ہندو و پاک تعلقات : سیاسی رشتے جیسے بھی ہوں ، تہذیبی، تجارتی وثقافتی رشتے مضبوط ہونے چاہئیں

ہمارا میڈیا بار بارکٹھمنڈو میں سارک کانفرنس کی ایک تصویر دکھا رہا تھا جس میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی ادائے بے نیازی سے کوئی میگزین یاسارک کانفرنس سے متعلق کوئی لٹریچر پڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف ان کے عقب سے خاموشی سے گزرتے ہوئے اپنی نشست تک چلے جاتے ہیں۔اُدھر مودی آنکھ اٹھاکر ان کی جانب نہیں دیکھتے اور اِدھر نواز شریف ان کے وجود کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔بس اسی لمحہ کو قید کرکے میڈیا کو موقع مل جاتا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ لیکن جب سارک کانفرنس کے آخری دن دونوں سربراہان ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو بھی کوئی خوشی اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ اسی وقت جموں و کشمیر میں ارینا سسیکڑ پر پاکستانی دہشت گرد ایک خالی بنکر پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہمارے 3 جوان اور 3 شہری مارے جا چکے ہوتے ہیں۔

Read more

بابا ، صوفی، سادھو، سنت ، آشرم ، درگاہیں ہمیں تو سب نے لوٹا ہے

مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں جب بھی ہمارے گھر میں کوئی سادھو، سنت یا کوئی بابا جھولا کندھے پر لٹکائے ہوئے بھیک یا دکشا مانگنے آتا تھا تو ہم دوڑے ہوئے جاتے تھے اور اس کی جھولی میں آٹا، چاول، پیسے یا جو بھی ہم کو ہماری والدہ دیتی تھیں وہ ڈال دیا کرتے تھے ۔اس وقت گھر کی کچھ توہم پرست عورتیں ان سادھوئوں ، سنتوں کو احترام کی نظر سے دیکھتی تھیں اور کبھی ان کی بڑی بوڑھیاںان سے بچنے کی بھی نصیحت کرتی تھیں لیکن زیادہ تر گھر کی بزرگ عورتیں یہ سوچتی تھیں کہ یہ سب ڈھونگی لوگ ہیں۔ بچوں کو اپنی جھولی میں ڈال کر لے جاتے ہیں یا پھر کوئی نشیلی چیز کھلا کر اپنے پیچھے لگا کر لے جاتے ہیں۔ ہماری سمجھ میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ آخر یہ سیدھے سادھے ، پھٹے پرانے کپڑوں میں رہنے والے سادھو، سنت کیسے شاطر چالاک یا بچوں کے چور ہو سکتے ہیں، لیکن اس وقت بھی یہ اندھ وشواس بہت زیادہ تھا اور بھولی بھالی معصوم عورتیں ان پر یقین کر کے کبھی ان کو اپنا زیور دگنا کرانے کے نام پر یا کبھی شوہر، ساس کے مظالم سے چھٹکارہ پانے کے نام پر ٹھگی جاتی تھیں۔

Read more

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی : میڈیا کو مسلم ایشوز سے کھیلنے کا بہانہ چاہئے

کوئی بھی مسلم ایشو ہو ،میڈیا اس پر خوب کھیلتا ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ مسلم ایشو تو جیسے ان کے لئے ٹی آر پی بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ہر چینل پر مسلم چہروں کی باڑھ آجاتی ہے جو کبھی کسی پلیٹ فارم پر نہیں آئے ،چینل ان کی بھی رائے لے کر مقصد خوب پورا کرتے ہیں ۔ جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے تو چینل نے جیسے مودی بنام مسلمان کا کھلونا ہاتھ میں لے لیا ہے اور اسی سے رات دن کھیل رہے ہیں اور اب ایسا ہی ایک ایشو میڈیا کو مل گیا ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری میں لڑکیوں کے داخلہ کا۔

Read more

خالد مجاہد کیس میں عدالتی فیصلہ: ’چوتھی دنیا‘کے اندیشے کی تصدیق

کچھ ایشوز ایسے ہیں جن پر ’’ چوتھی دنیا‘‘ ہی ہمیشہ آواز اٹھا تا رہا ہے اور اس نے ان ایشوز کو نہ مرنے دیا نہ ہی دبنے دیا۔حالانکہ گزرتے وقت کے ساتھ میڈیا اور حکومت نے ان کو بھلا دیا لیکن ’’ چوتھی دنیا‘‘ کی کاوشیں جاری رہیں ۔میرٹھ کے ملیانہ ،ہاشم پورہ کا معاملہ ہو یا کوئلہ گھوٹالہ،رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ ہو یا پھر بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ ۔اس معاملے کو بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے تاکہ وقت کی گرد ان کو مٹانہ دے اور مظلومین بغیر انصاف پائے وقت کے بے رحم مزاج کی نذر نہ ہوجائیں۔

