نشنک اور ہرک پر تنازع کا سایہ

یہ بات اب صاف ہوگئی ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں میں کوئی بھی دودھ کا دھلا ہوا نہیں ہے۔ دونوں قومی پارٹیوں کے داغدار لیڈر انتخابی میدان میں ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس نے اس لوک سبھا انتخاب میں دو ایسے لیڈروں کو میدان میں اتارا ہے، جو ہمیشہ اپوزیشن کے نشانے پر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر رمیش پوکھریال نشنک کو ہری دوار میں رینوکا راوت کے سامنے اور کانگریس کے ڈاکٹر ہرک سنگھ راوت کو پوڑی سے جنرل بھُون چندر کھنڈوری کے مقابلے میں اتارا گیا ہے۔ ان دونوں لیڈروں (نشنک۔ہرک) کا تنازع سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ رمیش پوکھریال نشنک بی جے پی حکومت کے دورمیں ہوئی بدعنوانی، تو ہرک سنگھ راوت ذاتی زندگی سے لے کر بدعنوانی تک کے الزامات میں گھرے رہے ہیں، اس لیے ان دونوں امیدواروں کو لے کر دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے پرنشانہ سادھنے کا موقع مل رہا ہے۔ رمیش پوکھریال نشنک کی تو پی ایچ ڈی کی ڈگری ہی متنازع رہی ہے۔

Read more

اتراکھنڈ میں بی جے پی اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر

اتراکھنڈ ہندوستان کی 27ویں ریاست ہے۔ یہ ہندوستان کے جنوب میں واقع ہے۔ ہماچل، ہریانہ و اتر پردیش اس کی پڑوسی ریاستیں ہیں۔ ہندوؤں کے مقدس مقامات واقع ہونے کے سبب اس سرزمین کو ’دیو بھومی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریاست 9 نومبر، 2000 کو اتر پردیش کے 13 مغربی اضلاع کو شامل کر کے تشکیل دی گئی اور نتیا نند سوامی کو اس ریاست کے پہلے وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ یہاں پر لوک سبھا کی 5 اور راجیہ سبھا کی 3 سیٹیں ہیں، جبکہ ریاستی اسمبلی 70 سیٹوں پر مبنی ہے۔

Read more

ہماچل پردیش کا بے حد دلچسپ سہ رخی مقابلہ

ہماچل پردیش شمالی ہندوستان کی خوبصورت ترین ریاست ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں جموں و کشمیر ، جنوب مغرب میں پنجاب، جنوب مشرق میں ہریانہ و اتراکھنڈ اور مشرق میں تبت سے ملی ہوئی ہیں۔یہاں کل ووٹرس کی تعداد 4,674,187 ہے جن میں مرد ووٹروں کی تعداد 2,390,117 اور خواتین کی 2,284,068 ہے۔اسمبلی کے کل 68 اور پارلیمنٹ کے 4 حلقے ہیں۔ فی الوقت ریاست میں کانگریس قیادت والی مخلوط حکومت قائم ہے اور کل 4 پارلیمانی حلقوں میں 7 مئی سے عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ ریاست میں کوئی بھی ایسی علاقائی پارٹی نہیں ہے جو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو۔ علاقائی پارٹیوں کے عام انتخابات میں دلچسپی نہ رکھنے کی وجہ سے ہی آزادی کے بعد سے لے کر 1967 تک کانگریس اس ریاست میں بے تاج بادشاہ بن کر رہی۔

Read more

یو پی میں پانچویں مرحلے کی ووٹنگ راہل اور ورون جیسے لیڈروں کی قسمت ہوگی لاک

اتر پردیش میں پانچویں مرحلہ میں 7 مئی کو 15 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس دن تقریباً 80 فیصد امیدواروں کی قسمت ووٹنگ مشین میں قید ہو جائے گی۔ 7 مئی کو امیٹھی، سلطانپور، پرتاپ گڑھ، کوشامبی، پھولپور، الہ آباد، فیض آباد، امبیڈکر نگر، بہرائچ، قیصر گنج، شراوستی، گونڈا، بستی، سنت کبیر نگر اور بھدوئی کے ووٹرس اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ یہاں بی جے پی کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے، کیوں کہ اس دن جن 15 سیٹوں کے لیے انتخابات ہونے ہیں، ان میں سے 7 سیٹوں پر کانگریس کا، پانچ پر بی ایس پی اور تین سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کا قبضہ ہے۔ بی ایس پی نے

Read more

ترکی میں اردگان کا متعدل اسلامی ماڈل جاری رہے گا

رجب طیب اردوگان عالم اسلام کے پہلے ایسے لیڈر ہیں جن کو عالم عرب کے صحافیوں نے ’قائد منتظر‘ لکھا ہے۔ دراصل انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جہاں ایک طرف ترکی میں عریانیت اور مغربی تہذیب کے بڑھتے اثرات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں انہوں نے بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اسرائیل سے براہ راست ٹکر لے کر عالم عرب میں اپنی شخصیت کو بہت زیادہ ابھار دیا۔ اردوگان اے کے پی (عدالت و ترقی پارٹی ) کے صدر ہیں اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔پارٹی نے انہیں 14 مارچ 2003 سے ملک کا وزیر اعظم بنا رکھا ہے۔

