اسلام مخالف سائبر وار سے مقابلہ کرنے کے لئے عصری تعلیم ضروری

سید اسحاق گورا
اگرمدارس اسلامیہ میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا بھی انتظام ہو ، تو یہ بھی مذہب اسلام کے لیے تر قی کا باعث ہوگا۔آج ہمارے مدارس کے طلبہ مذہب کی تمام تعلیم حاصل کر لیتے ہیں،مگر دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیوی تعلیم سے غافل رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج انٹرنیٹ کے ذریعہ نہ جانے کتنے ایسے بدبخت لوگ بیٹھے ہیں جنھوں نے مذہب اسلام کو بدنام کرنا اپنا پیشہ سمجھ رکھا ہے اور نہ جانے ایسے ایسے گستاخانہ کارنامے کرتے رہتے ہیںجو مذہب اسلام کے لیے چیلنج ہیں۔ وہ دنیوی تعلیم سے غافل ہونے کی وجہ سے بے خبر ر ہتے ہیں ۔ اگر ہم کچھ دیر کے لیے مان لیں کہ مدارس سے فارغ ایک طالب علم جو مذہب کی تمام تعلیم س

Read more

صنف نازک اسلام کی نظر

محمد احمد اللہ کلیم
زمانۂ جاہلیت میںعورتوں کی حیثیت ایک گھریلو استعمال کی شے سے زیادہ نہ تھی، چوپایوں کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی، اس کو اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کاکوئی اختیار نہ تھا ، عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ وہ خود گھریلو اشیاء کی طرح مالِ وراثت سمجھی جاتی تھی، وہ مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی ، اس کی ملکیت کسی چیز پر نہ تھی اور جوچیزیں عورت کی ملکیت کہلاتی تھیں ان میں بھی مردوں کی اجازت کے بغیر کسی قسم کاتصرف کا اختیار نہ تھا، اس کے شوہر کو ہر قسم کا اختیار ہوتا تھاکہ اس کے مال کوجہاں چاہے اورجس طرح چاہے خرچ کر ڈالے ، اس کو پوچھنے کا

Read more

اخلاص کا تاج محل، دارالعلوم دیوبند

شعیب اپنے امروہی
پندرہمحرم الحرام 1283 مطابق 30مئی 1866 بروز جمعرات ہندوستان کی تاریخ اسلامی کا وہ مبارک ومسعود دن تھا جس میںسرزمین دیوبند پر علوم اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔ جس بے سروسامانی کے عالم میں یہ آغاز ہوا تھا اُسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھاکہ چند ہی سالوں میں علم شریعت کا یہ چھوٹا سا چراغ برصغیر کے افق کاایسا روشن ستارہ بن جائے گا جس کی کرنیں تمام عالم کو علوم دینیہ کے نور سے منور کردیں گی۔ حوادث بھی آئے، مخالفین کے پروپیگنڈوں سے نبر دآزمائی بھی رہی، معترضین کے اعتراضات کا نشانہ بھی بننا پڑاغرضیکہ بادِمخالف کے تھپیڑوں نے بارہا اُسے بجھان

Read more

اسلام کا نظام عدل

حکیم جاوید تحسین
انڈیا ٹوڈے میں ہائی کورٹس کے تعلق سے التوا میں پڑے مقدمات کے بارے میں حیرت انگیز رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہائی کورٹ کا ایک جج ایک سال میں تقریباً 5358مقدمات فیصل کرتاہے ۔لیکن اس کے باوجود اس وقت عدالتوں میں 234000000 مقدمات اپنے دامن سے گرد جھاڑنے میں ناکام التوا میں پڑے اپنے مقدر کا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہیں۔اگر عدالتوں میں کوئی نیا مقدمہ درج نہ کیاجائے اور موجودہ ججوں کی کل تعداد 12600 التوا میں پڑے ان مقدمات کو دن رات سنیں اور ایک سکنڈ میں ایک مقدمہ فیصل کیاجائے جو موجودہ صورت حال میں ناممکنات اور انسان کے دائرۂ خیال سے باہر کی چیز ہے تب کہیں جاک

