سی اے جی رپورٹ: پارلیمنٹ میں بحث کیوں؟

کمل مرارکا
آزادی کے بعد سے، سوائے 1975 میں لگائی گئی ایمرجنسی کے، ہندوستانی جمہوری ادارے اور آئین کبھی بھی اتنی تناؤ بھری حالت میں نہیں رہے ہیں۔ شریمتی اندرا گاندھی نے آئین کے التزامات کا استعمال وہ سب کام کرنے کے لیے کیا، جو صاف طور پر غیر مناسب اور ناقابل قبول تھا۔ پھر بھی وہ اتنی طاقتور تھیں کہ انہوں نے آگے آنے والے تمام حالات کا ڈٹ کر سامنا کیا، انتخاب کا اعلان کیا، جس

Read more

جنرل کو نوجوانوں پر بھروسہ

اجے کمار
سماجی کارکن انا ہزارے، بابا رام دیو اور سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ۔ یہ تین نام آج کل سرخیوں میں ہیں۔ جس طرح بدعنوانی کو بڑھاوا دینے کا الزام مختلف پارٹیوں کے لیڈروں، مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر لگتا رہتا ہے، ٹھیک ویسا ہی الزام مختلف پارٹیوں کے لیڈروں کے ذریعے ان تینوں پر لگایا جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ یہ بدعنوان لیڈروں، سر

Read more

فسادات روکنے میں کانگریس ناکام

ڈاکٹر نصر فردوسی
سونیا گاندھی اوران کے بیٹے راہل گا ندھی کی سربراہی میں پنپتی کانگریس پارٹی کے بارے میں یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ اب کانگریس پارٹی سدھر کر ویسی ہوسکے گی جیسی آزادی سے قبل مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہوا کرتی تھی۔ نوا کھالی، بنگال میں مہاتما گاندھی فاقہ کشی کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور ہو رہے تھے اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک بر صغیر ہند کی پوری آبادی کے لیے محبت،امن اور ہم آہنگی کا پیغام دے کر اپنے پیروکاروں کو اپنے آدرشوں پر عمل پیرا کیے ہ

Read more

کس کی شہ پر پھل پھول رہا ہے نقلی نوٹوں کا کاروبار

ششی شیکھر
آر بی آئی کے مطابق، گزشتہ چھ سالوں میں ہی تقریباً 76 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ ضبط کیے گئے ہیں۔ دھیان دیجئے، صرف ضبط کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار کروڑ روپے کے جعلی نوٹ بازار میں ہیں۔ اب، حقیقت میں کتنی تعداد میں یہ نقلی نوٹ بازار میں استعمال کیے جا رہے ہیں، اس کے صحیح صحیح اعداد و

Read more

ملک کو ایک مسیحا کی تلاش ہے

سروج سنگھ
انا ہزارے، بابا رام دیو، اروِند کجریوال۔ یہ چند نام ہیں، جنہیں دیکھ سن کر ایسا لگتا ہے کہ گویا بدعنوانی اور بدنظمی کے خلاف عام آدمی بھی اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ بدنما ڈھانچے کو بدل سکتا ہے۔ ملک کو بدل سکتا ہے۔ لیکن ملک کو بدلنے کا کام اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ صرف دہلی یا ممبئی کے لوگوں کو سڑک پر لا دینے سے بھی کام نہیں چلتا۔ ایک دو اَنشن کر دینے سے بھی اس گونگی بہری سرکار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر علاج کیا ہے؟ ظاہر ہے، جس تحریک کو لے کر بار بار انّا ہزارے، بابا رام دیو

Read more

ترقی پر اتفاقِ رائے

میگھناد دیسائی
اکیسویں صدی کی شروعات میں ایسا لگا کہ یہ ہندوستان کی صدی ہے۔ مغربی ممالک کے صحافیوں اور غیر مقیم ہندوستانیوں نے اس قسم کی باتیں کہیں۔ ایسا کہا جانے لگا کہ یا تو ہندوستان سپر پاور بن گیا ہے یا پھر بننے والا ہے اور چین کو پیچھے چھوڑنے والا ہے۔ جی -7 کے ملکوں نے ہندوستان کو اپنی میٹنگوں میں بلانا شروع کر دیا۔ بالی ووڈ میں بھی غیر ملکی سرمایہ آنے لگا۔ ایسی صورتِ حال

Read more

سی اے جی پر کانگریس کا حملہ ، جمہوریت پر حملہ ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سی اے جی یعنی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ آئی تو سیاسی حلقوں میں ہنگامہ مچ گیا۔ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2006-2009 کے درمیان کوئلہ کی تقسیم میں ملک کو 1.86 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا۔ جیسے ہی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی، کانگریس کے وزیر اور لیڈر سی اے جی کے خلاف زہر اگلنے لگے۔ پہلا ردِ عمل یہ تھا کہ سی اے جی نے اپنے اختیارات کی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو موقع ملا اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ مچ گیا۔ کئی دن

Read more

بہار میں عورتیں محفوظ نہیں

سروج سنگھ
خواتین کو مضبوط کرنے کا ڈھول پیٹنے والی نتیش سرکار ان دنوں خواتین پر ہو رہی زیادتیوں کا جواب دینے میں پریشان ہے۔ انتظامیہ کے لا پرواہ رویے کے سبب بہار میں خواتین خود کو غیرمحفوظ محسوس کر رہی ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کی شکایتوں پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ مجرموں کو بچایا جاتا ہے۔ پٹنہ میں اسکولی طالبہ کی اجتماعی عصمت دری معاملے کے ہائی پروفائل ہوتے

Read more

صارفین اب بیدار ہو جائیں

فردوس خان
بڑھتے بازار کے دور میں کنزیومر کلچر تو دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن صارفین میں بیداری کی کمی ہے۔ آج ہر آدمی کنزیومر ہے، چاہے وہ کوئی سامان خرید رہا ہو یا پھرکوئی سروس کرارہا ہو۔دراصل منافع خوری نے صارفین کے لئے کئی طرح کی پریشانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اشیاء میں ملاوٹ اورمعیار میں گراوٹ کی وجہ سے جہاں انہیں پریشانی ہوتی ہے،وہیں سروسیزمیں رکاوٹ یا پوری سروس نہ ملنے سے بھی انہیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ سرکار کہتی ہے ، جب آپ پوری قیمت دیتے

Read more

تیسرے محاذ کے سہارے ملائم وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں

اجے کمار
سال 2014 میں سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس بات کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ عوام کانگریس کی حکومت سے پریشان تو ہیں، لیکن انہیں کوئی مضبوط متبادل نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی خود کو کانگریس کے متبادل کے طور پر دیکھتی ضرور ہے، لیکن اس کے ’آئرن مین‘ہی جب اس بات پر شک ظاہر کر رہے ہوں تو حالات کا صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نہ کانگریس، نہ بی جے پی، تو پھر کون؟ اسی سوال نے سماجوادی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے پنکھ لگا دیے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخاب می

Read more