ہمیں قارئین کے کئی خطوط موصول ہوئے ، جن میں بتایا گیا کہ آرٹی آئی کے استعمال کے بعدکس طرح انہیں پریشان کیا گیایا جھوٹے مقدموں میں پھنساکر انکا ذہنی اور معاشی استحصال کیا گیا۔یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ آرٹی آئی جب سے وجود میں آئی ہے اس وقت سے ہی اس طرح کے معاملے [...]
پنچایت سے اطلاع نہیں ملتی:میری پنچایت، سنت نگر ،کے ہرترقیاتی پروگرام میں دھاندلی ہوتی ہے ۔ سرکاری اہلکار،پنچایت سکریٹری اور مکھیا کی ملی بھگت سے یہ سب چل رہا ہے۔ آرٹی آئی کا استعمال کرنے پر بھی اطلاع فراہم نہیں کی جارہی ہے۔چائلڈ ویلفیئر اسکیم سے م
حق اطلاع کے قانون کے تحت درخواست کی فیس یا اپیل یا فوٹو کاپی کی فیس کیا ہوگی، یہ طے کرنے کا اختیار ریاستی حکومت کو دیا گیا ہے۔ یعنی ریاستی حکومت اپنی مرضی سے یہ فیس طے کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے مختلف ریاستوں میں اطلاع کی فیس /اپیل کی فیس الگ الگ ہوتی [...]
آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت سبھی شہریوں کو اطلاع حاصل کرنے کا حق ہے، لیکن عام طور پر دیکھا جاتاہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسراطلاع فراہم کرنے میں ہزار بہانے بناتے ہیں۔ ایسے میں آخری ا
انیس احمد
ہماری سیاسی جماعتیں سول سوسائٹی کی تنظیموںکے ساتھ بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کررہی ہیں۔ بدعنوانی سے نمٹنے کے لئے وہ جن اقدام کی سفارش کررہی ہیں ان میںسخت قوانین وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط لوک پال کی تقرری بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق ان اقدام سے اگربدعنوانی ختم نہیں ہوگی تو کم از کم اتنا تو ہوگا ہی کہ اس میں کچھ کمی آئے۔ اس ضمن میںجس کو چیز لوک پا ل اور سخت قانون کے حمایتی بھول رہے ہیں وہ یہہے کہ ہ
ترقیاتی کامو ں کے لئے آپ کے ممبر پارلیمنٹ کو ہر سال کروڑوں روپے ملتے ہیں، جسے ایم پی مقامی ترقیاتی فنڈ یا ایم پی ایل ڈی کہاجاتاہے۔ اس فنڈ سے آپ کے علاقے میں مختلف ترقیاتی کام کرنے کے لئے گنجائش ہوتی ہے۔کیاآپ نے کبھی ایم پی فنڈ سے
حق اطلاعات کے قانون کو نافذ ہوئے چھ سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان چھ سالوں میںاس قانون نے عام آدمی کو پچھلے ساٹھ سال کی مجبوری سے چھٹکارا دلا دیاہے۔اس قانون نے عام آدمی کو اہل اقتدار سے سوال پوچھنے کی طاقت دی ہے، اور ہمارے نظام میں لگے بہت پرانے زنگ کو چھڑانے میں [...]
رشوت دینا جہاں ایک مجبوری بن گئی ہے وہیں کچھ لوگوں کے لئے یہ اپنا کام جلدی اور غلط طریقے سے نکلوانے کا ذریعہ بھی بن گیا ہے،لیکن ان دونوں طریقوں میں ایک فرق ہے۔ ایک طرف 2 جی اسپکٹرم کے لئے رشوت دی جاتی ہے تو دوسری طرف ایک عام اور بے بس آدمی [...]
پچھلے شمارہ میں ہم نے آپ کو پارلیمانی استحقاق کے تعلق سے بتایا تھا۔ہم نے کچھ مثالیں دے کر یہ واضح کیا تھا کہ کئی مرتبہ جان بوجھ کر بنا کسی معقول وجہ کے بھی اطلاع کے عام کئے جانے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ تر معاملوں میں ایسا ہوتا ہے کہ پبل
غریبوں کے لئے مہنگا علاج کرانا یا مہنگی دوائیاں خریدنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے سرکار نے سرکاری اسپتالوں اور سرکاری ڈسپنسریوں ( دواخانہ) کا انتظام کر رکھا ہے، لیکن ملک کی کچھ ریاستوں میں سرکاری اسپتال کا نام لیتے ہی ایک بد حال سی عمارت کی تصویر ذہن میں آت