اتر پردیش میں بڑھتی لاقانونیت

لیڈروں اور مجرموں کی ملی بھگت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ عورتیں اور لڑکیوں کی آبرو قدم قدم پر خطرے میں ہے۔ پولیس کی بھلا کیا مجال کہ وہ مجرموں اور دبنگوں پر ہاتھ ڈال دیں، کیونکہ جن آقائوں کے ہاتھ میں اس کی نوکری ہے، وہ مجرموں اور دبنگوں کے سرپرست ہیں۔

اتر پولیس کی سست چال مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے مجرم پولیس سے گھبراتے تھے، اب پولیس مجرموں سے گھبراتی ہے۔ اسے اپنی وردی چھن جانے کا ڈر ہمیشہ لگا رہتا ہے۔ ڈرے بھی کیوں نہ، کیونکہ مجرموں کے تار ایسے طاقتور لیڈروں اور افسروں سے جڑے ہوتے ہیں ، جو کہیں نہ کہیں داغدار ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے مجرموں کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔انہیں وردی کا قطعی خوف نہیں ہے۔ غلطی ہونے کے بعد بھی وہ الٹے پولیس پر رعب جماتے ہیں۔ پولیس سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ اگر پولیس اپنے پر آ جائے تو وہ کیا نہیں کرسکتی ۔لیکن پچھلے کچھ وقت سے ریاست کی

Read more

کیا ہند اور خلیجی ممالک کے رشتوں میں قربت بڑھے گی؟

نریندر مودی کے دور میں مسلم دنیا خاص طور پر خلیجی ملکوں کے ساتھ ہندوستان کا رشتہ کیسا رہے گا؟ نیزکیا اب وہاں مقیم کئی لاکھ این آر آئیز کی اپنے وطن عزیز کے تئیں ایک عرصہ سے چلی آرہی سرد مہری ختم ہوگی اور وہ یہاں سرمایا کاری کرکے ملک کی معیشت کو مستحکم و مضبوط بنانے کی جانب آگے بڑھیں گے؟یہ سب بڑے اہم سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے کے لئے ماضی کے کچھ اوراق پلٹنے ہوںگے۔
آزادی کے قبل اور بعد مسلم ملکوں خاص طور پر خلیجی ممالک کے ساتھ ہندوستان کا رشتہ انتہائی مضبوط اور خوشگوار رہا ہے۔اسی رشتے کی وجہ سے1990کی دہائی تک ہندوستان نے اسرائیل سے دوری بنائے رکھا ۔لیکن دوری بنائے رکھنے کا یہ سلسلہ1990کے بعد برقرار رکھنا مشکل ہوگیاکیونکہ ہائی ٹیک دور شروع ہوچکا تھا۔ہائی ٹکنالوجی میں اسرائیل نے تیزی سے ترقی کی۔ لہٰذا ہندوستان کو جس طرح سے تاریخی روابط کو برقرار رکھتے ہوئے پٹرول حاصل کرنے کے لئے خلیجی ملکوں سے دوستی کی ضرورت تھی، اسی طرح فوجی طاقت کے استحکام اور کلچرل روابط کو فروغ دینے کے لئے اسرائیل سے تعلقات بڑھانا بھی اس کے لئے وقت کا تقاضہ تھا۔اسی تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے 1992 میں آنجہانی پی وی نرسمہارائو کے دور اقتدار میں ہند – اسرائیل سفارتی تعلقات قائم کیے گئے۔

Read more

تین سو ستر کو ختم نہیں، مضبوط کرنا ہوگا

جو ایشو مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے، وہ آرٹیکل 370 ہے۔ یہ کہنا ٹھیک ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہی لمبے وقت سے ہندوستان کا موقف ہے۔ حالانکہ، یہ بات تاریخی طور پر سچ ہے کہ کشمیر ہندوستان کی دیگر ریاستوں جیسا نہیں ہے۔ کشمیر کچھ شرطوں کے ساتھ ہندوستان میں شامل ہوا تھا، وہ بھی 15 اگست، 1947 کو نہیں، 26 اکتوبر، 1947 کو۔ ناجائز طریقے سے کشمیر کے زیادہ تر حصے پر پاکستان نے قبضہ کر لیا تھا۔ جب آدھے سے بھی کم کشمیر ہندوستان کے ساتھ آیا، تب کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے کچھ خاص شرطوں کے ساتھ ہندوستان میں شامل ہونے کے میثاق پر دستخط کیے۔ ان شرطوں کو آرٹیکل 370 میں شامل کیا گیا ہے۔

