اس کالم کے توسط سے ہم اپنے قارئین تک حق اطلاعات سے متعلق معلومات پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ہمیں قارئین کے خطوط مسلسل موصول ہورہے ہیں۔ اس شمارے میں ہم اپنے چند قارئین کے خطوط شامل اشاعت کررہے ہیں، جن میں انہوں نے اپنے مسائل کے تعلق سے [...]
حق اطلاعات قانون کے تحت جب آپ کوئی اطلاع طلب کرتے ہیں تو کئی بار آپ سے اطلاع کے عوض پیسہ مانگا جاتا ہے۔آپ سے کہا جاتا ہے کہ مطلوبہ اطلاع اتنے صفحات کی ہے او ر فی صفحہ کی فوٹو کاپی کے حساب سے مطلوبہ رقم جمع کرائیں۔ کئی ایسے معاملے بھی سامنے آئے [...]
ہمارے پاس قارئین کے ایسے کئی خطوط آئے ہیں، جن میں بتایا گیا کہ آرٹی آئی کے استعمال کے بعد کس طرح انہیں پریشان کیا جارہا ہے یا جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر ان کا ذہنی اور مالی استحصال کیا جارہا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور آرٹی آئی قانون کے وجود میں آنے [...]
چوتھی دنیا کی آرٹی آئی مہم اب لوگوں تک پہنچنے لگی ہے۔ ہمارے قارئین اور عام لوگوں نے اپنے مسائل اب ہم سے شیئر کرنا شروع کردئے ہیں۔ اس کا ثبوت ہے ان کے ذریعہ بھیجے گئے خطوط، ایل میل اور فون کالز۔ یہی نہیں لوگ اب ہمارے دفتر میں بھی آکر ہم سے مشورے [...]
ابھی تک ہم نے آپ کو فریق ثالث اور توہین عدالت کے بارے میں بتایا کہ کیسے ان الفاظ کا غلط استعمال کرکے پبلک انفارمیشن افسر اطلاع دینے سے انکار کردیتا ہے۔ اس شمارے میں ہم آپ کو ایسے ہی ایک اور لفظ سے متعارف کرارہے ہیں۔ اس بار ہم بات کریں گے پارلیمانی خصوصی اختیارات کے بارے میں۔ کب اور کیسے پھنستا ہے پارلیمانی خصوصی اختیارات کا پیچ۔ سب سے پہلے ایک مثال کے ذریعہ اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ سے ایٹمی ڈیل کے دوران یوپی اے حکومت کو جب اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا،تو اس کے کچھ گھ
گزشتہ شمارے میں ہم نے آپ کو فریق ثالث کے بارے میں بتایا تھا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آگے سے جب کبھی بھی آپ کو پبلک انفارمیشن آفیسر کی طرف سے ایسا جواب ملے کہ فریق ثالث سے متعلق ہونے کی وجہ سے آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی جاسکتی ہیں ، تب [...]
اب تک ہم نے آپ کو آر ٹی آئی کے بیشتر پہلوؤں سے روشناس کرادیا ہے۔ مختلف موضوعات پر آرٹی آئی درخواستوں کے بارے میں بتایا اور انہیں شائع بھی کیا، لیکن ابھی تک حق اطلاعات قانون کے ایک اہم گوشے کا تذکرہ نہیں ہوا۔ کئی بار جب آپ کسی سرکاری محکمہ میں آرٹی آئی [...]
یکم اپریل کومرکزی حکومت نے حق تعلیم نام سے ایک نیا قانون لوگوں کو تحفے میں دیا تھا۔ قانون کے مطابق 6سال سے لے کر 14سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے تعلیم ان کا بنیادی حق ہوگا۔ اس قانون سے تقریباً ایک کروڑ ایسے بچوں کو فائدہ ملے گا، جو اسکول نہیں جارہے [...]
آرٹی آئی قانون میں کئی طرح کے معائنے کا بند و بست ہے۔ معائنے سے مراد ہے کہ آپ کسی بھی سرکاری محکمہ کی فائل، کسی بھی محکمہ کے ذریعہ کرائے گئے کام کا معائنہ کرسکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر آپ کے علاقے میں کوئی سڑک بنائی گئی ہے اور آپ اس کی تعمیر [...]
گزشتہشمارہ میں ہم نے راشن نظام میں ہو رہی دھاندلی اور بدعنوانی سے متعلق اپنے ایک قاری کی روداد اور اس سے متعلق آرٹی آئی کی درخواست کا خاکہ شائع کیا تھا۔ اس بار آرٹی آئی کا ہمارا یہ کالم نریگا سے متعلق ہے۔ یہ درخواست نریگا میں ہورہی (اگر واقعی ایسا ہے تو) بدعنوانی [...]