وسیم راشد
لیجئے ’چوتھی دنیا‘ اردو کا 100 واں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے یعنی تقریباً 2 سال سے ہم ہر ہفتے کچھ اہم اور اچھوتے ایشوز کے ساتھ آپ کے ذہن و دل پر دستک دیتے رہے ہیں۔ اب اس میں ہمیں کتنی کامیابی ملی ہے اس کا فیصلہ تو آپ ہی کر سکتے ہیں مگر اردو صحافت کی جو تاریخ رہی ہے اور جس طرح اردو صحافت نے مختلف ادوار میں اہم رول ادا کیا ہے اس پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ ہم نے اردو صحافت کی ذمہ داری ایمانداری سے پوری کرنے کی کوشش کی ہ
وسیم راشد
آج جب اپنا ایڈیٹوریل لکھنے بیٹھی تو جانے کیوں بار بار یہ شعر ذہن پر دستک دے رہا ہے کہ:
حاکم وقت اتر آیا ہے ادا کاری پر
لوگ مجبور ہیں ظالم ک
وسیم راشد
جو جماعت اپنی شکست سے عبرت حاصل کرتی ہے، شکست کے اسباب پر غور کرتی ہے اور اپنی کمزوریوں کو تلاش کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتی ہے اس جماعت کا مستقبل تابناک ہوتا ہے۔یہی کمزوری اور شکست آنے والے دنوں میں اس کے لئے جیت اور کامیابی کا راز بن جاتی ہے مگر جو جماعت اپنی کمزوریوں پرغور نہیں کرتی، ہار کے اسباب کو نظر انداز کردیتی ہے ایسی جماعت کا مستقبل تاریکیوں میں ڈوب جاتاہے۔ یہی کچھ حال ہے اس
وسیم راشد
دو ملک ایک تہذیب،دو ملک ایک لائن سرحد کی، دو ملک زبان ایک رسم الخط ایک، دو ملک آب و ہوا ایک، کتنی عجیب کہانی ہے یہ دو ملکوں کی جنہیں ہندوستان پاکستان کہا جاتا ہے۔میں بچپن سے سوچتی تھی کہ اگر ان دو ملکوں کا نام مذہب کی بنیاد پر رکھا گیا ہے یعنی اگر ہندوستان کو ہندوئوں کے رہنے کی وجہ سے’ ہندو استھان ‘ کو
وسیم راشد
حکومت ہند کی طرف سے حاجیوں کو دی جانے والی حج سبسڈی کا شرعی و قانونی جوازکیا ہے اس پر کافی دنوں سے علماء کرام اور دانشوران ملت کی طرف سے الگ الگ رائے دی جا رہی ہے۔یہ سبسڈی سفرِ حج پر جانے والوں کو حکومت ہند کی طرف سے دی جاتی ہے جس کا فیصلہ 1993 میں لیا گیا تھا۔حکومت 1994 سے فی عازم 12 ہزار روپے انڈین ایئر لائنز کو اداکررہی ہے البتہ گزشتہ سال ایک لاکھ 25 ہزار عازمین کے لئے 16 ہزار روپے فی
وسیم راشد
ان پڑھ جاہل ، پچھڑی ہوئی قوم ، پسماندہ قوم، مسلم مائنورٹی اور ان کا پچھڑا پن،مسلمان دلتوں سے بھی زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں‘‘ ۔یہ سب وہ تمام القاب اور جملے ہیں جو اکثر مسلمانوں کے تعلق سے سالوں سے سننے میں آرہے ہیں، مگر کیسی بد قسمتی ہے اس قوم کی کہ اسے بے شمار مذہبی، سیاسی رہنما ملے اور یہ قوم سب کی وفا دار رہی۔ سب کی طرف امید و آس بھری نظروں سے تکتی رہی لیکن اس قوم کی فلاح کا کام کسی نے نہیں کیا۔ جنہوں نے
وسیم راشد مسلمانوں کے کچھ ایسے عائلی مسائل ہیں جو شریعت اسلامیہ کے مطابق حل کیے جاتے ہیں۔ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوری ملک میں کچھ ایسے عائلی قانون ہوتے ہیں جو مذہب کے مزاج سے میل نہیں کھاتے ہیں۔اس لئے ملک کے مسلمان اپنے شرعی معاملات کو مسلم پرسنل لاء بورڈ میں لے [...]
پہلے ریل بجٹ اور پھر عام بجٹ اور پھر بجٹ پر بحث۔یہ ہر سال ہوتا ہے جب پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ ہر سال بجٹ عام انسان کے لئے پریشانیوں اور دکھ کے سوا کچھ نہیں لے کر آتا۔ غریب اور غریب ہوتا جاتا ہے اور امیر کو تو اس بجٹ سے کچھ فرق ہی نہیں پڑتا ۔بھلا جس کی پونجی کا کوئی حساب ہی نہ ہو ،اس پر بجٹ جیسی معمولی چیز کا کیا اثر پڑے گا۔ اب مایاوتی ایک سال میں دگنی
صحافیوں کو عام لو گ نہ جانے کیا سمجھتے ہیں ۔شاید انہیں لگتا ہے کہ صحافی سب کچھ جانتے ہیں کیا ہونے والا ہے؟کب ہونے والا ہے؟اور کیوں ہونے والا ہے؟یوپی الیکشن کے نتائج آنے سے پہلے صحافیوں سے بار بار یہ سوال کیا جارہا تھا کہ کون سی پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی۔ جب ان سوالات کا جواب دے دیا گیا اور وہ سبھی اندازے غلط ثابت ہوئے تو اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا یو پی اے حکومت 2014 تک رہ پائے گی ۔ یہ بھی وقت بتا دے گا م
وسیم راشد
پی اے سی کی گولیاں، خاک و خون میں لتھڑی لاشیں،سسکتی ہوئی کنواریاں،بلکتی ہوئی بیوائیں۔یہ ہے 25 سال پہلے کا میرٹھ، ملیانہ ہاشم پورہ کا منظر،مگر کیا یہ منظر کسی بھی فساد میں بدل جاتا ہے۔ کیا ہمیشہ ہی فسادات میں گھروں میں آگ نہیں لگائی جاتی ۔کیا فسادات میں ہمیشہ ہی عورتو ں کی عصمت دری نہیں کی جاتی۔ ہر فساد ایسا ہی بھیانک مناظر لے کر آتا ہے اور س کے اثرات صدیوں باقی رہتے ہیں۔ میرٹھ ملیانہ ، ہاشم پورہ ، گجرات ، گوپال گڑھ س