ایک کسان کی خودکشی سبھی پارٹیوں کی چاندی

سیاست ایک گندا کھیل ہے۔پر کیوں؟ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہی سوال گونجتا رہا جب تک کہ ہم شعور کی اس حد تک نہیں پہنچ گئے جب تک خود تھوڑے بہت سیاسی دائوں پینچ کھیلنے نہیں آگئے۔لیکن ہماری سیاست میں تو معصومانہ سی ایک خواہش اچھی سی نوکری اور چھوٹے موٹے عہدے تک محدود رہی۔سیاست دانوں کی عقل اور ان کے سیاسی شعور کو ہمارا دماغ کہاں پہنچ سکتا تھا بھلا۔ کیونکہ کوئی ایسا موقع ،کوئی ایسا حادثہ ،کوئی ایسا سانحہ ہمیں یاد نہیں آتا کہ ہمارے سیاست دانوں نے جس کو کیش نہیں کیا ہو۔پھر وہ ایک کسان کی موت پر کیوں خاموش بیٹھتے ۔آخر گجیندر کو کس نے مارا یہ سوال پوچھنا ایک حماقت ہی تو ہے۔

Read more

اردو دشمنی کا نیا طریقۂ کارآپ تو ایسے نہ تھے

اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے میں مرکزی حکومت مصروف ہے، یہ بیان اقلیتی امور کی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کا ہے۔ہوسکتاہے نجمہ ہپت اللہ صحیح کہہ رہی ہوں لیکن ہم ان کے اس بیان کو کیسے تسلیم کریں جبکہ اقلیتوں کے ساتھ ان کی مادری زبان کو لے کر ہی ناانصافی کی جارہی ہے۔ ایک ہی دن دو متضاد خبروں پر ہماری نظر پڑتی ہے تو نجمہ ہپت اللہ کے اس بیان میں صرف سیاسی شعبدہ بازی اور و عدے وعید کے سوا کچھ نظر نہیں آتاہے کیونکہ اس دن یہ بھی خبر ملتی ہے کہ نئے داخلہ فارم سے تیسری زبان کا آپشن ختم کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس خبر سے اردو والوں کو سخت دھکا لگا ۔مجھے یاد ہے جب میں بحیثیت اردو استاد کے درس و تدریس کے فرائض انجام دیتی

Read more

جشن ریختہ: اردو کا ایسا جشن نہ دیکھا نہ سنا

انڈیا انٹر نیشنل سینٹر کا وسیع و عریض سبزہ زار، ہلکی ہلکی سی پھوار پڑتی ہوئی، ٹھنڈی ٹھنڈی بھیگی ہوا سے درخت و پتے جھومتے ہوئے، روشنیاں، میوزک، خوبصورت ساز و آواز کا سنگم اور پورا فائونٹین لان اردو کے متوالوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا۔یہ منظر جشن ریختہ کا ہے ۔ریختہ ایک ایسے اردو کے متوالے، اردو زبان کے دیوانے کی کاوش ہے جس نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور اردو کو غیر اردو داںحضرات تک پہنچانے کے لئے جنون کی تمام حدوں کو چھولیا ہے۔ سنجیو صراف ایک ایسے ہی اردو کے عاشق کا نام ہے جس نے اپنی ریختہ فائونڈیشن کے ذریعہ اردو کی بقاء اور اردو کو عروج دینے میں منفرد کام کیا ہے۔

Read more

لو کجریوال کا بھی بھرم ٹوٹ گیا

تیس دن کی عام آدمی پارٹی کی سرکار خطوط کی سیاست، بلاگ بازی اور اسٹنگ میں الجھتی نظر آرہی ہے۔ لیڈروں کی آپسی رنجش اب سڑک پر آگئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن مسلمانوں نے اس بار پوری طرح عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور یہ سوچ کر دیا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی کا ایک اچھا متبادل مل گیا ہے، ان کو یقیناً شدید مایوسی ہوئی ہوگی، کیونکہ عام آدمی پارٹی بھی وہی جوڑ توڑ کی سیاست کر تی نظر آرہی ہے، جس کی وہ مخالفت کرتی رہی ہے۔ مسلمانوں کو کجریوال بھی ایک ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے، یہ بھی واضح ہوگیا ہے۔ مارچ کا مہینہ عام آدمی پارٹی کے لیے مصیبت بھرا پیغام لے کر آیا ہے۔ ہمیں تو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر یہ اسٹنگ صحیح ہے، تو پھر کجریوال کا بھرم ٹوٹنے کے ساتھ ہی سرکار ٹوٹنے میں بھی شاید کم ہی وقت لگے۔

Read more

ریلوے بجٹ بے حد مایوس کن

ریل ہمارے ملک میں بڑا ہی رومانی تصور پیش کرتی ہے۔ شاید ہی کوئی دوسرا اد ب ریل کا ایسا تصور پیش کرسکے جیسا کہ ہندوستانی شعراء نے کیا ہے۔ مجاز نے ریل کے چلنے،بڑھنے اور لہرانے کا غضب نقشہ کھینچا ہے جیسے کہ کوئی خوبصورت عورت ناگن کی طرح جھومتی ہوئی جارہی ہو۔کبھی وہ ریل کو محبوب سے ملنے کا ذریعہ بتاتے ہیں ،کبھی اس کے لہرانے کو محبوب کے شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں ۔
ایک زمانہ تھا جب ہم اپنے بچپن میں ریل کے سفر کے لئے بہت زیادہ بے تاب رہتے تھے اور سوچتے تھے کہ ریل کا سفر کتنا دلکش اور حسین ہوتا ہوگا۔لہلہاتے سرسبز کھیت، دریا، پل، شہر درشہر گزرنا بڑا ہی رومانٹک لگتا تھا، لیکن جب پہلی بار ریل کا سفر کیا تو ہوش اڑگئے۔ بے حد گندے غلیظ ڈبے، تعفن سے بھرے ٹوائلٹ، پان کی پیکوں سے بھرے ہوئے واش بیسن۔ سارا رومانس ہوا کے دھوئیں کی طرح اڑن چھو ہوگیا۔