Read more

مودی کو معلوم بھی ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟

انتخابات ختم ہونے والے ہیں۔ 16 مئی کو نتائج کا اعلان ہو جائے گا۔ نتائج ہمیشہ غیر یقینی ہوتے ہیں اور کون جیت حاصل کرتا ہے، کون اقتدار میں آتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، کیوں کہ یہ ووٹروں کا فیصلہ ہوتا ہے اور سبھی کو اس فیصلہ کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن، ان سب کے درمیان سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں، خود ان کا برتاؤ، طور طریقہ اور زبان اس حد تک خراب ہو چکی ہے، جس کی کسی نے امید بھی نہیں کی تھی۔ یہ دوسروں کو حوصلہ بخشنے والے لوگ نہیں ہیں۔ آئیے، سب سے پہلے نریندر مودی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک الگ شخصیت بنا لی ہے۔ وہ بی جے پی کے لیے ووٹ نہیں مانگ رہے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قدروں کی بات کر رہے ہیں، بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے ووٹ دیجیے، میں آپ کو گورننس دوں گا۔ ٹھیک ہے، مان لیا۔ لیکن، اس کے بعد آپ کیا کریں گے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’میں آپ کو کانگریس سے آزاد ہندوستان دوں گا‘‘۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟ ’کانگریس سے آزاد ہندوستان‘ کیا چیز ہے؟ کانگریس ایک پارٹی کا نام ہے اور ملک میں پارٹی تو ہونی ہی چاہیے۔ تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے، تو سارے کانگریسیوں کو مار دیں گے؟ آخر وہ کیا کرنے والے ہیں؟ اس کی جگہ پر وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ میں کانگریس کو اقتدار سے باہر کر دوں گا، اور الیکشن کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے۔

Read more

ایک سے زیادہ سیٹوں پر امیدواری، ٹیکس دہندگان کی جیب پر بھاری

بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر دامودر بھائی مودی 16ویں لوک سبھا کے لیے ہو رہے عام انتخابات میں دو لوک سبھا حلقوں بڑودہ اور وارانسی سے انتخابی میدان میں اترے ہیں، جس کی وجہ سے بڑودہ سے زیادہ لوگوں کی نظر وارانسی کی سیٹ پر ہے۔ وہ اس الیکشن میں دو سیٹوں سے لڑنے والے واحد شخص نہیں ہیں، بلکہ اس سے پہلے اتر پردیش بی جے پی کو چنوتی دے رہی بر سر اقتدار سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو بھی دو لوک سبھا حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی روایتی سیٹ مین پوری کے علاوہ مسلم اکثریتی ضلع اعظم گڑھ سے

Read more

صرف الزامات سے کوئی کمزور نہیں ہوتا

آخر کس طرح کے وزیر اعظم ثابت ہوں گے راہل گاندھی؟ اس سے پہلے وہ اقتدار کے بارے میں منفی باتیں ہی پھیلاتے رہے ہیں۔ وہ اقتدار کو زہر کا پیالہ بتاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یو پی اے – 1 اور یو پی اے – 2 کے دوران جو کچھ بھی ہوا، اس سے بھی انہوں نے خود کو الگ کر لیا اور ایک باہری ناقد کی طرح وہ سارے واقعات کی مذمت کرتے رہے۔ ایک بات جو دیکھنے والی ہے کہ ان انتخابات میں اگر کچھ حیران کن بات ہو جائے اور کانگریس اگلی سرکار بنانے کی حالت میں آ جائے، تو کیا راہل گاندھی ایک فیصلہ کن وزیر اعظم ثابت ہوں گے؟

Read more

تلنگانہ کی تشکیل کے فیصلے کے بعد متحدہ آندھرا میں آخری پارلیمانی انتخابات

آندھرا پردیش تاریخی و جغرافیائی اعتبار سے ہندوستان کی بہت ہی اہم ریاست ہے۔ غیر منقسم آندھرا پردیش کی اسمبلی میں کل 294 ارکان کے علاوہ 42 پارلیمانی سیٹیں ہیں۔ یہاں مسلم آبادی کے لحاظ سے مسلم فیکٹر بھی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الوقت ریاستی اسمبلی میں گیارہ ارکان ہیں، جن میں 6 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے ہیں، جب کہ پندرہویں لوک سبھا میں صرف ایک رکن تھا اور یہ تعداد قابل ذکر مسلم آبادی کے باوجود ایک سے زیادہ کبھی نہیں بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی اسمبلی میں 1962 سے ہنوز دو درجن بار سے زائد بار اس کے افراد ایم ایل اے رہے ہیں نیز ایک بار اس کے صدر سلطان صلاح الدین اویسی نے پروٹیم اسپیکر کا رول ادا کیا ہے اور 1984 سے لگاتار اب تک یکے بعد دیگرے اس قدیم مسلم سیاسی پارٹی کے صرف دو افراد صلاح الدین اویسی اور ان کے صاحبزادے اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی ہے اور وہاں مختلف ایشوز کو اٹھا کر فعال ارکان کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔ 2004 میں مرکز میں قائم ہوئی یو پی اے کی مخلوط حکومت کو اس پارٹی نے حمایت دی تھی، مگر بعد میں اسے واپس بھی لے لیا تھا۔

Read more

انتخابات پر ’نوٹا‘ کے اثرات ، ابھی منزل دور ہے

ہندوستانی میں ایک طویل عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ملک کی تقریباً سبھی سیاسی پارٹیاں ایسے امیدواروں کو بھی میدان میں کھڑا کردیتی ہیں، جن کا ماضی داغدار رہا ہے۔ ان امیدواروں میں چور، ڈکیت، لٹیرے، قاتل، زانی یا ریپسٹ، اسمگلر سبھی شامل ہیں۔ اسی لیے جہاں سے یہ امیدوار الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں، وہاں کے عوام کا ایک طبقہ انہیں ناپسند کرنے کی وجہ سے یا تو ووٹنگ کے دن اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ تک جاتا ہی نہیں یا پھر چاہتا ہے کہ اسے کوئی ایسی سہولت ملے، جہاں پر وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر سکے کہ وہ اس سیٹ کے لیے جتنے بھی امیدوار ہیں، ان

Read more