Read more

کشمیریوں کے لئے کہیں عذاب نہ بن جائے اسمبلی الیکشن

ہندوستان کی سیاست میں ہر دن نئے موڑ آتے رہتے ہیں۔ کبھی ہریانہ کا وزیر اعلیٰ مسند نشیں ہوتا ہے اور کبھی مہاراشٹر کا، اور اسی کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل بھی اپنے دائرہ میںکام کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں ریاستی اسمبلی کے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان بھی کردیا ہے۔ 5مراحل میں مکمل ہونے والا یہ الیکشن کیا رخ لے گا؟سیاست کا کون سا مُہرہ کیسے کام کرے گا ؟کون جیتے گا اور کون ہارے گا ؟یہ سب تو بعد کی بات ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا اس وقت جبکہ ریاست جموں و کشمیر صدی کے سب سے بھیانک سیلاب میں سب کچھ لٹا کر نکلی ہے ۔کیا اس وقت اسمبلی الیکشن ہونا صحیح

Read more

میری دلی، میری شان، سفل رہے سوچھ ابھیان

دو اکتوبر یعنی گاندھی جینتی کے دن سے نریندر مودی نے ’کلین انڈیا‘یا ’سَوَچھ ابھیان‘ شروع کیا ہے۔ اس’ سوچھ ابھیان‘ کو لے کر لگاتار تعریف و تنقید کی جارہی ہے۔کانگریسی لیڈر اس کو گاندھی جی کی اہمیت ختم ہونے اور مودی کو اپنی شبیہ مضبوط بنانے سے تعبیر کر رہے ہیں تو دوسری پارٹیوں کے لیڈران اس کو ڈرامہ کہہ رہے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ’سوچھ ابھیان ‘ کے ذریعے پورے ملک کے فوٹو گرافرز کے مزے آگئے ہیں۔سرکاری محکموں میں ’کلین انڈیا‘ کے نام پر خوب موج مستی ہوئی اور فوٹو کھنچوائے گئے ۔صاف ستھری سڑکوں پر زبردست پوز دے کر فوٹو گرافی ہوئی ۔ خوبصورت اور اورنج اور کالی دھاری والی ساڑی میں سمرتی ایرانی ایک میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ چمکتی صاف سڑک پر جھاڑو لگاتی نظر آئیں ۔ خود مودی جی اسکائی بلیو کرتے اور سفید بے داغ پائجامہ میں جھاڑو لگارہے تھے، یہ جانے بغیر کہ جو لوگ گندگی صاف کرتے ہیں ان کو سفید چمکتا ہوا پائجامہ پہننا ہی نصیب نہیں ہوتا ۔روی شنکر پرساد ، مرکزی ٹیلی کام وزیر بھی سفید کرتا پائجامہ میں ایک ماربل والے پتھر کے فرش پر جھاڑو لگا رہے تھے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا کے چیئر مین جسٹس کاٹجو جو کبھی کسی دکھاوے یا ڈرامہ کا حصہ نہیں بنتے ،ان کے ہاتھ میں بھی ایک جھاڑو تھی اور چہرے پر مسکراہٹ۔ غرضیکہ سبھی بی جے پی لیڈران پرکاش جائوڈیکر ،ہرسمرت کور بادل، نجمہ ہپت اللہ سب خوشی خوشی جھاڑو لے کر فوٹو کھنچواتے رہے اور گندگی کے انبار جہاں تھے وہیں لگے رہے۔

Read more

چین دراندازی روکے اور ایمانداری برتے تبھی دوستی ممکن

یہ مہینہ ہندوستان میں سفارتی سرگرمیوں کا مہینہ رہا ہے۔ویسے تو نریندر مودی جب سے وزیر اعظم بنے ہیں، سفارتی تعلقات کو لے کر خوب ہی سرخیوں میں رہے ہیں۔سارک ممالک کے سربراہان کو دعوت اور خاص طور پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو خصوصی دعوت نامہ دینے پر مودی تعریف و تنقید کا خوب نشانہ بنے لیکن جب اس مہینہ کی بات کریں تو ابتدا میں مودی جاپان کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس آئے تو اب چین کے وزیر اعظم ہندوستان تشریف لے آئے ۔ اس مہینہ کے آخیر میں نریندر مودی امریکہ جارہے ہیں اور ایسا سمجھا جارہا ہے کہ چینی صدر کے دورہ ہند اور پھر وزیر اعظم مودی کے دورہ امریکہ سے نہ صرف ہندوستان کی شبیہ دنیا کے ممالک میں بہتر ہوگی بلکہ ہمارے سفارتی تعلقات سے ایک نئی طاقت بھی ملے گی۔

Read more

یو پی میں اردو کو دوسری زبان کا درجہ: خوش ہونے کا نہیں لائحہ عمل تیار کرنے کا وقت