Read more

مہاراشٹر میں کانگریس و این سی پی اتحاد کا چل چلائو

مہاراشٹر کو کانگریس کاناقابل تسخیر قلعہ کہا جاتا ہے۔ برسوں سے یہاں کی ریاستی اسمبلی میں کانگریس اور اس کی کوکھ سے نکلی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی مخلوط سرکارقائم ہے۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل ریاستی سرکار کو گمان تھا کہ خواہ کتنے بھی نامساعد حالات ہوں، کتنی بھی تیز و تند مخالف ہوائیں چلیں، اس کا اور اس سے نکلی این سی پی کا مشترکہ قلعہ اتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی آندھی اور طوفان اس پر شگاف تک نہیں ڈالسکے گا، لیکن جب پارلیمانی انتخابات 2014 کے نتائج سامنے آئے، تو کانگریس کا یہ مضبوط قلعہبے جان ہوگیا، اس کے بڑے بڑے قد آور لیڈر یو پی اے مخالف لہر یا پھر مودی لہر میں غرقاب ہوگئے ۔غور تو کیجئے کہ مہاراشٹر کی 48پارلیمانی سیٹوں میں سے کانگریس 2اور این سی پی 4سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ گویا مہاراشٹر میں یو پی اے محض 6سیٹوں پر سمٹ گیا اور باقی 42سیٹوں پر این ڈی اے (بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا) قابض ہوگیا۔

Read more

تعلیمی ڈگری پر توجہ ہو رہی ہے ، داغی وزرائ پر کیوں نہیں؟

لوک سبھا انتخابات ختم ہو گئے اور نتائج آنے کے بعد مودی سرکار کی کابینہ بھی بن گئی۔ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے وزراء نے اپنا اپنا قلمدان بھی سنبھال لیا اور اب ان کے کام کی شروعات بھی ہو چکی ہے۔ نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد میڈیا میں سب سے زیادہ بحث وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی کی تعلیمی ڈگری کو لے کر چلی۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کے اودھم پور سے منتخب ہونے والے ایم پی ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے آرٹیکل 370 پر دیے گئے بیان نے بھی سیاسی بحثوں کو گرما دیا۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ آج کل نہ تو میڈیا اور نہ ہی بی جے پی مخالف دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈر

Read more

پارلیمنٹ میں کون نبھائے گا اپوزیشن کا رول؟

سیاسیجمہوریت کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنا ہی پرانا ہے سرکار اور اپوزیشن کے درمیان کافرق ۔ ہندوستان کی بات کریں، تو یہاں کے سیاسی نظام میں شروع سے ہی ایک مضبوط اپوزیشن کا تصور رہا ہے۔ اس کی روایت آزادی کے بعد پڑی۔ چاہے چکرورتی راج گوپال آچاریہ ہوں یا ہرین مکھرجی، رام منوہر لوہیا ہوں یا ناتھ پائی، جے بی کرپلانی ہوں یا مدھو لمیے، ان کی سیاست ہی اس دور کی حکومتوں کے کام کاج، پالیسیوں کی نگرانی کرنے پرمبنی تھی۔ویسے آزادی کے فوراً بعد جب اپوزیشن کی آواز مضبوط نہیں تھی، تب کانگریس کے اندر کے بعض افراد یہ رول ادا کرتے تھے، جن میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے داماد اور اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی پیش پیش تھے۔ پریس کو قابو میں رکھنے کے لیے جب نہرو حکومت نے کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا، تو ان ہی فیروز گاندھی نے ایوان میں اینٹ سے اینٹ بجادی اور قانون بننے نہیں دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی بحث کے دوران انھوں نے پریس کو جمہوریت کا ’چوتھا ستون‘ کہا تھا، جو کہ بعد میں باضابطہ اصطلاح بن گیا۔ دلچسپ بات تویہ ہے کہ خود ’چوتھی دنیا‘ کا نام اسی اصطلاح سے منسوب ہے۔

