حکومت دہلی حج کمیٹی کا چیئر مین کیوں نہیں بنانا چاہتی؟

ایس اے بیتاب
دہلی حج کمیٹی کے چیئر مین کے عہدہ سے عبد السمیع سلمانی کو کیا بر طرف کیا گیا کہ آج تک چیئر مین کی تقرری نہیں ہو پائی ہے۔ باقاعدہ طور پر دیکھا جائے تو 30دسمبر2006سے دہلی حج کمیٹی کا کوئی مستقل چیئر مین نہیں ہے۔ جب ہم نے حج کمیٹی سے آر ٹی آئی کے ذریعہ معلوم کیا کہ حج کمیٹی کا چیئر مین کیوں نہیں بنایا گیا ہے تو حج کمیٹی کا جواب تھا کہ چیئر مین کی تقرری کا ذمہ حکومت دہلی کا ہے اور نئی حج کمیٹی بننے کی تجویز زیر غورہے۔حج کمیٹی کا چیئرمین کیوں نہیں بنایا گیا ہے ، تو جواب دیا گیا کہ حج کمیٹی کے چیئر مین نہیں بننے کی وجہ فائل میں موجود نہیں ہے۔اس لیے یہ اطلاع آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت نہیں آتی ہے۔ یہ جواب آر ٹی آئی 5جنوری 2010کاہے لیکن حج کمیٹی کا چیئر مین آج تک نہیں بنایا گیا ہے جب

Read more

ہند و پاک تعلقات: کیا یہ دوستی برقرار رہے گی

وسیم احمد
ہند و پاک دو ایسے پڑوسی ملک ہیں جن کے درمیان پائے جانے والے رشتے کو ’’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘‘ سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کبھی کبھی دونوں کے درمیان رشتے اتنے استوار ہوجاتے ہیںکہ لگتا ہے دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتا ر ہیں۔ہندوستانی وزیر داخلہ پاکستان جاکر حق ہمسائیگی ادا کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی پاکستانی وزیر اعظم گیلانی کرکٹ دیکھنے کے لیے منموہن سنگھ کی دعوت پر ہندوستان آتے ہیں اورایک اچھے دوست اور ہمسائے کی زباں میں پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں۔اس وقت ایسا محسوس ہوتاہے کہ اب دونوں ملکوں نے تاریخ کے تلخ لمحوں کو بھلا کر ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہنے کا عزم کرلیا ہے اور اب کے بعد وہ کبھی بھی اُن تلخ لمحوں کو نہیں لوٹائیں گے۔ لیکن نہ جانے پھر کیا ہوجاتا ہے کہ سارے کیے کرائے پر پر پانی پھر جاتا ہے اور دوریاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف دشمنوں کی زبان میں باتیں کرنے لگتے ہیں۔اب تک دونوں ملکوں کے درمیان کئی مرتبہ متنازعہ مدعوں کو حل کرنے کے لیے خارجہ سکریٹری سطح پر بات چیت کے لیے پیش رفت ہوچکی ہے،لیکن کبھی دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے تو کبھی سیاسی بیان بازیوں کے سبب،یہ سلس

Read more

برطانیہ، روپرٹ مرڈوک اور ڈیوڈ کیمرون

میگھناد دیسائی
برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میک ملن سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو اپنی مدت کار میں سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہوتا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وارادت سے انہیں سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا۔ وزیر اعظم کی شکل میں ان کے نویں جانشیں ڈیوڈ کیمرون بھی اس بات سے بہت حد تک اتفاق رکھتے ہوں گے۔ حال ہی میں برطانیہ کو جس واقعہ نے سب سے زیادہ پریشان کیا ہے، اس کی شروعات روپرٹ مرڈوک والے واقعہ سے نہیں ہوئی، بلکہ اس کی شروعات ہوئی ملی ڈاؤلر کے قتل کے مقدمہ کی جانچ اور اس کے بعد اس کے اہل خانہ کو ہوئی پریشانی سے۔ اس کے والد کے بارے میں ایسا کہا گیا کہ انہوں نے اس فحش ویڈیو کو دیکھا، جس میں ملی کو دکھایا گیا تھا ا

