کامیابی کی راہ پر میرٹھ میل

اتر پردیش کا میرٹھ شہر عالمی سطح کے کھیل آلات کی صنعت کے لئے دنیا بھر میں مشہور رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ جگہ کھلاڑیوں کی وجہ سے بھی مشہور ہونے لگا ہے۔ سب سے پہلے ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہو کر پروین کمار نے میرٹھ کو قومی سطح پر پہچان دلائی۔ اس کے بعد پروین کی وراثت کو آگے لے کر چل رہے نوجوان گیند باز بھونیشور کمار ان سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔ اس سال کے آئی سی سی ایوارڈس میں بھونیشور کمار کو ایل جی پیپلز چوائس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ بھونیشور یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی ہیں۔ 2010میں شروع ہوا یہ ایوارڈ سب سے پہلے سچن تیندولکر کو دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سری لنکا کے سابق کپتان کمار سنگاکارا نے مسلسل دو بار (2011اور 2012) میں یہ انعام جیتا۔ گزشتہ سال یہ ایوارڈ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو دیا گیا تھا۔ بھونیشور کمار نے اس ایوارڈ کی دوڑ میں شامل آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے تجربہ کار گیند بازوں مشیل جانسن اور ڈیل اسٹین کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس ایوارڈ کی دوڑ میں انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان چارلیٹ ایڈورڈ اور سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز بھی شامل تھے۔

Read more

دھیان چند سے پہلے سچن کو بھارت رتن کیوں؟

سال 2011 میں بھارت رتن دیے جانے کے ضابطوں میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ جس فیلڈ کے لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے، اس میں بھی کچھ بنیادی تبدیلی کی گئی تھی۔ جس وقت سرکار نے یہ قدم اٹھایا تھا، اس وقت یہ امید جگی تھی کہ ہاکی کے جادوگر میجر دھیان چند کو بھارت رتن ملنے کا راستہ اب صاف ہو جائے گا اور جلد ہی وہ بھارت رتن سے سرفراز ہونے والے پہلے کھلاڑی ہوں گے۔ ایسا لوگوں کا اس لیے بھی ماننا تھا، کیوں کہ دھیان چند ملک کے ایسے پہلے کھلاڑی تھے، جنہوں نے صرف ملک میں ہی نہیں، بلکہ ملک سے باہر بھی کافی شہرت حاصل کی تھی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستان کو آزادی سے پہلے دنیا میں اعزاز دلانے والے

Read more

آئی پی ایل فکسنگ کا معاملہ : کرکٹ کے ڈی این اے سے کھلواڑ

ہندوستانی کرکٹ اپنے سب سے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ وہ ایک ایسے دوراہے پر آ کر کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایک راستہ بے پناہ دولت اور عیش و عشرت کی طرف لے جاتا ہے ، وہیں دوسرا کرکٹ کے وجود اور اس کی جینٹل مین گیمس والی شبیہ کی طرف، لیکن بی سی سی آئی کے اعلیٰ افسران کو کھیل اور کھلاڑیوں کی فکر نہیں ہے۔ بی سی سی آئی صدر این سری نواسن سمیت بی سی سی آئی کا کوئی بھی ممبر یہ نہیں چالتا کہ کرکٹ صحیح راستے پر چلے اور پھل پھولے۔قابل مبارکباد ہے کہ سپریم کورٹ جس نے بہار کرکٹ ایسو سی ایشن کے سکریٹری آدتیہ ورما کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جج کی صدارت والی تین ارکان والی کمیٹی کو سونپی، جس نے اپنی رپورٹ میں این سری نواسن سمیت 13دیگر لوگوں کے خلاف سنگین الزامات عائد ہوئے، جس میں قومی ٹیم کے لئے کھیل چکے 6کھلاڑیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

Read more

آئی پی ایل میں مسلم کھلاڑیوں کی نمائندگی کم

آئی پی ایل یعنی انڈین پریمئر لیگ جیسے جیسے اپنے عروج پر پہنچتا جا رہا ہے ، ویسے ویسے اس میں مسلم کرکٹروں کی نمائندگی کم ہوتی جا رہی ہے۔ سال 2008سے لے کر اب تک ساتویں سیزن تک ہر سیزن میں مسلم کرکٹرس کی نمائندگی میں بھاری کمی آئی ہے۔اگر مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی والی چنئی سپر کنگ کی بات کریں تو اس میں ایک بھی مسلم کرکٹر شامل نہیں ہے۔اسی طرح اگر وجے مالیا کی روئل چیلنجر بنگلورفرنچائزی کی بات کریں تو اس بار اس میں ایک مسلم کرکٹر شاداب جکاتی شامل ہیں۔ حالانکہ پچھلے سیزن میں ان کی ٹیم محمد کیف شامل تھے ، لیکن انہیں کھیلنے کا بہت کم موقع دیا گیا تھا، لیکن اس بار پوری طرح باہر کر دیا گیا ہے

