نتیش پر امیدوں کا بڑا بوجھ

سروج سنگھ
نتیش کمارنے اپنے گزشتہ دور اقتدار میں ایک عام وزیراعلیٰ کی طرح کام کیا، لیکن وہ عام کام بھی بہار کے لیے اندھیرے میں روشنی جیسا تھا ۔اسی لیے نتیش اسپیشل بن گئے، لیکن اس بار کا موقع ان کے لیے تعلیم، صحت، بجلی، افسر شاہی اور ماؤنواز جیسے گمبھیر چیلنج لے کر آیا ہے۔ اس لیے اس بار انہیں کچھ اسپیشل کرنا ہی ہوگا، نہیں تو انہیں حشر معلوم ہے۔
بہار کے عوام نے نتیش کمار کو چھپر پھاڑ اکثریت دے کر پوری دنیا کو چونکا دیا۔ ایسی اکثریت جس کا تصور خود نتیش بھی نہیں کر رہے تھے، لیکن بہار کے عوام نے جمہوریت کے عظیم ت

Read more

دارالعلوم ندوۃ العلماء علم و ہنر کا درخشاں ستارہ

دار العلوم ندوۃ العلماء کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک تصویر ابھر کر آتی ہے، وہ یہ کہ دینی تعلیم کی دنیا میں اہم درجہ رکھنے والا ایک مدرسہ، جہاں قرآن پاک اور حدیث کی روشنی میں علم حاصل کرنے والوں کو مولوی، مفتی، قاری و حافظ کی ڈگری دی جاتی ہے، فتوؤں پر غور فرمایا جاتا ہے۔ ندوہ یعنی اسلام کے سماجی، تعلیمی اور دیگر ضروری پہلوؤں کا اہم مرکز۔ یہ اس کا ایک پہلو ہے جو دنیا کو دکھائی دیتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے جو قریب جا کر اسے سمجھنے کے بعد ہی نظر آئے گا۔

Read more

بہار کے نتائج اتر پردیش کے انتخابات پر اثر ڈالیں گے؟

پربھات رنجن دین
بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے ٹھیک ایک دن قبل اترپردیش کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا بھی اعلان ہوا۔ اس کے پہلے اترپردیش میں پنچایت کے انتخابات ہوئے، جو اسمبلی انتخابات کے پہلے کا ریہرسل مان کر پورے حوصلہ سے لڑے گئے۔ پنچایت انتخابات کے نتائج کے حوالے سے کھینچ تان اوردعوے 2012میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ٹریلر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، لیکن اسی دوران بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے پڑوسی ریاست اترپردیش کے ووٹروں کو بھی باخبر کر دیا ہے۔

Read more

صرف آر پی یادو ہی کیوں دیگر جج کیوں نہیں؟

پربھات رنجن دین
اتر پردیش اسٹیٹ پبلک سروسیز ٹریبیونل کے چیئرمین جسٹس آر پی یادو کو ریاستی حکومت نے برخاست کردیا ہے۔ سیکڑوں کروڑ روپے کے پی ایف گھوٹالے میں داغی جج آر پی یادو کو اترپردیش کی حکومت نے پبلک سروسیز ٹریبیونل کا چیئرمین بنا دیا تھا،پھر ایسی کون سی قانونی پیچیدگی اچانک آ گئی کہ حکومت کو انہیں برخاست کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا؟ پی ایف گھوٹالے میں داغی ججوں کی لسٹ لمبی چوڑی ہے، پھر تنہا آر پی یادو ہی کیوں؟ اس راز سے بھی پردا اٹھے گا، لیکن ابھی یہی رنگ دینے کی کوشش ہے کہ پی ایف گھوٹالے میں داغ دار ہ

Read more

کمزور پڑ رہی ہے مرکزی حکومت

میگھناد دیسائی
جدیدہندوستان کی تعمیر کی بنیاد انگریزوں کی اس دلیل میں تلاش کی جا سکتی ہے، جس میں انھوں نے ہندوستان کوایک ملک ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انگریزوں کا دعویٰ تھا کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ الگ الگ ریاستوں، مذاہب،زبانوں اور ذاتوں کا ایک گروپ ہے۔پہلی گول میز کانفرنس میں یہ فیصلہ لے لیا گیا کہ ہندوستان ایک کمزور مرکز اور طاقتور ریاستوں والا ملک ہوگا۔موجودہ دور میں ملک کی سیاست میں ہم جو ڈرامائی انداز دیکھ رہے ہیں وہ انہی پرانے دنوں کی یاد دلاتا ہے، جب آزاد ہندوستان کا نیا آئین تیار کیا گیا تواس میں مرکز کو طاقتو

Read more

نتیش کہیں بے لگام نہ ہو جائیں

ڈاکٹر منیش کمار
بہار کے عوام کو جھک کر سلام کرنا ہوگا۔ بہار انتخابات کے نتائج نے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ پہلی بار بہار کے لوگوں نے یہ بتایا کہ جمہوریت میں انتخابات کا مطلب لیڈران اور ان کی سیاسی جماعتوں کی ہار جیت نہیں بلکہ عوام کی امیدوں کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار بہار کے انتخابات میں سیاسی اونچ نیچ ختم ہو گئی، مذہب کی زنجیریں ٹوٹ گئیں۔ نتیش کمار نے عوام کے سروکار کو انتخابی ایشو بنایا، وہیں لالو یادو اور رام ولاس پاسوان نے مذہب اورسیاسی اونچ نیچ پر بھروسہ کیا۔

Read more

آئی پی ایس افسران کا فقدان

دلیپ چیرین
دہشت گردی اور نکسل ازم جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر پریشانیوں سے نبرد آزما ہندوستان جیسے ملک میں آئی پی ایس افسران کی کمی ایک بڑی تشویش کا سبب ہو سکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق موجودہ وقت میں پورے ہندوستان میں آئی پی ایس افسران کے630عہدے خالی پڑے ہیں۔ ویسے تو ہر ریاست میں پولس افسران کارپوریٹ دنیا کی جانب رخ کر رہے ہیں، راجدھانی نئی دلی بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق راجدھانی میںآئی پی ایس افسران کے کل 4013 عہدے ہیں، لیکن اس سال کی شروعات میں

Read more

شفافیت سے گھبرائے نوکرشاہ

دلیپ چیرین

آرٹی آئی قانون کے تحت اس دور میں جب سرکاری کام کاج میں شفافیت کے لیے عام لوگوں کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے،تو نوکر شاہوں کے لیے اس نئے چیلنج سے نمٹنا خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے، لیکن مرکزی وزراء اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعہ آرٹی آئی قانون کے تحت اپنی ملکیت کی تفصیل بتانے کے لیے راضی ہونے کے بعد اب نوکرشاہوں پر بھی اس کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر کے ذریعہ مانگ کیے جانے کے بعد حکومت نے چار ماہ قبل آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کی ملکیتوں کی تفصیل عام کیے جانے کے تعلق سے ان کی رائے پوچھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کی تنظیمیں جہاں اس کے لیے راضی ہو گئیں وہیں آئی اے ایس ایسو سی ایشن اب تک اس کا کوئی جواب دینے سے بچ رہی ہے۔ سرکاری طور پر آئی اے ایس ایسو سی ایشن کہنا ہے کہ اس نے اپنی ریاستی اکائیوں سے اس سلسلے میں مشورے مان

Read more