ایم پی فنڈ کے پیسوں کا کیا ہوا؟

ترقیاتی کامو ں کے لئے آپ کے ممبر پارلیمنٹ کو ہر سال کروڑوں روپے ملتے ہیں، جسے ایم پی مقامی ترقیاتی فنڈ یا ایم پی ایل ڈی کہاجاتاہے۔ اس فنڈ سے آپ کے علاقے میں مختلف ترقیاتی کام کرنے کے لئے گنجائش ہوتی ہے۔کیاآپ نے کبھی ایم پی فنڈ سے

Read more

عدالت کی توہین اور آر ٹی آئی

پچھلے شمارہ میں ہم نے آپ کو پارلیمانی استحقاق کے تعلق سے بتایا تھا۔ہم نے کچھ مثالیں دے کر یہ واضح کیا تھا کہ کئی مرتبہ جان بوجھ کر بنا کسی معقول وجہ کے بھی اطلاع کے عام کئے جانے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ تر معاملوں میں ایسا ہوتا ہے کہ پبل

Read more

جب سرکاری اسپتالوں میں دوا نہ ملے

غریبوں کے لئے مہنگا علاج کرانا یا مہنگی دوائیاں خریدنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے سرکار نے سرکاری اسپتالوں اور سرکاری ڈسپنسریوں ( دواخانہ) کا انتظام کر رکھا ہے، لیکن ملک کی کچھ ریاستوں میں سرکاری اسپتال کا نام لیتے ہی ایک بد حال سی عمارت کی تصویر ذہن میں آت

Read more

گرام سبھا کو مضبوط بنائیں

ملک کی پہچان اصل میں پنچایتی راج سسٹم کی بنیاد پر ہی ٹِکی ہے یعنی پنچایتی ادارے جتنے فعال ہوں گے ،ملک کے مضبوط ہونے کے امکانات اتنے ہی روشن ہوںگے۔گاندھی جی بھی چاہتے تھے کہ انتظامیہ کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی پنچایتی راج کے ذریعہ ہی گائووں کی ترقی ہو۔آزادی کے کچھ سالوں بعد ملک میں مقامی نظام کو مضبوط بنانے کے نام پر تین سطحی پر پنچایتی نظام قائم بھی کیا گیا۔ ضلعی سط

Read more

انفارمیشن کمیشن کے بابو

دلیپ چیرین
آر ٹی آئی کارکنوں کو ہمیشہ اس بات کی شکایت رہتی ہے کہ افسران کو ہی انفارمیشن کمشنر کیوں بنایا جاتا ہے۔2005 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کی تشکیل ہوئی لیکن اس وقت سے دیکھا جائے تو کئی انفارمیشن آفیسر،یہاں تک کہ چیف انفارمیشن کمشنر بھی سول سروس کے افسر رہے ہیں۔مثال کے طور پر وجاہت حبیبب اللہ، اے این تیواری،امیتا پال، اوپی کیجروال اور ستیندر مش

Read more

آپ کے سوال، مسائل اور حل

آپ کے سوال، مسائل اور حل
چوتھی دنیا کی آر ٹی آئی مہم عوام تک پہنچ رہی ہے۔ اس کا ثبوت ہے قارئین کے خط۔ ہمارے قارئین اور عام آدمی اپنے مسائل اب ہم سے بانٹنے لگے ہیں۔یہ اچھی بات ہے کہ ملک کا عام شہری اب بیدار ہو رہا ہے، محتاط ہے اور سوال پوچھ رہا ہے۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے، ایک صحت مند جمہوریت کے لیے۔ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح اپنا رد عمل اور مسائل سے ہمیں آگاہ کراتے رہیں گے۔اس شمارے میںہم اپنے کچھ قارئین کے خط شامل کر رہے ہیں، جن میں الگ الگ طرح کے

Read more