سکھوں کے خلاف تشدد آج بھی جاری ہے

پربھات رنجن دین
انیس سو چوراسی فسادات کے شکار سکھوں کو معاوضہ دلانے کے لیے داخل اصل درخواست کے حساس اوراق اور 7دیگر درخواستیں عدالت سے غائب کر دی گئی ہیں۔ اصل درخواست کے اہم اوراق پھاڑنے اور 7سکینڈری رٹوں کو غائب کیے جانے جیسے سنسنی خیز معاملے کی جانچ کی بات تو چھوڑئے، سکھوں کے معاوضے پر جس بنچ نے بھی ہمدردی بھرا رویہ اپنایا، وہ بنچ ہی عین فیصلے کے وقت بدل دی گئی۔ 1984 فسادات کے شکار سکھوں کو اب تک معاوضہ نہیںملا۔ انہیں مسلسل یہ کون سے تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے؟ اقلیتوں کو لبھانے کی کوششیں تمام سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں، لیکن اقلیتوں میں اکثریتی مسلم اور عیسائی فرقہ ہی سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ووٹ کی گنتی کے حساب سے سکھ کم ہیں، لہٰذا انہیں فسادات کا

Read more

!!رین بسیروں کو مت توڑو

زاہد خان
شمالی ہند میں پڑ رہی شدید سردی کے درمیان رین بسیروں کو گرائے جانے کی خبروں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ابھی حال میں جو احکامات جاری کیے ہیں وہ یقینالائق ستائش ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے احکامات میں سردی ختم ہونے تک ملک بھر میں کوئی بھی عارضی یا مستقل بسیرے کو نہ ہٹانے کی بات کہی ہے۔جسٹس دلویر بھنڈاری اور جسٹس دیپک ورما کی دو رکنی بنچ نے حقوق انسانی کی تنظیم ’’پیپلس یونین فار سول لیبرٹیز‘‘ کی ایک عرضی کی سماعت کے دوران کہا کہ شدید سردی شروع ہونے سے عین قبل رین بسیروں کو منہدم کرنے یا ہٹانے کا فیصلہ بے حد غیر حساس اور لائق اعتراض ہے۔ اتنا ہی نہیں بنچ نے حکم دیا کہ حکومت تین روز کے اندر گرائے گ

Read more

ڈاکٹر بنائک سین کی عمر قید میں میڈیا کا اہم کردار

متھیلیس پریہ درشی
ڈاکٹر بنائک سین کے معاملہ میں آئے عدالتی فیصلہ کے بعد جمہوری ڈھانچے کے تین ستون عدلیہ،عاملہ اور مقننہ قومی سطح پر تنقید کے مرکزبنے ہیں۔ مگر چوتھا ستون میڈیا، اب تک اس چرچہ سے باہر ہے۔ جبکہ مقامی یعنی چھتیس گڑھی میڈیا نے آج سے چار سال پہلے ہی ڈاکٹر بنائک سین کو قصوروار قرار دے دیا تھا۔
ریاستی مشینری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کرچلنے والے چھتیس گڑھ کے میڈیا نے ڈاکٹر بنائک سین کے خلاف ابتدائی دور میں ہی پروپیگنڈہ کی ایک زبردست

Read more

بہار میں ایم ایل اے کا قتل، اصلی مجرم کون

اشرف استھانوی
بہار میں نتیش کمار کے سوشاسن راج کی دوسری پاری کے آغاز میں حکمراں اتحاد میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک دبنگ ممبر اسمبلی راج کشور کیسری کا دن کے اجالے میں ان کی رہائش گاہ پر ان کے درجنوں جاں نثاروں ، حامیوں اور باڈی گارڈوں کی موجودگی میں خنجر مارکر قتل کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد حملہ آور خاتون کو مقتول ایم ایل اے کے حامی اور خیر خواہ سیکورٹی گارڈ کی موجودگی میں مار مار کر ادھ مرا کر دیتے ہیں۔ان واقعات کا پس منظر خواہ کچھ بھی ہو اور جانچ کے بعد قتل کی جو بھی وجہ سامنے آئے،اتنی