Read more

کیا حاجیوں کے مسائل کبھی حل ہوں گے ؟

ڈاکٹر قمرتبریز
اسلام کے پانچ بنیادی فرائض میں سے ایک حج بھی ہے۔ ایک مسلمان، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتا ہو، اس بات کی پوری کوشش کرتا ہے کہ پوری زندگی میں کم از کم اسے ایک بار اللہ کے مقدس گھر، خانہ کعبہ اور اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی آخری آرامگاہ مسجد نبوی کی زیارت کا موقع حاصل ہو جائے۔ اللہ نے جن صاحب نصاب پر حج کو فرض کیا ہے، وہ تو حج بیت اللہ کے لیے کوشش کرتے ہی ہیں، لیکن وہ شخص جو صاحب نصاب نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے پاس زیادہ مال و دولت ہے، وہ بھی اس بات کا متمنی رہتا ہے کہ کہیں سے اس کے پاس اتنے پیسے آ جائیں کہ وہ حج یا عمرہ میں لگنے والے سفر کے خرچ کو برداشت کر لے، اور اس کو اللہ اور اس کے پیارے رسولؐ کے گھر کی زیارت کا موقع ن

Read more

لوک پال بل: یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے

ڈاکٹر منیش کمار
حکومت نے لوک پال بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس مسودہ کی ایک دلچسپ جانکاری یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی افسر کے خلاف شکایت کرتا ہے اور اگروہ جھوٹی نکلتی ہے تو اسے 2سال کی سزا اور اگر صحیح ثابت ہوتی ہے تو بدعنوان افسر کو صرف 6مہینہ کی سزا۔ مطلب یہ کہ بدعنوانی کرنے والوں کی سزا کم اور اسے اجاگر کرنے والے کی سزا زیادہ۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کے ملزم افسران کو مقدمہ لڑنے کے لیے مفت سرکاری وکیل ملے گا، جبکہ اسے بدعنوان اور خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیے شکایت کنندہ کو اپنے ہی خرچ پر مقدمہ لڑنا ہوگا۔ یہ حکومت کا بدعنوانی سے لڑنے کا نایاب طریقہ ہے۔ حکومت نے اپنی پالیسیاں، ذہنیت اور نظریات واضح کر دیے ہیں کہ وہ بدعنوانی کے ایشو پرکتنی سنجیدہ ہے۔ ایک شرمناک بیان ملک

Read more

گریٹر نوئیڈا تحویل اراضی معاملہ: خواب بننے اور ٹوٹنے کی داستان

فردوس خان
تحویل اراضی معاملے میں سرکار کا رویہ اور اعلیٰ افسروں کا لالچ کسانوں،بلڈروں اور اپنے گھر کا خواب سجانے والے لوگوں کے لیے مصیبت کا سبب بن گیا ہے۔ سرکار کی کوتاہی یہ ہے کہ تحویل اراضی نظرثانی بل کو اب تک قانون کا درجہ نہیں دیا گیا۔ انگریزی دور کا قانون آج بھی نافذ ہے، جس کے سبب اکثر عوام اور سرکار کے درمیان ٹکرائو کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں ۔ موجودہ تحویل اراضی قانون 1894 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس وقت سرکار نے اس قانون کے ذریعہ عوامی ترقیاتی کاموں کے علاوہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا تھا۔آزادی کے بعد خاص طور پر 1990 کی دہائی میں لبرل ازم اور نجکاری کو بڑھاوا ملنے کے دور میں اسی قانون کا سہارا لے کر سرمایہ داروں نے لوگوں کی زمینیں ہتھیانا شروع کردیا۔ سال 2005

Read more

الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ :کسانوں کے حوصلے بلند

ششی نارائن سنگھ
عوامی ترقی کے نام پر کسانوں کی زمین ہتھیانے کے سرکاری منصوبوں پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے گریٹر نوئیڈا کے کسانوں کی زمین کے بارے میں جوفیصلے آئے ہیں، وہ انصاف کی تاریخ میں میل کا پتھر ثابت ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ملک کے عام آدمی کو لگنے لگا ہے کہ آج جبکہ ہر طرف بدعنوانی کا راج ہے، ایسے میں جو کام سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے، وہ انصاف کی نگہباں عدالتوں نے کر دکھایا۔اتر پریش حکومت نے گریٹر نوئیڈا کے کسانوں کی زمین زبردستی چھین لینے کی کوشش کی تھی، اس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے لگام لگا دی ہے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس فیصلہ کو صحیح قرار دیا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم سے