Read more

سپریم کورٹ کےنرغے میںسری نواسن کا سامراج

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے بی سی سی آئی کے صدر این سرینواسن پر سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ صاف شفاف تحقیقی کی تکمیل کے لئے سری نواسن پہلے اپنے صدارتی عہدے سے مستعفی ہوں تاکہ تفتیشی غیر جانبدارانہ اور ایماندارانہ طریقہ سے مکمل کی جا سکے۔دراصل اس تبصرے سے کئی اشارے ملتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ اگر سری نواسن تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوت پائے جاتے ہیں تو ان کے داماد، چنئی سپر کنگ ٹیم اور ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی تک اس کے نرغے میں ہوں گے اور دنیائے کھیل میں کرکٹ کی شبیہ داغدار ہوگی۔

Read more

آئی سی سی کی تیسرے امپائر کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی

کرکٹ کی دنیا میں امپائروں کے فیصلوں کو لے کر ہمیشہ سے تنازعے پیدا ہوتے رہے ہیں۔ خصوصاً اس وقت جب دو کٹر حریف مثلاً ہندوستان ، پاکستان ، انگلینڈ آسٹریلیا یا دیگر ٹیموں کے درمیان کانٹے کی ٹکر چل رہی ہو۔ایسی صورت میں امپائر کے ایک غلط فیصلہ کی وجہ سے کھیل کا پورا رخ ہی بدل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں غلط فیصلے کا شکار ہوئے کھلاڑی کے پاس بھڑکنے اور غصہ کرنے کے علاوہ دیگر کوئی راستہ نہیں ہوتا ہے۔ کسی بھی طرح کے تنازعہ کی صورتحال سے بچنے اور رن آئوٹ اور اسٹمپنگ کے نزدیکی فیصلوں کو

Read more

ہندوستان پر کیوں مہربان ہے فیفا؟

ہندوستان آج ایک اسپورٹنگ نیشن کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کرکٹ کے علاوہ یہاں دیگر کھیل بھی دھیرے دھیرے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، لیکن دنیا کے سب سے مقبول ترین کھیل یعنی فٹبال کی پوزیشن یہاں جوں کی توں برقرار ہے۔ روایتی طور پر ہندوستان میں جن مقامات پر فٹبال کھیلی جاتی رہی ہے، ان جگہوں کو چھوڑ دیں تو فٹبال گلیوں ،محلوںمیں کھیلے جانے والے کھیل میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکا کیونکہ یہاں اس کا سیدھا مقابلہ کرکٹ سے رہا ہے۔ ہندوستان میں فٹبال کو مقبول بنانے کی سمت میں فٹبال کے سب سے بڑے ادارے

Read more

فیفا ورلڈ کپ 2014۔کون منائے گا سانبا کےساتھ جشن

فیفا ورلڈکپ کے انعقاد میں چھ ماہ رہ گئے ہیںجو 12جون سے 13جولائی تک برازیل میں کھیل جائے گا۔ اروگوے کے کولیفائی کرتے ہی عالمی کپ میں کھیلنے والی 32ٹیموں کی لائن اپ طے ہو گئی ہے۔ اس کے بعد عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے نام کو لے کر پیش گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ فی الحال آکٹوپس پال کی طرح کسی نے بھی کسی ایک ٹیم کے فاتح بننے کی پیش گوئی نہیں کی ہے، لیکن لوگوں کی قیاس آرائیاں گھوم پھر کر کچھ ٹیموں کے ارد گرد آکررک جاتی ہیں۔ حال ہی میں ارجنٹینا کے اسٹار اسٹرائکر لایونیل میسی نے فاتح ٹیم کو لے کر اپنا

Read more

سچن کا دنیائے کرکٹ کو آخری سلام

میرے عزیز دوستوں ، مجھے بات کرنے دیں ، نہیں تو میں اور جذباتی ہو جائوں گا۔ یقین کر پانا بے حد مشکل ہے کہ 22گز کے درمیان میرا 24سال کا بہترین سفر ختم ہو گیا ہے، لیکن اس موقع پر میں ان سبھی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جنھوں نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ زندگی میں پہلی بار میرے ہاتھ میں ایک فہرست ہے تاکہ میں کسی کا نام نہ بھولوں، اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میرے لئے آج بات کرنا تھوڑا مشکل ہے، لیکن میں سنبھال لوں گا۔ میرے والد محترم میرے لئے سب سے اہم شخص ہیں، 1999میں ان

Read more

ٹیم انڈیا میں مستقبل کے ہیرو

سچن تیندولکر بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ چکے ہیں۔ ان کے آخری ٹیسٹ سے قبل ہندوستانی کھلاڑیوں نے جس طرح کا کھیل دکھایا، اس سے سچن کے لئے کرکٹ کو الوداع کہنا مزید آسان ہو گیا۔ وراٹ کوہلی، روہت شرما، شکھن دھون اور کپتان مہندر سنگھ دھونی جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم کا مستقبل اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ سچن کی وراثت کو سنبھالنے والے بیشتر کھلاڑی وہ ہیں، جنھوں نے سچن کے کرکٹ میں بڑھتے قد کے ساتھ کرکٹ کے گر سچن کو کھیلتے دیکھ کر سیکھے اور ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی خوش قسمتی حاصل کی۔دو دہائیوںتک ہندوستانی کرکٹ کا اہم حصہ رہے سچن دراوڑ، گانگولی، لکشمن، کنبلے کی عمارت کے سچن آخری

Read more