جناب ایسے مناتے ہیں ہم جشنِ آزادی

ہماری آزادی 67سال کی ہوگئی ہے۔ یعنی جس عمر میں ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص ریٹائرڈ ہو کر بس آخری پڑاؤ کی طرف گامزن ہوتا ہے، ہماری آزادی بھی اس آخری پڑاؤکی طرف جارہی ہے۔ لیکن، کیا ہم اس آزادی کے بوڑھے ہونے پر فخر سے یہ کہہ سکتے ہیںکہ بچپن اور جوانی اس کی لاجواب رہی ہے۔ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ آزادی کے 67سال بعد بھی ہمارے ملک میں غریبی، بے روزگاری، بھکمری، جہالت، بدعنوانی، فرقہ پرستی اور توہم پرستی سے نہ تو ہمیں نجات ملی ہے اور نہ ہی ہم ملک کی اقتصادی حالت سدھار پائے ہیں۔ پھر یہ کیسی آزادی ہے؟ آج بھی اقلیتوں پر اور خاص طور پر مسلمانوں پر ،جس طرح بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، اس نے تو جیسے آزادی کا مقصد ہی ختم کردیا ہے۔ ہمیں بار بار یہ بتانا پڑتا ہے ، جتانا پڑتا ہے کہ یہ ملک ہمارا بھی ہے، اس ملک کو آزادی دلانے میں ہمارے بزرگوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے، جتنا دوسروں کا ہے۔

Read more

یہ مسلمانوں کو فسادات میں برباد کرنے کی منظم سازش ہے

ہم نے اپنے ہوش میں میرٹھ، ملیانہ، ہاشم پورہ کا فساد دیکھا ہے۔ اور اس فساد میں پی اے سی کی گولیوں نے کیسے بے گناہ مسلمانوں کو لائنوں میں کھڑا کرکے گولیاں ماری اور کیسے لاشوں کو نہر میں بہا دیا گیا ،وہ دلدوز خبریں بھی پڑھی ہیں ۔ہمارے ہوش میں گجرات کا فساد بھی ہوا۔ اس میں بھی مسلمانوں کے گائوں کے گائوں برباد کردیے گئے ۔حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے بچوں کو نیزوں پر لٹکا دیا گیا ۔یہ بہیمت ،یہ بربریت اس مہذب دور میں تسلیم کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا لیکن ایسا ہوا اور پھر مظفر نگر کا فسا ہوا جس میں پھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تبھی سے یہ خوف و احساس ہمارے اندر جڑ پکڑتا گیا کہ جہاں بھی کہیں ہندو مسلم فساد ہوتا ہے مسلمان ہی مارے جاتے ہیں۔ ان پر ہی ظلم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اندزہ ہوتا گیا کہ نہ عام ہندو لڑنا چاہتا ہے نہ عام مسلمان ۔یہ تو سیاست داں ہیں جو اپنی بازی گری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر لاشوں کی تجارت کرکے تجوریاں بھرتے ہیں ۔ان سب میں جو بھی ادراک ہوتا گیا وہ اپنی جگہ لیکن فسادات کی وجہ سے سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں سے نفرت بھی جڑ پکڑتی گئی۔

Read more

معصوم فلسطینیوں کی آہ و بکا اور ہماری عید

عید آئی بھی اور گزر بھی گئی، لیکن فلسطین کے معصوم بچے ،بچیاں اور خواتین نہ تو عید کے کپڑے بنا پائے، نہ ہی پہن پائے، اور سفید کفن میں لپٹ کر یہ معصوم ابدی نیند سوگئے۔ پوری دنیا میں جبکہ اس وقت مسلمان چاروں طرف سے مارے جارہے ہیں، غزہ پربمباری جاری ہے ، رات دن غزہ کے مظلوم مارے جارہے ہیں ،بعض ملکوں میں بے حس مسلمان عید مناتے رہے۔ سعودی عرب میں وہی عید کی گہما گہمی رہی۔ ہندو پاک میں بھی عورتوں، مردوں اور لڑکیوں سے بازار بھرے رہے، چاروں طرف رنگین آنچل لہراتے رہے۔ ہر طرف سے’ عید مبارک، عید مبارک‘ کی صدائیں گونجتی رہیں، لیکن غزہ کے شہیدوں کی لاشوں پر رونے والے صرف ان کے اپنے رشتہ دار اور ماں باپ ہی تھے، باقی سب اپنی عید کی خوشیوں میں مصروف تھے۔ اور اسی عید کے دوران جبکہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1000 ہوچکیہے، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اقوام