Read more

آئی ایس آئی کا لبرل نیٹ ورک

ڈاکٹر قمر تبریز
کشمیر میں پیدا ہونے والا ایک شخص امریکہ میں رہتے ہوئے آئی ایس آئی کے تعاون سے ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ وہ بین الاقوامی سیمینار کراتا ہے، ہندوستان کے نامور صحافیوں اور دانشوروں کو اس میں مدعو کرتا ہے لیکن کسی کو ذرہ برابر شک بھی نہیں ہوتا۔ وہ کشمیری کاز کو آگے بڑھانے میں اپنی پوری جی جان لگا دیتا ہے، امریکی قانون سازوں کو گاہے بگاہے فنڈ مہیا کراتا ہے، کشمیر کے بارے میں امریکی موقف کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تب بھی کسی کو اس پر شک نہیں ہوتا۔ لیکن اچانک جب ایف بی آئی کے ذریعے اسے حراست میں لیا جاتا ہے اور امریکہ کی ایک عدالت میں اس کے خلاف ایک کرمنل کیس، 43 صفحات پر مبنی حلف نامہ کے ساتھ داخل کیا جاتا ہے، تو سب کے کان کھڑے ہو

Read more

یہ کارڈ خطرناک ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سال 1991 میںہندوستانی سرکار کے وزیر خزانہ نے ایسا ہی کچھ بھرم پھیلایا تھا کہ نجکاری اور لبرل ازم سے 2010 تک ملک کی اقتصادی صورت حال بہتر ہو جائے گی، بے روزگاری ختم ہو جائے گی، بنیادی سہولیات سے متعلق سارے مسائل ختم ہو جائیں گے اور ملک ترقی یافتہ ہو جائے گا۔ وزیر خزانہ اب وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ 20 سال بعد سرکار کی طرف سے بھرم پھیلا یا جارہا ہے، رپورٹس لکھوائی جا رہی ہیں، عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آدھار کارڈ بنتے ہی ملک میں سرکاری کام آسان ہو جائے گا، ساری اسکیمیں کامیاب ہونے لگیں گی، جو اسکیم غریبوں تک نہیں پہنچ پاتی وہ پہنچنے لگے گی اور صحیح لوگوں کو بیج اور کھاد کی سبسڈی ملنے لگے گی۔ لیکن اگر یہ سب نہیں ہوا تو اس کے لیے کسے ذمہ دار مانا جائے

Read more

بیڑی کے دھوئیں میں پھنسا بیچارہ غریب

گیتا شری
اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا اور سرکار کسی دبائو میں نہیں آئی تو ماہ اگست میں بیڑی کے خلاف بہت پر اثر اشتہاری مہم شروع ہوجائے گی۔ اندرونِ خانہ اس کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔بس ہری جھنڈی ملتے ہی تمام چینلوں ، سنیما گھروں اور اخباروں میں سرکاری اشتہار دکھائی دینے لگے گا۔ ابھی تک صرف سگریٹ کے اشتہار دکھائے جارہے ہیں جو کافی حد تک پر اثر ہورہے ہیں۔ ایسے اشتہار ٹی وی چینلوں پر مسلسل دکھائے جانے کی وجہ سے بڑوں سے زیادہ بچوں پر اثر دکھائی دیتا ہے۔ یہاں ایک واقعہ کا ذکر بہت ضروری ہے۔ ممبئی کے مشہور اِنفینیٹی مال کے باہر ایک جینٹل مین سگریٹ پی رہے تھے۔ ادھر سے ایک چار سالہ بچی اپنے ماں باپ کے ساتھ گزر رہی تھی۔ وہ بچی سگریٹ پینے والے انکل کو دیکھ کر وہیں ٹھٹھک جاتی ہے۔ اس کے والدین آگے

Read more