کسانوں کی خود کشی کب رکے گی

پروین مہاجن
ودربھ کے کسان بد حال ہیں اور یہاں کے سیاست داں بد معاش ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسان خوشحال ہوں، ان کے مسائل کا حل ہو،وہ ترقی کریں اور اقتصادی طور پر خودکفیل ہوں۔ اس لئے کاشتکاری سے جڑے مسائل کا مستقل حل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔اگر کسانوں سے جڑے مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا تو سیاست کرنے کے لئے ملنے والا ایک جذباتی ایشو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔یہی یہ وجہ ہے کہ اقتدار کے سیاسی دائو پیچ میں آج کسان ،کاشتکار ی محض ایک ایشو بن کر رہ گئے ہیں۔ جب بھی مہاراشٹر لیج

Read more

عشرت جہاں دہشت گرد نہیں تھی

سمیع احمد قریشی
انیس سالہ عشرت جہاں جسے اب ہم عشرت جہاں کہنے کا حق نہیں رکھتے۔ یقینی طور پر ہم اب اُسے عشرت جہاں کی بجائے عشرت جہاں شہید ہی کہہ سکتے ہیں۔ اب ہمیں یہی کہنا ہے۔ شہید عشرت جہاں۔ گجرات کے مودی یعنی موذی کی پولس نے اُسے ایک مڈبھیڑ میں مارا۔ الزام یہ لگایا کہ وہ لشکر طیبہ کی دہشت گرد ہے۔ مودی کو مارنا چاہتی تھی۔ ہم سلام کرتے ہیں۔ اُن کی بہادری ج

Read more

وجے مالیا اور سیاست کا گٹھ جوڑ آسمان میں گھوٹالہ

یہ ہندوستانی جمہوریت کا بازاری چہرہ ہے، جو کارپوریٹس کے مفاد کے مطابق فیصلے لیتا ہے، جہاں جمہوریت کے پاسباں بھوک سے مرتے کسانوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کا اپنا فرض پورا نہیں کرتے، لیکن صنعتی دنیا کے سپہ سالاروں کے قدموں میں ’’سرخ قالین‘‘ بن کر بچھ جانا اپنی شان سمجھتے ہیں۔ اس جمہوریت کے بازاری پن کا اس سے بڑا ننگا سچ اور کیا ہوگا کہ جب ملک میں ہر آٹھ گھنٹے پر ایک کسان بھوک کی وجہ سے اور محض پچاس روپے کے قرض کا شکار ہو کر خود کشی کر رہا ہے، تب س

Read more

اقتدار کا غلط استعمال روکنا ہوگا

میگھناد دیسائی
کیا یہ چونکانے والی بات نہیں ہے کہ گجرات کے دو ممبرانِ اسمبلی احمد آباد کے پاس ہنگامہ کرتے ہوئے پائے گئے۔ جب پولس نے انہیں گرفتار کر لیا تو وہ تشدد پر آمادہ ہوگئے۔ اس کی خبر جب نریندر مودی تک پہنچی، تو وہ پولس اسٹیشن گئے اور ممبرانِ اسمبلی کو گرفتار کرنے والے پولس والوں کو ڈانٹ لگائی اور اِن ممبران اسمبلی کو چھڑوایا۔ کیا یہ قانون و انتظامیہ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ک

Read more

ملائم گھر سے باہر تک مصیبت میں

اجے کمار
بھلے ہی اینٹ اینٹ جوڑ کر گھر بنتا ہو لیکن اس کی بنیاد اس میں رہنے والوں کے کردار سے مضبوط یا کمزور ہوتی ہے،جس طرح گھر کو وقتاً فوقتاً رکھ رکھائو کی ضرورت ہوتی ہے ، ویسے ہی گھر میں رہنے والوں کے رشتے مضبوط بنے رہیں اس کے لئے خاندان والوں کو مشترکہ طور پر کافی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ ایک بھی غلط فیصلہ خاندان میں بکھرائو جیسی صورت حال پیدا کردیتا ہے۔خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری گھر کے بزرگوں کی ہوتی ہے ، مگر سچائی یہ بھی ہے کہ آج کے زمان

Read more

سرکاری اور پارٹی میں دراڑ

وزیر اعظم منموہن سنگھ کو قریب سے جاننے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ جو بات کہتے ہیں، معنی اس کے نہیں ہوتے، بلکہ وہ جو نہیں کہتے ہیں مطلب اُس کا ہوتا ہے۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران اگر اس بات سے سب سے زیادہ واسطہ کسی کا پڑا ہے، تو وہ ہیں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی۔ حالانکہ منموہن سنگھ نے کبھی

Read more

اتر پردیش کی تقسیم: عوامی امنگ یا سیاسی امنگ کی تکمیل

عابد انور
ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریباً 65 برس ہوچکے ہیں، لیکن حقیقی معنوں میں یہاں کے عوام اور سیاسی لیڈروں کا ذہن جمہوری نہیں ہوسکا۔ وہ ہمیشہ اسی تاک میں رہے کہ انہیں کب موقع ملے کہ وہ ہڑپ کرجائیں، خواہ وہ اقتدار ہو، دولت ہو یا کوئی اور چیز۔ محنت کی بجائے شارٹ کٹ اپنانا یہاں کے لیڈروں کاہمیشہ وطیرہ رہا ہے۔ اگر ایک بار اقتدار میں آگئے تو ریٹائرمنٹ کا تو کوئی سوال ہی نہیں پ

Read more

وزیر اعظم صاحب، یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے

کمل مرارکا
سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوئے جسٹس کاٹجو کو پریس کونسل آف انڈیا کا صدر مقرر کیا گیا۔ پہلے سے ہی یہ شکایت تھی کہ پریس کونسل ایک کمزور ادارہ ہے اور اس کے پاس اختیار اتنے کم ہیں کہ اس کا پریس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ جسٹس کاٹجو نے دو سچ باتیں کہہ دیں تو لوگ اچھل پڑے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل کے نامہ نگار، صحافی اور پریس میں کام کرنے والے لوگوں کا معیار کافی گر گیا ہے۔ وہ اس دانشورانہ سطح کے نہیں ہیں، جس کی صحافیوں سے توقع کی جاتی ہے۔ اب اس میں غلط کیا ہے ؟ چار سرمایہ دار جو پبلشر ہیں

Read more

یو پی کا آئندہ اسمبلی انتخاب اور مسلمانوں کی صورتحال

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اس جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کو عوام کے ذریعے ہر پانچ سال میں ایک بار منتخب کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی نمائندے جب منتخب ہو کر ایوان میں پہنچتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں کس نے منتخب کیا ہے۔ وہ عوام کے مسائل کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان پانچ سالوں میں شاید ہی کسی لیڈر کو اتنا وقت مل پاتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ کرکے وہاں کے مسائل کو جاننے اور پھر انہیں حل کرنے کی کوشش کرے۔ حالانکہ منتخ

Read more