Read more

دہلی کانگریس کے مسلم امیدواروں کو لے ڈوبی عدم کارکردگی

دہلی الیکشن میں ہر آدمی عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت پر حیران ہے اور سبھی اخباروں نے اپنے اپنے طریقوں سے تجزیئے اور رد عمل پیش کئے ہیں۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں صرف دہلی کے مسلم علاقوں کے ان ایم ایل ایز کے چہروں سے آپ کو واقف کراسکوں جنہوں نے 15سالوں میں بھی کوئی کام نہیں کیا اور پوری دہلی کے مسلم علاقوں کو سلم بنا کر رکھ دیا۔ ایک سال پہلے صرف کانگریس سے جیتنے والے شعیب اقبال، حسن احمد، چودھری متین، آصف محمد خاں اور ہارون یوسف ان سب کی ہار کے کیا اسباب ہوئے؟کیا اس کی وجہ عام آدمی پارٹی کی لہر تھی جیسے اب سے 10 مہینے پہلے بی جے پی کی تھی اور دہلی کی ساتوں لوک سبھا

Read more

مودی حکومت نے نکالا مسلم اداروں کو نشانہ بنانے کا خطرناک طریقہ

ہم صحافیوں کو کبھی کبھی کچھ ایسے ایشوز مل جاتے ہیں جو کسی بھی طرح درگزر نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ دہلی الیکشن کے ہنگاموں نے ایک ایسی خبر منظر عام پر آنے نہیں دی جو اقلیتوں کے تعلق سے بہت تشویشناک تھی ۔کہیں میں نے پڑھا کہ مودی حکومت مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے لئے نئے نئے طریقے اختیار کررہی ہے اور وہ بھی کوئی ڈھکے چھپے طریقوں سے نہیں بلکہ کھلم کھلا۔

Read more

ایک بار پھر مظفر پور فساد مسلمانوں پر قہر بن کر ٹوٹا

دہلی کی فضا الیکشن کے ہنگاموں سے گرمائی ہوئی ہے ۔پورا میڈیا صرف کرن بیدی ،کجریوال اور اجے ماکن اور ان کے ترجمان سے انٹرویو کرنے اور بحث و مباحثہ میں لگا ہوا ہے ۔کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس ہندوستان کی بے حد اہم ریاست بہار کے عزیز پور میں شر پسندوں کے ہاتھوں آدھے درجن مسلمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ہندی ،انگریزی اردو اخبارات نے تو اس پر کافی کچھ لکھا لیکن الکٹرانک میڈیا خاموش رہا اور شور مچا تو صرف سیاسی بازی گروں پر ہر چینل میں پرائم ٹائم،سوپر پرائم ٹائم ، مختلف Debats لگاتار دہلی کے الیکشن پر ٹی آر پی بڑھانے کا عمل جاری رہا۔ بہار کے مظفر پور ضلع کے عزیز پور میں ایک گائوں جل کر ملبہ اور راکھ کا ڈھیر بن گیا ۔ہر بار جب بھی کہیں فساد ہوتا ہے تب مجھے سعادت حسن منٹو کا افسانچہ ’فساد کیسے ہوا‘یاد آجاتا ہے۔جس میں صرف ایک پتھر کہیں سے آجانے پر فساد ہوجاتاہے اور جب پورا شہر فساد کی آگ مں جل جاتا ہے اور چاروں طرف لاشیں بکھر جاتی ہیں تب کوئی ایک ذی ہوش پوچھتا ہے ۔بھائی آخر فساد کیسے ہوا؟اور تب ایک چشم دید گواہ بتاتا ہے کہ صرف ایک پتھر کہیں سے آکر گرا اور فساد ایسے ہوا؟۔

Read more

انا کے بچے کام پر لگ گئے

ایک کارٹون پر نظر پڑی جو کہ مشہور کارٹونسٹ نیلبھ ٹوسن کا تھا جس میں کجریوال اور کرن بیدی پریس کانفرنس کررہے ہیں اور سیاست میں داخل ہورہے ہیں، وہیں دوسری طرف انا ہزار ے خاموش کھڑے ہیں ۔اس کارٹون کا عنوان بھی یہی تھا کہ ’کجریوال اور کرن بیدی سیاست میں داخل ہو گئے اور انا اکیلے کھڑے رہ گئے‘۔

Read more

فرانس دہشت گردانہ حملہ ,اسلامی عمل تو ہر گز نہیں ہو سکتا ہے

ایک صحافی سے ایک شخص نے ایک عام سا سوال کیا کہ کون سی کار سب سے اچھی جدید ٹکنالوجی سے لیس ہے۔ صحافی نے جواب دیا ’’اولس رائس‘‘ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اسی کار کے بہترین ہونے کے کئی ثبوت بھی پیش کئے کہ جدید مشینری اور جدید آلات سے سجی ہوئی یہ کار یقینا بہترین کہی جاسکتی ہے۔اسی شخص نے پھر سوال کیا کہ اگر یہ کار کسی ناتجربہ کار ڈرائیور کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے اور حادثہ کا شکار ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ صحافی نے جواب دیا یقینا ڈرائیور ہی ذمہ دار ہوگا ۔اس شخص نے پھر سوال کیا کہ پھر اس روئے زمین پر اسلام کو کیوں بدنام کیا جارہا ہے جبکہ ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اس مذہب پر جان دینے

Read more