غریبوں کے لئے مہنگا علاج کرانا یا مہنگی دوائیاں خریدنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے سرکار نے سرکاری اسپتالوں اور سرکاری ڈسپنسریوں ( دواخانہ) کا انتظام کر رکھا ہے، لیکن ملک کی کچھ ریاستوں میں سرکاری اسپتال کا نام لیتے ہی ایک بد حال سی عمارت کی تصویر ذہن میں آت
ملک کی پہچان اصل میں پنچایتی راج سسٹم کی بنیاد پر ہی ٹِکی ہے یعنی پنچایتی ادارے جتنے فعال ہوں گے ،ملک کے مضبوط ہونے کے امکانات اتنے ہی روشن ہوںگے۔گاندھی جی بھی چاہتے تھے کہ انتظامیہ کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی پنچایتی راج کے ذریعہ ہی گائووں کی ترقی ہو۔آزادی کے کچھ سالوں بعد ملک میں مقامی نظام کو مضبوط بنانے کے نام پر تین سطحی پر پنچایتی نظام قائم بھی کیا گیا۔ ضلعی سط
دلیپ چیرین
آر ٹی آئی کارکنوں کو ہمیشہ اس بات کی شکایت رہتی ہے کہ افسران کو ہی انفارمیشن کمشنر کیوں بنایا جاتا ہے۔2005 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کی تشکیل ہوئی لیکن اس وقت سے دیکھا جائے تو کئی انفارمیشن آفیسر،یہاں تک کہ چیف انفارمیشن کمشنر بھی سول سروس کے افسر رہے ہیں۔مثال کے طور پر وجاہت حبیبب اللہ، اے این تیواری،امیتا پال، اوپی کیجروال اور ستیندر مش
اس قانون سے جڑی اطلاعات ہم آپ کو مسلسل دیتے رہتے ہیں۔ اس شمارے میں ہم تذکرہ کر رہے ہیں اس قانون کے اس حصے کا، جس سے عام طور پر درخواست کنندہ کا واسطہ پڑتا ہے۔ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ کسی درخواست کنندہ کو حقِ اطلاع قانون کا استعمال کرنے پر دھمکی ملی [...]
رشوت کا جواب آر ٹی آئی۔چونکئے مت۔ یہ علاج ہے بد عنوانی اور رشوت خور ملازمین کا جو آپ سے کسی بھی کام کے عوض رشوت کی مانگ کرتے ہیں۔ہر عام یا خاص آدمی کا سابقہ کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی سرکاری محکمے سے پڑتا ہی ہے۔ چاہے وہ راشن کارڈ بنوانے کے لئے [...]
آپ کے سوال، مسائل اور حل
چوتھی دنیا کی آر ٹی آئی مہم عوام تک پہنچ رہی ہے۔ اس کا ثبوت ہے قارئین کے خط۔ ہمارے قارئین اور عام آدمی اپنے مسائل اب ہم سے بانٹنے لگے ہیں۔یہ اچھی بات ہے کہ ملک کا عام شہری اب بیدار ہو رہا ہے، محتاط ہے اور سوال پوچھ رہا ہے۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے، ایک صحت مند جمہوریت کے لیے۔ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح اپنا رد عمل اور مسائل سے ہمیں آگاہ کراتے رہیں گے۔اس شمارے میںہم اپنے کچھ قارئین کے خط شامل کر رہے ہیں، جن میں الگ الگ طرح کے
آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت سبھی شہریوں کو اطلاع پانے کا حق ہے، لیکن عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر اطلاع نہ دینے کے ہزار بہانے بناتے ہیں۔ ایسے میں آخری راستہ بچتا ہے حق اطلاع قانون کا۔ ایسی حالت میں عرضی گزارسینٹرل انفا
کئی بار پبلک انفارمیشن آفیسر کسی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں کہتا ہے کہ فلاں اطلاع تیسرے فریق سے جڑی ہے، اس لیے آپ کو نہیں دی جا سکتی یا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے یا پھر فلاں اطلاع عام کرنے سے پارلیمنٹ کی ضابطہ شکنی ہوگی، اس لیے اطلاع نہیں دی [...]
رشوت خوری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کینسر جیسی لا علاج بیماری ہے۔ بدعنوانی اور رشوت خوری جیسے لفظ کو سن کر اب کسی کو حیرت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ہمارے سماج میں شاید روز ہی پیش آنے والا ایک واقعہ بن چکا ہے۔ ہر کوئی یہ مان چکا ہے کہ اس [...]
دہلی کے پبلک اسکولوں میں غریب بچوں کا داخلہ ٹیڑھی کھیر ہے، لیکن سرکاری اسکول بھی اس معاملہ میں کم نہیں ہیں۔ دہلی حکومت کی فلاحی اسکیموں کے تحت ملنے والے وظیفے بھی کئی بار ضرورتمند طلبا و طالبات تک نہیں پہنچ پاتے ہیں، لیکن انہیں سرکاری اسکولوں کی طالبات نے حق اطلاعات قانون کا [...]