Read more

حضرت خواجہ غریب نواز ہندوئوں اور مسلمانوں میں جذباتی یکجہتی کے پل

فیروز بخت احمد
جہاں تک چشتیہ ، نقشبندیہ ، قادریہ وغیرہ سلسلوں کا تعلق ہے ، ان تمام صوفیائے کرام کی خانقاہوں و جماعت خانوں میں ہر مذہب کے لوگ جاتے تھے اور بلا کسی قوم و فرقہ کی تفریق کے ، سبھی کے لیے لنگر تقسیم ہوا کرتا تھا۔ اجمیر میںحضرت خواجہ شیخ معین الدین چشتیؒ،دہلی میں خواجہ حضرت نظام الدین اولیائؒ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، حضرت خواجہ چراغ دہلویؒ،اجودھن میں حضرت بابا فرید ؒ ، کشمیرمیں نند رشی نور الدین ولی ؒ ، گلبرگہ میں حضرت خواجہ گیسو دراز ؒ وغیرہ سبھی وہ صوفیائے کرام تھے کہ جن کی خانقاہوں میں خیر سگالی کے پر سکون ماحول میں تعلیمات کا سلسلہ چلتا تھا اور جہاں صوفیوں ، قلندرو

Read more

عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے

مولانا ندیم الواجدی
ہمارے دانشور طبقے کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ نونہالانِ قوم کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دینی چاہیے ، اس کے بر عکس وہ اس نہج پر ضرور سوچتے ہیں کہ طلبۂ مدارس کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی ضروری ہے ۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ اب اخبارات میں صرف اسی کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ،عصری تعلیم گاہوں کی کوئی بات بھی نہیں کرتا۔ بلاشبہ دینی تعلیم کے ساتھ اگر کچھ ضروری تعلیم عصریات کی بھی ہو جائے تو ہمارے دینی مدارس دین ودنیا کے اس امتزاج کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں خدمت کر سکتے ہیں ،لیکن مدارس کی اصلاح کے چکر میں پڑ کر ہمیں ان بچوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو محض دنیوی تعلیم میں لگے ہوئے ہیں اور انہیں یا ان کے سر پرستوں ، یا ان کے ٹیچروں کوکبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ہمارے بچ

Read more

بارش کا نظام قرآن اور سائنس کے مطابق ہے

احمد نعمانی
بارش کے پانی میں خدا نے اپنا معجزہ شامل کر رکھا ہے۔ اس کا تذکرہ تو اللہ نے اپنے کلام پاک میں ساڑھے چودہ سو سال قبل کردیا تھا، جب کہ سائنسدانوں نے اس بات کی تحقیق کرنے کے بعد موجودہ وقت میں اشارہ کیا ہے۔ میں نے بذات خود سائنسدانوں سے بات کی اور ان سب نے بہ یک زبان قرآن کے اس معجزہ کی اپنے سائنسی انداز میں تصدیق کی۔ 2009 میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے وی آئی پی روم میں چند سائنسداں کانفرنس سے فراغت کے لمحہ میں یکجا تھے، یہ تمام سائنسداں ہندوستان کا سب سے اہم ادارہ جو ’’کھیتی کسانی‘‘ سے متعلق تحقیق کرتا رہتا ہے، اس سے وابستہ تھے۔ یہ ’’پوسا انسٹی ٹیوٹ‘‘ نئی دہلی کے پروفیسران حضرات تھے۔ ان سے میں نے خود سوال کیا۔ مقصد یہ تھا کہ کتابوں میں جو تذکرہ کیا گیا ہے اور سائنسی حقائق سے جوڑا گیا ہے، کیا وہ اطلاع درست ہے، میں نے سوال کیا کہ یہ کہا جا

Read more