Read more

دیکھئے نہرو کی وراثت کو راہل اور سونیا نے کیسے ہڑ پ لیا

حالہی میں بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر قانون ڈاکٹر سبرا منین سوامی کے ذریعے نیشنل ہیرالڈ بلڈنگ کے معاملے میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو دہلی مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے سمن دیا گیا ہے۔ اخباروں میں بہت حد تک اس کی تفصیلات آگئی ہیں، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اردو اخباروں میں بہت زیادہ اس مسئلہ کو جگہ نہیں دی گئی۔
قومی آواز ہمارے بچپن کا اخبار ہے اور ایک زمانہ تھا آئی ٹی او کی نشاندہی نیشنل ہیرالڈ بلڈنگ سے ہی کی جاتی تھی۔ فخر سے سر اٹھائے یہ عظیم الشان بلڈنگ اس بات کی علامت تھی کہ یہاں سے تین بڑی زبانوں کے اخبار نکلتے تھے۔ انگریزی کا نیشنل ہیرالڈ، اردو میں قومی آواز اور ہندی میں نو جیون، جو کہ دہلی کے ساتھ ساتھ لکھنؤ سے بھی شائع ہوتا تھا۔

Read more

انڈرگریجویشن کورس تنازعہ کے لئے یہ صحیح وقت نہیں تھا

یو جی سی اور دہلی یونیورسٹی میں یوں تو 3 سالہ گریجویٹ کورس پر فیصلہ ہو گیا ہے ۔لیکن اس پورے تنازع نے طلباء کو بے حد پریشان رکھا۔وہ طالب علم جن کو اس سال داخلہ لینا تھا وہ جانے کہاں کہاں سے ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے داخلہ لینے کے لئے آئے اور دہلی یونیورسٹی میںدھکے کھاتے رہے اور یو جی سی اور یونیورسٹی میں تکرار چلتی رہی ۔ایک طرف وہ طالب علم تھے جو 4 سالہ کورس کے حق میں تھے اور دوسری طرف وہ جو کہ تین سالہ کورس کے حق میں تھے۔

Read more

کیسے گزرے گا مظفر نگر، شاملی کے متاثرین کا رمضان؟

آسمان سے شعلے برساتا ہوا سورج،جسم کی کھال کو جھلساتی ہوئی دھوپ،چہرے پر پڑنے والی لوٗکے تھپیڑے،45سے 48 ڈگری درجۂ حرارت سے بے حال دلّی اور اس خطرناک گرمی میں بنا بجلی و پانی کے بے حال دلّی کے عوام اور رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جیسے اللہ نے بھی اس بار اپنے نیک بندوں کوآزمانے کا پورا ارادہ کرلیا ہو۔

Read more

سول سروسیز میں صرف تین فیصد طلباء کی کامیابی شرمناک

سول سروسز امتحان میں اس سال بھی 1122کامیاب امیدواروں میں صرف 34 مسلم طلباء کامیاب ہوئے ہیں۔ یعنی صرف 3فیصد اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ نتیجہ گزشتہ 5 سالوں میں تقریبا ً ایک جیسا ہی رہاہے۔ 2009 میں 791 کامیاب امیدواروں میں سے صرف 31 مسلمان کامیاب ہوئے تھے۔ 2010 میں 875 کامیاب امیدواروں میں سے صرف 21 کامیاب ہوئے،2011 میں 920 میں سے صرف 31مسلمان اور 2012 میں 998 میں سے صرف 30 مسلمان یعنی یہ فیصد صرف 2سے 3 ہی رہاہے۔

