سال 2012:سماجوادی کو اقتدار ملا اور بقیہ کو سبق

اجے کمار
کئیکھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ سال 2012تاریخ کے اوراق میں درج ہو گیا۔ گزرا سال نہ تو سب کے لئے خوشیوں بھرا رہا اور نہ ہی سب کے لئے خراب۔ کسی نے کم پایا تو کافی کچھ کھو دیا، تو کسی کو بہت کچھ مل گیا اور کھویا کم۔خاص کر سیاسی طور پر گزرا سال کافی اہم رہا۔ اتر پردیش میں اقتدار تبدیل ہوا۔ نوجوان لیڈر کے ہاتھ میں صوبہ کا اقتدار ملا تو بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو اقتدار سے

Read more

کیا کانگریس مودی کو روک سکتی ہے ؟

میگھناد دیسائی
گجرات انتخاب سے متعلق تمام بحثوں کے درمیان ایک سوال اورکھڑا ہوتا ہے کہ نریندر مودی ایک ایسے شخص ہیں جو الیکشن جیت سکتے ہیں اور وہ بھی تب، جب کہ تمام لبرل و سیکولر میٖڈیااور این جی او ان کے خلاف ہوں۔ ان کے ریکارڈ کو اس طرح باریکی سے کھنگالا گیا اور جانچ کی گئی کہ دیگر کسی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔اس بار تو ہندو قدامت پسند بھی ان کے خلاف تھے۔ وشو ہندو پریشد کیشو بھائی کے ساتھ تھی، جبکہ آر ایس ایس بھی مودی سے غیر مطمئن تھی۔ ابھی سے لیکر

Read more

سب کے لئے یکساں پیمانہ ہو

محب اللہ قاسمی
موجودہ دورمیں اگرہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں ایک چیزنمایاں طور پر نظرآتی ہے۔ وہ یہ کہ لوگوں نے دوپیمانے بنارکھے ہیں۔ایک پیمانہ اپنے لیے اوردوسرا پیمانہ دوسروںکے لیے۔وہ اپنے لیے بہتری کی خواہش رکھتے ہیںاوردوسروںکے لیے برا چاہتے ہیں۔ اپنے لیے تو یہ پسند کرتے ہیںکہ دوسرے لوگ ان کے ساتھ اچھا برتاؤکریں،لیکن وہ خوددوسروںکے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتے۔وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کا خوب خیال رکھیں لیکن وہ خوددوسرے لوگوںکا ذرہ برابربھی خیال ن

Read more

نا انصافی اور گھوٹالوں کا سال رہا 2012

اشرف استھانوی
بہار میں سال 2012 کے دوران اگلے لوک سبھا انتخاب میں وزیراعظم کے عہدہ کی امید واری کے سوال پر حکمراں این ڈی اے میں شامل جماعتوں: جنتا دل یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں زبردست اٹھا پٹخ اور اس کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی گجرات اسمبلی انتخاب سے مکمل کنارہ کشی، مودی کی ہیٹ ٹرک پر رسمی ردعمل کے اظہار اور حلف برداری تقریب میں شرکت سے گریز، قومی

Read more

یو پی اے کونئی عوامی تائید حاصل کرنی چاہئے

کمل مرارکا
دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کا حادثہ ہونے کے بعد حال میں ہوئے مظاہرے سے کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ اب آپ انٹر نیٹ کے دور میں پہنچ گئے ہیں، جہاں بغیر کسی تنظیم کے بھی ہزاروں لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر پیغام کے ذریعے لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ مظاہرہ ہوا کیوں؟ ہزاروں کی تعداد میں لوگ بغیر کسی تنظیم کے اکٹھا کیوں ہوئے؟ ایسا نہی

Read more

اب اس طوفان کو روکنا مشکل ہے

ڈاکٹر منیش کمار
ایک بار لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ کے دفتر کے باہر زبردست مظاہرہ ہوا۔ یہ لوگ پوروانچل کے الگ الگ شہروں سے لکھنؤ پہنچے تھے۔ احتجاجیوں کی تعداد تقریباً 1500 رہی ہوگی۔ اس میں کسان، مزدور اور اسٹوڈنٹ لیڈر بھی تھے، جو اپنی تقریروں میں وزیر اعلیٰ کے خلاف آگ اگل رہے تھے۔ یہ سب اپنی تقریروں میں سیدھے وزیر اعلیٰ پر نشانہ لگا رہے تھے۔ اس مظاہرہ کی قیادت سماجوادی لیڈر

Read more

تعلیم پر کھنچی تلوار

سروج سنگھ
تین دنوں تک پٹنہ میں چلے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید ے قومی کنونشن میں یوں تو ملک کی سلامتی اور بہتری کے تمام مدعوں پرسنجیدگی سے غور خوض ہوا لیکن ملک اور خصوصاً ریاست بہار میں تعلیم کے معیار میں آ رہی تنزلی پر مرکز ی حکومت اور بہار حکومت کے خلاف کنونشن میں آر پار کی لڑائی کا آغاز ہو گیا۔ اتفاق رائے سے طے ہوا کہ اگر ملک کو سپر پاور بننا ہے تو پہلے اسے

Read more

تیس جنوری کی ریلی پر انا بضد

سروج سنگھ

نتیش سرکار کے اڑیل رویے کے خلاف انا ہزارے نے آخر کار اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ وہ اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق 30 جنوری کو ہی پٹنہ کے گاندھی میدان سے ملک کو بیدار کرنے کی مہم چلائیں گے۔ انا ہزارے نے ملک کے ان تمام نوجوانوں سے

Read more

انڈین ایکسپریس کی صحافت۔2

ڈاکٹر منیش کمار
اگر کوئی اخبار یا ایڈیٹر کسی کے ڈرائنگ روم میں تاک جھانک کرنے لگ جائے اور غلط یا فرضی کہانیاں شائع کرنی شروع کر دے تو ایسی صحافت کو بزدلانہ صحافت ہی کہا جائے گا۔ حال ہی میں انڈین ایکسپریس نے ایک اسٹوری شائع کی تھی، جس کا عنوان تھا ’’سیکریٹ لوکیشن‘۔ یہ اس اخبار میں شائع ہونے والے مستقل کالم ’’Delhi Confidential‘‘کا ایک حصہ تھا۔ اس اسٹوری کو پڑھ کر

Read more