ہندوستان میں ایتھلیٹ کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے

ملک کے جانے مانے کوچ جے ایس بھاٹیہ بولے،’’ کھیلوں کواب کھلاڑیوں نے سرکاری نوکری پانے کا ذریعہ بنالیاہے۔ کھلاڑیوںمیںجیتنے کی بھوک نہیں دکھائی دیتی۔ صرف اولمپک کھیل کھیلنے سے بڑی کھلاڑی نہیںبنتے ہیں۔ ملک میںایتھلیٹ کی ترقی کا کوئی منصوبہ ہی نہیںہے۔ پیسے خرچ کرکے میڈل تھوڑے ملتے ہیں۔‘‘ اپنے زمانے کے مشہور رنر گلاب چند نے کہا، ’’ہندوستان میں کھیلوں کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ صلاحیتیں نچلی سطح پر تلاش کرنی ہوںگی۔ غیر ملکوں کے مقابلے میں ہندوستان میںٹریننگ زیرو ہے۔ سہولت اور پیسوں کے فقدان میںہندوستانی صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں۔

Read more

کرکٹ میں تاریخ ساز ریکارڈ بنانے والے لٹل ماسٹر نہیں رہے

اپنے شاندارکھیل اور تاریخ ساز ریکارڈز کی بدولت لٹل ماسٹر کا خطاب پانے والے پاکستان کرکٹ کے عظیم ترین بلے باز حنیف محمد خاں 81 سال کی عمر میں اس دار فانی سے 11 اگست کو رخصت ہوگئے۔ مرحوم کافی عرصہ سے بستر علالت پر تھے۔ 2013 میں ان کی لندن میں سرجری ہوئی اور وہ ٹھیک بھی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں انھیں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی، جس کی وجہ سے انھیں سانس آنے میں دشواری ہورہی تھی ۔ گزشتہ دنوں ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی، تو انھیں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں کئی دنوں تک وہ موت اور زندگی کی کشمکش میںمبتلا رہے۔ بالآخر وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔

Read more

لوکیش راہل میں ٹیسٹ کرکٹر بننے کا دم

انڈین کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر ہے۔ٹیم انڈیا کی نوجوان ٹیم ویسٹ انڈیز جیسی کمزور ٹیم کے سامنے رنوں کا پہاڑ کھڑا کر رہی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں وراٹ اور اشون کا جلوہ دیکھنے کو ملا تو دوسرے ٹیسٹ میں لوکیش راہل کا بلہ بھی خوب چلا۔ پہلی اننگز میں سنچری لگا کر راہل نے ٹیم انڈیا میں اپنی جگہ کو اور مضبوطی دی ہے،حال کے دنوں میں ان کا فارم غضب کا رہاہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں راہل کی ابتدا امید کے مطابق نہیں ہوئی تھی اور وہ کنگاروئوں کے خلاف سپر فلاپ رہے تھے۔ آسٹریلیا کے خلاف اس مقابلے میں راہل نے پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں ایک رن بنایا تھا۔ ان کی ا س کارکردگی کو لے کر کئی سوال کھڑے کئے گئے تھے۔ اتنا ہی نہیں راہل کے آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میںشاٹ سلیکشن کو لے کر بھی انگلی اٹھی تھی، لیکن اس کے بعد لوکیش راہل ٹیسٹ کرکٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے اب تک تین سنچری لگا چکے ہیں۔ ان کی کارکردگی میں لگاتار سدھار ہورہا ہے ۔ یہ انڈین کرکٹ کے لئے بے حد اچھی خبر ہے۔

Read more

انسانی لالچ کا انجام ہے سیلاب

پانی ۔۔۔پانی ۔۔۔ جہاں تک دیکھیے، ہر طرف ہلورے لیتا پانی کابہاؤ۔ سیلاب میں ڈوبتے ٹیلے کی طرح چمکتے گاؤں،پانی میںبہتے جانور اور دیگر جان و مال۔ سرپر گرہستی کا سامان رکھ کر کچھ بچالینے کی جدوجہد میںپانی کے تیز بہاؤ سے نبردآزما کسان۔ کم و بیش ملک کے کچھ حصوں میںہر سال سیلاب کا ایسا ہی دل دہلانے والا منظر ہوتا ہے، لیکن ان میں کچھ بدنصیب عورتیں بچوں کو گود میں لیے پانی میں سما جاتی ہیں۔ سیلاب کا پانی اترجانے پربھی مصیبت کم نہیں ہوتی، پانی سے پیدا ہونے والی وبائی بیماریاں، قحط او رنہ جانے کتنی ڈھیر ساری مصیبتیں۔

Read more

دھونی نے بطور کپتان بیرون ملک پہلی سویپ کی

ٹیم انڈیا نے تیسرے ونڈے میںزمبابوے کو 10 وکٹ سے ہراکر 3-0 سے ونڈے سیریز پر قبضہ کرلیا۔ سب سے اہم بات یہ رہی کہ مہندر سنگھ دھونی نے بطور کپتان پہلی بار بیرون ملک میںکلین سویپ کی اوراسی کے ساتھ ان کی کپتانی پر اٹھ رہے سوالوں پر بھی فی الحال بریک لگ گئے۔
دھونی نے میدان پر شاندار واپسی کی ہے اور اپنیناقدین کو منہ توڑ جواب دیاہے۔ زمبابوے سیریز سے پہلے دھونی کی ونڈے کپتانی پر خطرہ منڈلارہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ کوئی ونڈے سیریز نہیں جیت پائے تھے۔ زمبابوے میں نوجوان ٹیم کے ساتھ انھوں نے واپسی کی۔ حالانکہ انھیں بلے بازی کا موقع نہیں ملا، لیکن اپنی کپتانی اوروکٹ کیپنگ میں انھوںنے کمال کرکے دکھادیا۔ دھونی نے زمبابوے کو 3-0 سے ونڈے سیریز میں ہرایا اور بطور کپتان انھوں نے پہلی بار بیرون ملک کسی ٹیم کا کلین سویپ کیا۔

