنا اس سرکاری کی سب سے بڑی جیت ہے۔ لیکن مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جو کام کیے جانے تھے وہ نہیں ہو پائے ۔ہاں جاتے جاتے یو پی اے کے دور میں یکساں مواقع کمیشن کا قیام ضرور عمل میں آیا اور اس کو مرکزی کابینہ کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔ اس کمیشن کے قیام کی سفارش جسٹس راجندر سچر کمیٹی نے کی تھی تاکہ اقلیتوں کو تعلیمی میدان میں برابر کے مواقع مل سکیں اور نوکریوں اور دوسرے شعبوں میں اگر کوئی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو اس پر روک لگائی جاسکے۔

Read more

تیرہ اور چودہ فروری ہندوستان کی تاریخ کے 2سیاہ دن

کیسا عجیب زمانہ آ گیا ہے جب ہر دن کو کسی نہ کسی جذبے کے نام کر دیا گیا ہے۔ 13ضروری ’ہگ ڈے‘ تھا اور شاید اس سے پہلے ’روز ڈے‘ تھا مگر ہندوستان کی تاریخ میں یہ ’ہگ ڈے‘ ایسی شرمناک داستان چھوڑ گیا ، جس نے جمہوریت کے وقار کی دھجیاں اڑا دیں اور 14فروری جو ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانا جاتا تھا اور جسے محبت کا دن کہا جاتا ہے، وہ دن دلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال کی بدولت محبت کے بجائے نفرت کی کہانی دکھا گیا اور ودھان سبھا کو ایک کشتی کا اکھاڑہ بنا گیا۔

Read more

کانگریس پھر مسلمانوں کو لبھانے کی کوشش میں

وگیان بھون کا پُر شکوہ ہال، پُر وقار تقریب، وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ، سونیا گاندھی، وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمٰن خان، جناب ینونگ ایرنگ ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور اور ڈاکٹر للت کے پوارسکریٹری برائے اقلیتی امور، سبھی پھولوں سے خوبصورت سجے اسٹیج پر موجود تھے اورموقع تھا نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے افتتاح کا۔ اس تقریب میں دہلی کے تقریباً سبھی اعلیٰ عہدوں پر فائز مسلمان اور اداروں کے مسلم سربراہ موجود تھے۔ وزیر اعظم کی تقریر ہو چکی تھی، منٹ ٹو منٹ پروگرام تھا۔ وزیر اعظم کسی روبوٹ کی طرح چلتے ہوئے آئے اور انگریزی میں تقریر کر کے چلے گئے۔ سنا تو یہ ہے کہ وزیر اعظم بہت اچھی

Read more

یقیناً مہنگائی ہی یو پی اے کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے

یو پی اے کے تقریباً 10 سال پورے ہوگئے ہیں اور کیا کھویا کیا پایا جیسے سوالات بہت پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ اب صرف ایک ہی سوال باقی رہ جاتاہے کہ کانگریس کے پاس اب اپنے بچائو کے لئے کون سا رام بان بچا ہے۔یو پی اے اول اور یو پی اے دوم میں یقینا یوپی اے اول کا وقت بہتر تھا لیکن بعد کے 5 سالوں میں کانگریس نے جیسے بالکل ہی اپنا مقام کھودیا ہے۔
خود وزیر اعظم نے اپنی ہار تسلیم کرلی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن میںہار کی وجہ صرف اور صرف مہنگائی تھی۔ سونیا گاندھی نے بھی ہار کی وجہ مہنگائی بتائی ہے۔

Read more
Page 5 of 23« First...34567...1020...Last »