Read more

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

پروفیسر اختر الواسع
لیجئےاکیسویں صدی کی پہلی دہائی بھی ختم ہوئی۔اس دہائی میں بھی یہ جہانِ رنگ و بو ’’سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو‘‘ سے عبارت رہا۔ بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں اپنوں کی بے رخی اور غیرو ںکے ستم کا شکار اردو زبان نے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اپنی زندگی کا جس طرح احساس کرایا اور اپنی طاقت و توانائی کو جس طرح منوایا اس کا پتہ نہیں ہم میں سے کتنوں کو احساس ہے۔ اسی پہلی دہائی یعنی 2002میں قلعہ معلی والی دہلی میں اردوئے معلی کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اسی دہائی کے آغاز میں ا

Read more

یہ گوجر نہیں کسان تحریک

ڈاکٹر منیش کمار
ہندوستانی جمہوریت کا یہ عجیب چہرہ ہے۔ ملک کے کسانوں کو جب بھی کوئی بات حکومت تک پہنچانی ہوتی ہے تو انہیں تحریک چلانی پڑتی ہے۔ وہیں ملک کے بڑے بڑے صنعت کار سیدھے وزارت جا کر قاعدے قانون بدل کر کروڑوں کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ جمہوریت سے ملنے والے مواقع اور فوائد سے ہندوستان کی کثیر آبادی اکثریت سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہندوستان کسانوں کا ملک ہے۔ وہ غریب ہیں۔ حکومت کی اسکیموں اور پالیسیوں سے فائدہ ملنا تو دورالٹا انہیں نقصان ہو رہا ہے۔کسی بھی جمہوریت میں تحریک تب چلتی ہے جب

Read more

نئے سال میں مزید سرخ ہوگی سرزمین بنگال

بمل رائے
دو ہزار دس کے آخری ماہ میں یہاںپھیلی شر پسندی اور انارکی نے یہ اشارہ کر دیا ہے کہ 2011کے اسمبلی انتخابات تک کیا ہونے والا ہے؟ پہلے بھی کئی مرتبہ لکھا جا چکا ہے کہ بنگال کی مستقبل کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انتخابات تک خاموش نہیں بیٹھنے والی ہیں۔ادھر، بایاں محاذ نے بھی پلٹ کر کھڑے ہونے کی حکمت عملی کو بھی زمین پر اتار دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی حکمت عملی کا اشارہ خوفناک نظر آ رہا ہے۔ ان پالیسیوں میں نیا رنگ

Read more

بہار میں صوفی ریسرچ سنٹر کے قیام کا اعلان

اشرف استھانوی
مختلف مذاہب کے پیشوائوں، دھرم گروئوں اور صوفی سنتوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے لوگ عام طور پر مذہبی رواداری کے قائل ہیں اور تمام مذاہب کے بزرگوں اور گروئوں کا احترام کرتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ریاست بہار میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کی مثالی فضا پائی جاتی ہے۔ لیکن سرکاری سطح پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عقیدت کے مراکز خصوصاً بودھ سرکٹ کے فروغ کے لئے جتنی کوششیں ہوئیں اتنی کوششیں صوفی سرکٹ کے فروغ کے لئے کبھی نہیں ہوئیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب صوفی سرکٹ کے فروغ کا وقت بھی آگیا ہے۔ کیوں کہ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے2 حکومت کی تشکیل کے بعد وزیر اعلیٰ نے اس جانب بھی اپنی تو

Read more

بدعنوان بابو اور حکومت کے بے توجہی

دلیپ چیرین
مرکزی ویجلنس کمیشن کی 2009کی سالانہ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح سے بہت سارے بدعنوان بابو اپنے اوپر لگائے گئے اقتصادی جرمانے کی ادائیگی کرنے سے بچ گئے اور اس کی وجہ حکومت کی غیرفعالی رہی۔ رپورٹ کے مطابق 2009میں پینل نے بدعنوانی کی 5783شکایتوں کی جانچ کی، لیکن صرف 42فیصد داغی بابوؤں پرہی جرمانہ لگایا جاسکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مجرموں میں وہ بابو بھی ہیں جو پی چدمبرم، ممتابنرجی اور پرنب مکھرجی کی وزارت سے جڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور وزارت

Read more