Read more

اس بار اولمپک میں میڈل جیتیں گے پیس

ہندوستانی ٹینس کی دنیا میں لیئنڈر پیس ایک یسا نام ہے، جو لگاتار کامیابی کی نئی نئی عبارتیںلکھ رہا ہے۔ 42 سال کی عمر میںلیئنڈر پیس کورٹ پر 24 سال کے جوان سے زیادہ پھرتیلے دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی ٹینس میںسب سے عمر دراز کھلاڑی ہونے کے باوجود پیس نے فرینچ اوپن میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارٹینا ہنگس کے ساتھ مل کر مکسڈ ڈبل کا خطاب اپنے نام کیا۔ ہندوستانی کھیل کی دنیا میں لیئنڈر پیس کا قد لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ کرکٹ میںجو مقام سچن تیندولکر کا ہے، وہی مقام ٹینس میںلیئنڈر پیس کا ہے۔

Read more

ورلڈ چمپئن ویسٹ انڈیز

ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی بریوو نے جب ’چمپئن چمپئن‘ گیت لکھا، اس وقت انھوںنے خواب میںبھی نہیں سوچا ہوگا کہ یہ گیت ویسٹ انڈیز کی ٹی 20- ورلڈ کپ جیت کا فتح گیت بن کر تاریخ کے صفحات میں درج ہوجائے گا۔ کارلوس بریتھویٹ کے بلے سے جیت کا چھکا لگتے ہی ساری دنیا ’چمپئن چمپئن‘ گیت کی دھن کے ساتھ جشن میںڈوب گئی۔ کیربیائی آل راؤنڈر کارلوس بریتھویٹ نے انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل میںچار چھکے جڑ کر کولکاتا کے ایڈین گارڈن میںتاریخ رقم کی اور ویسٹ انڈیز کودوسری بار فٹافٹ کرکٹ کا بادشاہ بنا دیا۔ یہ سال کیربیائی کرکٹ کے لیے کامیابیوں کا سال ہے۔ 49دن میں ویسٹ انڈیز ٹیم تین بار ورلڈ چمپئن بنی۔ سب سے پہلے ویسٹ انڈیز کی انڈر 19- ٹیم بنگلہ دیش میںہندوستان کوہراکر ورلڈ چمپئن بنی۔ اس کے بعد 3 اپریل کی شام کو اسٹیفنی ٹیلر کی قیادت والی خواتین کرکٹ ٹیم نے پچھلی تین بار کی ورلڈ چمپئن آسٹریلیا کے وجے رتھ کو روک کر ٹی 20- ورلڈ کپ پر پہلی بار قبضہ کیا۔ اس کے بعد باری تھی مردوںکی، جنھوںنے بڑے ہی بے خوف اور دھماکے دار انداز میںانگلینڈ کو چار وکٹ سے مات دے کر اس کے دوسری بار ٹی 20- ورلڈکپ جیتنے کے خواب پر پانی پھیر دیا۔

Read more

کامیابی کی راہ پر میرٹھ میل

اتر پردیش کا میرٹھ شہر عالمی سطح کے کھیل آلات کی صنعت کے لئے دنیا بھر میں مشہور رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ جگہ کھلاڑیوں کی وجہ سے بھی مشہور ہونے لگا ہے۔ سب سے پہلے ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہو کر پروین کمار نے میرٹھ کو قومی سطح پر پہچان دلائی۔ اس کے بعد پروین کی وراثت کو آگے لے کر چل رہے نوجوان گیند باز بھونیشور کمار ان سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔ اس سال کے آئی سی سی ایوارڈس میں بھونیشور کمار کو ایل جی پیپلز چوائس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ بھونیشور یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی ہیں۔ 2010میں شروع ہوا یہ ایوارڈ سب سے پہلے سچن تیندولکر کو دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سری لنکا کے سابق کپتان کمار سنگاکارا نے مسلسل دو بار (2011اور 2012) میں یہ انعام جیتا۔ گزشتہ سال یہ ایوارڈ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو دیا گیا تھا۔ بھونیشور کمار نے اس ایوارڈ کی دوڑ میں شامل آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے تجربہ کار گیند بازوں مشیل جانسن اور ڈیل اسٹین کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس ایوارڈ کی دوڑ میں انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان چارلیٹ ایڈورڈ اور سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز بھی شامل تھے۔

Read more

دھیان چند سے پہلے سچن کو بھارت رتن کیوں؟

سال 2011 میں بھارت رتن دیے جانے کے ضابطوں میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ جس فیلڈ کے لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے، اس میں بھی کچھ بنیادی تبدیلی کی گئی تھی۔ جس وقت سرکار نے یہ قدم اٹھایا تھا، اس وقت یہ امید جگی تھی کہ ہاکی کے جادوگر میجر دھیان چند کو بھارت رتن ملنے کا راستہ اب صاف ہو جائے گا اور جلد ہی وہ بھارت رتن سے سرفراز ہونے والے پہلے کھلاڑی ہوں گے۔ ایسا لوگوں کا اس لیے بھی ماننا تھا، کیوں کہ دھیان چند ملک کے ایسے پہلے کھلاڑی تھے، جنہوں نے صرف ملک میں ہی نہیں، بلکہ ملک سے باہر بھی کافی شہرت حاصل کی تھی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستان کو آزادی سے پہلے دنیا میں اعزاز دلانے والے

Read more