تمام آئینی تحفظات اور حکومت کے وعدوں کے باوجوداردو کو اس کاصحیح حق نہیں ملا ،لیکن سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال میں ہی اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے تعلق سے جو فیصلہ سنایا ہے وہ تاریخی اور بروقت ہے اور اردو کو اسکا جائز حق عطا کرتا ہے‘‘۔یہ الفاظ ہیں سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اور ماہر قانون جناب فالی ایس نریمان (Fali S Nariman)کے جو انہوں نے کانسٹی ٹیوشن کلب کے اسپیکرہال میں قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منعقد ایک خصوصی لکچرمیں کہے۔ قومی اقلیتی کمیشن نے اپنے 7ویں سالانہ لکچر 2014 میں جس شخصیت کو دعوت دی تھی،وہ بے حد قابل اور بے حد سینئر قانون داں فالی نریمان تھے اور جنہوں نے بلند و بانگ یہ الفاظ کہے اور بے حد کچھاکھچ ہال میں تالیوں کی گڑ گڑاہٹ میں انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اردو کو اب جاکر اسکا جائز حق ملا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اقلیتی کمیشن کا پروگرام تھا ،بات اردو

Read more

خطرناک بھنور میں پھنس گیا پاکستان

پاکستان پھر سے ایک بار خطرناک بھنور میں پھنس گیا ہے ۔ جانے کیسی بدقسمتی ہے اس ملک کی کہ کبھی استحکام ہی نصیب نہیں ہوتا۔ میرے بچپن سے آج تک میں نے کبھی پاکستان کو مضبوط جمہوریت کے ساتھ نہیں دیکھا۔ ہمیشہ ہی انتشار اور بدامنی اس ملک کی قسمت رہی ہے۔ ہمیں یاد ہیہمارے بچپن میں ہمارے رشتے دار پاکستان میں موجود اپنے رشتے داروں کو خط بھیجنے کے لئے کیسے کیسے دھکے کھاتے تھے۔ کبھی پاکستانی ایمبیسی کے چکر لگاتے تھے کہ کوئی آتا جاتا ہو تو اسے دے دیں ، کبھی دبئی وغیرہ جانے والوں کو خط دے دیا کرتے تھے ۔ اب سے کوئی 20سال پہلے ہمارے ایک رشتے دار کا پاکستان میں انتقال ہو گیا تو ہمیں خبر ایک مہینے بعد ملی ۔ ہمیں تو یہ بھی یاد ہے کہ اگر پاکستان میں کسی کے بے حد قریبی عزیز کا انتقال ہو جاتا تھا تو یہاں انڈیا رہ کر بھی اسی طرح اس کی پھول فاتحہ سب کی جاتی تھیں۔ جس گھر کا وہ فرد ہوتا تھا، اس گھر

Read more

پاکستان پھر سے فوجی حکومت کے نشانے پر

پندرہ اگست کو ہندوستان کا جشن آزادی تھا اور اس سے صرف ایک روز قبل یعنی 14 اگست کو پاکستان جشن آزادی مناتا ہے ۔لیکن اس مرتبہ پاکستان کے جشن آزادی پرتشویش اور خوف کے بادل منڈلاتے رہے اور پورا پاکستان دہلتا رہا۔ کیونکہ عمران خاں کی’ تحریک ِ انصاف پارٹی‘ اور طاہر القادری کی’ عوامی تحریک‘ نے مل کر نواز حکومت کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالا اور اس ریلی کا نام رکھا ’’ آزادی مارچ‘‘۔اس ریلی کی ابتدا لاہور سے ہوئی اور اس کی آخری منزل دارالحکومت اسلام آباد تھی۔ہم نے جس وقت یہ خبر یعنی 13 اگست کی رات سنی تو دل دہل گیا کہ اللہ خیر کرے،پاکستان میں ایک بار پھر فوجی حکومت دستک دے رہی ہے۔ کافی دن سے ہندوستان کے سیاسی گلیاروں میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان میں نواز حکومت کا تختہ پلٹنے کی تیاری ہے اور شاید پھر سے فوج کا قبضہ ہوجائے۔ پاکستان کی سیاست میں فوج جو بھی رول ادا کرتی ہو ،دونوں ممالک میں بسنے والوں کے دل اس طرح کی خبروں سے دہل جاتے ہیں۔ آزادی کے 67 سالوں میں یوں تو تقسیم کے بعد دونوں ممالک کے کافی عزیز و اقارب اب اس دنیا میں نہیں ہیں،لیکن ابھی بھی ہند وپاک دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے رشتہ دار رہتے ہیں ۔کسی کے دادا دادی، کسی کے چچا تایا ،کسی کے سگے بہن بھائی جن کو تقسیم نے جدا کردیاہے ،وہ سبھی لرز جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ ویسے بھی ویزا کی مشکلات بے پناہ ہیں ۔اب تو اور جانے اپنوں کی شکلیں دیکھنا نصیب ہوںگی یا نہیں۔

Read more
Page 3 of 2312345...1020...Last »