ہندوستان میں کرکٹ کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے دنیا میں کرکٹ کے علاوہ کو ئی دوسرا کھیل ہی نہیں ہے۔یہاںکرکٹروںکو ہرطرح کی سہولتیں مہیاکرائی جاتی ہیں۔ پرائیوٹ کمپنیاں ان کے اوپر پانی کی طرح پیسہ بہاتی ہیں،ایک
سلمان علی
ٹیم انڈیا بھلے ہی ایشیا کپ کی دوڑ سے باہر ہو گئی ۔ بھلے ہی کھلاڑیوں کو یہ بات بار بار ستائے کہ ان کی بہتر کارکردگی کے باوجود وہ ایشیا کپ کا فائنل نہ کھیل سکے۔لیکن اس ٹورنمنٹ لیکن اس ٹورنامنٹ اس نے اپنے روایتی حریف پاکستان کے خلاف جیت حاصل کی اور اس تاریخی فتح کے سب سے بڑے ہیرو بن کر ابھر
کھلے گلے والی ایک چست پوشاک یقینی طور پر شطرنج جیسے دماغ کے کھیل میں مد مقابل کا دھیان بھٹکانے کے لیے کافی ہے۔ خواتین کھلاڑی اپنے مد مقابل کی توجہ ہٹانے کے لیے ایسے کپڑے پہنتی ہیں، جس سے ان کا مقابل کھلاڑی کھیل پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ اسے دیکھتے ہوئے یوروپی [...]
دوستانی ٹینس ستارے مہیش بھوپتی اور روہن بوپنا کی جوڑی نے حال میں کھلے گئے اے ٹی پی دبئی اوپن کے خطابی مقابلے میںپولینڈ کے ماریو سج فرسٹن برگ اور مارسن ماتکوواسکی کی
ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں جاری تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم انڈیا نے جیت تو حاصل کر لی، لیکن جس لمحہ کا انتظار کرکٹ شائقین کو لمبے عرصہ سے تھا اس وے وہ محروم ہی رہے۔ ہم اس لمحہ کی بات کر رہے [...]
محمد سلمان
کچھ دنوں پہلے ٹیم انڈیا نے ورلڈ کپ فتح کر کے ہندوستان کا سر فخر سے اونچا کیا ، اور ٹیم انڈیا ورلڈ چمپئن بنی۔اس وقت ٹیم انڈیا جوش، جذبہ اور اعتماد سے پرتھی۔ اس کے بعد آیاآئی پی ایل ،اس میں بھی کھلاڑیوں نے جم کر دھمال کیا اور ورلڈ کپ چمپئن بننے والے کپتان مہندر سنگھ دھونی آئی پی ایل چمپئن بھی بنے۔اس کے کچھ ہی دنوں بعد ٹیم انڈیا بغیرسینئر کھلاڑیوں کے ویسٹ انڈیز دو
محمد سلمان کچھ دنوں پہلے ٹیم انڈیا نے ورلڈ کپ فتح کر کے ہندوستان کا سر فخر سے اونچا کیا ، اور ٹیم انڈیا ورلڈ چمپئن بنی۔اس وقت ٹیم انڈیا جوش، جذبہ اور اعتماد سے پرتھی۔ اس کے بعد آیاآئی پی ایل ،اس میں بھی کھلاڑیوں نے جم کر دھمال کیا اور ورلڈ کپ چمپئن [...]
اے این شبلی
سال2007کی بات ہے۔نئی دہلی کے امبیڈکر اسٹیڈیم میں نہرو کپ فٹبال ٹورنامنٹ کھیلا جا رہا تھا۔ میڈیا باکس میں میری ساتھ والی سیٹ پر ہندوستان میں فٹبال کے انسائیکلو پیڈیا کہلانے والے نووی کپاڑیہ بھی بیٹھے تھے۔چونکہ ہندوستان میں فٹبال کی معلومات ان سے زیادہ کسی کو نہیں ہے اور وہ دنیا بھر میں فٹبال کے بڑے بڑے ٹورنامنٹوں کی کمنٹری کر چکے ہیں اس لیے میں نے ان سے پوچھا کہ سر کیا ہندوستان بھی کبھی عالمی کپ فٹبال میں کھیل سکتا ہے؟انہوں نے مجھ سے کہا، بھائی یہ اگلے50سال تک ممکن نہیں ہے۔ہندوستان اگر بائچنگ جیسا دو چار کھلاڑی پیدا کردے تو یہی ہندوستان کے لیے بڑی بات ہو جائے گی۔ کپاڑیہ صاحب نے دو بڑی باتیں کہیں،
جیسے ہی یہ خبر آئی کہ ڈائو کمپنی کو بھی لندن اولمپک کا اسپانسر بنایا گیا ہے، ہندوستان میں اس بات کو لے کر بھوپال گیس متاثرین کی تنظیم نے مخالفت شروع کردی، لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے اب تک اس مدعے پر کوئی بھی بیان نہیں آیا ہے۔ 2012 اولمپک کھیلوں میں ڈائو کیمیکلس اسٹیڈیم کے آس پاس 70 لاکھ پونڈ کے آرٹ ورک کا خرچہ اٹھائے گی اور یونین کاربائڈ ہی وہ کمپنی ہے جو 1984 میں بھوپال میں ہوئے گیس رِسائو کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی موت کے لیے ذمہ دار ہے اور جس کے صدر وارین اینڈرسن کی تلاش آج بھی جاری ہے، تاکہ اسے عدالت کے دروازے تک لایا جا سکے اور بھوپال گیس متاثرین کو انصاف ملے۔
دسمبر 1984 کی اس کالی رات نے بھوپال کو قبرستان میں بدل ڈالا تھا۔ موت کا ایک ایسا کھیل ہوا تھا، جسے بھوپال میں رہنے والے ہزاروں لوگ ابھی تک
اے این شبلی
اور اس طرح ہندوستانی کرکٹ میں تیز گیند باز ظہیر خان کی خدمات کا اعتراف کر ہی لیا گیا۔ ظہیر خان کو کرکٹ میں ان کی گرانقدر خدمات کے لیے ارجن ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس بار جن کھلاڑیوں کو ارجن ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ظہیر خان بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ہندوستان میں ایک وقت کھیلوں کے شعبہ میں دیا جانے والا ارجن ایوارڈ سب سے بڑا ایوارڈ تسلیم کیا جاتا تھا۔اب جب سے راجیو گاندھی کھیل رتن کی شروعات ہوئی ہے تب سے یہ ہندوستان میں کھیلوں کے شعبہ میں دیا جانے والا دوسرا سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ارجن ایوارڈ کی شروعات 1961میں ہوئی تھی۔تب سے لے کر اب تک متعدد کھلاڑیوں کو اس ایوارڈ سے نوازا