Read more

کیجریوال! نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

کیجریوال کی گرفتاری کا تیسرا دن تھا ٹی وی پر بار بار یہ خبر دکھائی جا رہی تھی کہ کجریوال کو 14دن کی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے اور 6جون کو ان کو عدالت میں پیش ہوناہے۔ اسی دن آپ پارٹی کی میٹنگ کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہوئی اور اسی میٹنگ میں نہ تو میڈیا کو بلایا گیا اور نہ ہی کسی اور کو پہلے سے خبر تھی ۔ شاید یہ پارٹی کے کارکنان کو جمع کر کے پھر سے پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرنے کی قواعد رہی ہوگی۔
کیجریوال ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا لیڈر بن کے ابھرے تھے ، جس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ 6مہینے کی پیدائش والی پارٹی نے دہلی میں تاریخ رقم کی اور کانگریس جیسی سوا سو سال والی پارٹی اور بی جے پی جیسی تقریباً50-55سال پرانی پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ وقت ابھی بہت زیادہ نہیں ہوا، جب دہلی اسمبلی الیکشن میں کجریوال کی فتح نے ہندوستان کی سیاست کا رخ ہی موڑ دیا تھا۔ ہر ٹیلی ویژن پر صرف اور

Read more

مودی کی تاج پوشی اور مسلمان

الیکشن کے ہنگامے ختم ہوئے اور اس ملک کے عوام نے ملک کی باگ ڈور مودی کو سونپ دی۔ نتیجہ آنے کے بعد وہی ہوا، جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ جو پہلے مودی مخالف تھے، وہ مودی کے گُن گانے لگے۔ ظاہر ہے، چڑھتے سورج کی دنیا پوجا کرتی ہے۔ اب اگر اللہ نے مودی کو آج وہ عزت و توقیر عطا کی ہے، توپھر اللہ دے بندہ لے۔ مودی کی کامیابی کیوں ہے؟ کیا ہے؟ کس لیے ہے؟ اس کا تجزیہ تو ماہرین کرتے رہیں گے، مگر مجھے پھر وہی بات کہنی ہے کہ یہ مودی لہر نہیں تھی، یہ کانگریس مخالف لہر تھی۔ دس سال سے حکومت کرنے والی پارٹی نے ملک کو بے روزگاری، مہنگائی، فرقہ پرستی، بدعنوانی، جیسے مسائل میں دھکیل دیا۔ جیسے جیسے گھوٹالے بڑھتے گئے، ،ملک کے عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے گئے۔ ادھر کانگریس کے لیڈران عوام کی پریشانیوں، ان کی ضروریات، ان کے مسائل سے منہ موڑتے گئے۔

Read more

یہ ترقی ، یہ وکاس محض دکھاوا ہے، اصل تصویر بہت دردناک ہے

ہمارے بچپن میں جب الیکشن ہوتا تھا تو چاروں طرف لائوڈ اسپیکر بج رہے ہوتے تھے ۔ ہر چوراہے اور نکڑ پر کسی نہ کسی پارٹی کا جلسہ ہو رہا ہوتا تھا اور ہم جامع مسجد کے چوراہے سے لے کر دریا گنج تک نہ جانے کتنے ہی لیڈروں کی تقریریں سنتے ہوئے آتے تھے اور سنتے ہوئے جاتے تھے لیکن کبھی اتنی گھٹیا نہ تو زبان سنی نہ ہی ایک دوسرے پر الزام لگانے کے لئے بے حد رکیک اور غلط جملے سنے۔ ہمارے ہوش میں1977کا الیکشن ہوا پھر اس کے بعد ہماری آنکھوں نے کئی لوک سبھا چنائو دیکھے۔یہاں تک کہ 2009میں بھی یہ گندگی نہ دیکھی نہ سنی جو اس وقت سیاسی لیڈران ایک

Read more
Page 4 of 23« First...23456...1020...Last »