Read more

لبرل پارٹی سامنے آ سکتی ہے

کانگریس کے بارے میں بھو ل جائیے۔ یہ فیملی کے باہر کسی سے بھی مشورہ نہیں لیتی اور اپنا زوال خود چاہتی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ’’یہ راہل کی غلطی نہیں تھی‘‘۔ تاہم، 2014 کے انتخابات کا مرکزی نکتہ بی جے پی کی جیت نہیں، بلکہ اپوزیشن میں کسی بڑی پارٹی کی غیر موجودگی ہے۔ ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ ممتا بنرجی اور جے للتا آگے کبھی متحد ہو پائیں گی اور نہ ہی اپوزیشن میں کوئی تھرڈ فرنٹ بن پائے گا۔ اس قسم کے فرنٹ کا مقصد صرف اقتدار پر قابض ہونا ہوتا ہے، کوئی سنجیدہ سیاست کرنا نہیں۔

Read more

مسلم نئی نسل کی مودی سےتوقعات

بی جے پی حکومت بر سر اقتدار آگئی ہے۔ مودی سیکولر ہندوستان کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں اور ایک فسانہ حقیقت بن گیا ہے۔ ظاہر ہے، مودی اب 5 سال کے لیے اس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم ہیں۔ کہا یہی جا رہا ہے اور سچ بھی یہی ہے کہ کانگریس کی 10 سالہ حکومت میں مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور گھوٹالوں سے عوام اتنے عاجز آ چکے تھے کہ اب انہیں ایک ایسی متبادل حکومت اور ایک ایسے وزیر اعظم کی ضرورت تھی، جو ملک کو اس اقتصادی بحران سے باہر نکال سکے، جو نوجوانوں کو نئی امیدیں دلا سکے۔ چونکہ اس بار نوجوانوں کا ووٹ فیصد کافی بڑھا ہوا تھا، اس لیے ان میں سے زیادہ تر نے مودی کے نام پر ہی ووٹ دیا نیز اس بار 16 ویں لوک سبھا میں نئے 315 چہروں میں بی جے پی کے بھی زیادہ تر کم عمر کے افراد منتخب ہو کر آئے ہیں۔

Read more

حکومت اور اپوزیشن : ایک نئی شروعات کی ضرورت

چھبیس مئی کو نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر 45 وزراء کی شروعاتی کابینہ کے ساتھ حلف لیا۔ راشٹرپتی بھون کی پریس ریلیز سے وزراء کی وزارتوں کی جانکاری دی گئی۔ اس سے پہلے ہی تبصرہ کیا جانے لگا کہ کابینہ کی ٹیم لائق ہے یا نہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ نامناسب ہے۔ عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا ہے اور ان انتخابات میں لوگوں نے نہ صرف بی جے پی کو، بلکہ نریندر مودی کو ذاتی طور پر ووٹ دیا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اسے پسند کریں یا نہیں، لیکن یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ نریندر مودی کام کریں گے اور اسی بنیاد پر انہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جہاں تک کابینہ کا سوال ہے، تو انہوں نے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے سینئر کیبنٹ ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے، لیکن انہیں محدود ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایسا ان کی سینئرٹی اور عمر وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Read more

آئی پی ایل میں ہندوستانی گیند بازوں کا جلوہ

گزشہ سالوں میں اسپنر یا غیر ملکی گیند آئی پی ایل میں اپنا دبدبہ قائم کرتے چلے آ رہے تھے لیکن آئی پی ایل 7کے اس سیزن میں ہندوستان کے نوجوان تیز گیندبازوں نے بہترین جوش اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔حالانکہ سابق کرکٹرس اور مبصرین کرکٹ کے اس مختصر فارمیٹ میں کسی گیند باز کی کارکردگی کا صحیح تجزیہ نہیں کر پاتے ہیں۔سابق کرکٹرس اور کرکٹ مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ آئی پی ایل اپنا ہنر دکھانے کا ایک بہتر پلیٹ فارم ضرور ہو سکتا ہے ، لیکن یہ مختصر فارمیٹ کا کھیل، جس کی وجہ سے اس کا مقابلہ بین الاقوامی کرکٹ کے معیار سے نہیں کیا جا سکتا۔

Read more