ہندوستان میں ایتھلیٹ کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے

ملک کے جانے مانے کوچ جے ایس بھاٹیہ بولے،’’ کھیلوں کواب کھلاڑیوں نے سرکاری نوکری پانے کا ذریعہ بنالیاہے۔ کھلاڑیوںمیںجیتنے کی بھوک نہیں دکھائی دیتی۔ صرف اولمپک کھیل کھیلنے سے بڑی کھلاڑی نہیںبنتے ہیں۔ ملک میںایتھلیٹ کی ترقی کا کوئی منصوبہ ہی نہیںہے۔ پیسے خرچ کرکے میڈل تھوڑے ملتے ہیں۔‘‘ اپنے زمانے کے مشہور رنر گلاب چند نے کہا، ’’ہندوستان میں کھیلوں کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ صلاحیتیں نچلی سطح پر تلاش کرنی ہوںگی۔ غیر ملکوں کے مقابلے میں ہندوستان میںٹریننگ زیرو ہے۔ سہولت اور پیسوں کے فقدان میںہندوستانی صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں۔

Read more