انا ہزارے! جائیں تو جائیں کہاں؟

مجاہد آزادی کے ساتھ بڑے قد آور لیڈر تھے۔ ایک بار وہ دیوی لال کے ساتھ کار میں جا رہے تھے۔ بیچ سڑک پر ایک کتا مرا پڑا تھا۔ پرتاپ سنگھ کیرو نے کار رکوائی اور دیوی لال سے پوچھا کہ بتاؤ کتا کیوں مرا؟ دیوی لال کو یہ سوال بڑا اَٹ پٹا سا لگا۔ انہوں نے کہا کہ کتے تو مرتے ہی رہتے ہیں، یونہی مر

Read more

عشرت جہاں فرضی انکائونٹر: کیا ہندوستانی میڈیا اپنا محاسبہ کرے گا؟

عابد انور
ہمارے ہندوستان میں ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اوراس سلسلے کے تقریباً 95 فیصدمعاملے فرضی ہی ہوتے ہیں۔ہندوستان میں جذبات مشتعل کرکے سیاست کرنے، کسی فرقہ کا ناطقہ بند کرنے،معاشی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے اور معاشرتی استحصال کرنے کا رواج عام ہے ہندوستان کا سیاسی محور اسی کے ارد گرد گھومتا ہے کیوں کہ ان جرائم کرنے والے خاطیوں کو کبھی سزائیںنہیں ملتیںاس لئے اس طرح کے جرائم عام بات ہیں۔ کوئی بھی پولیس والاکسی کو جعلی انکائونٹرمیں م

Read more

بہار میں بنیادی تعلیم کے نام پر بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ

سلمان عبدالصمد
ریاست بہار جو کہ 38اضلاع پر مشتمل ہے، کا ضلع مدھوبنی کوئی محتاج تعارف نہیں۔ اس ضلع کا وسفی بلاک متعدد وجوہات سے توجہ کا حامل آج بھی ہے ۔ اس لحاظ سے بھی یہ بلاک قابل فخر ہے کہ میتھلی زبان کے مایہ ٔ ناز شاعر ودیاپتی کی پیدائش 1352اوروفات 1442 میں اسی سرزمین پر ہوئی۔ وہ گنپتی کے بیٹے تھے، جنہیں میتھلی زبان کے شاعرکوئل کے نام سے بھی ج

Read more

بندیل کھنڈ میں دراڑ

سریندر اگنی ہوتری
اترپردیش کا بندیل کھنڈ سرخیوں میں ہے۔ ووٹوں کی خاطر سب کی نظر بندیل کھنڈ کی سر زمین پر ہی ہے۔ سال 1987کے راٹھ اسمبلی ضمنی انتخابات میں بی ایس پی یہاں پہلی بار دوسرے نمبر پر آئی تھی۔ یہاں سے بندیل کھنڈ میں بی ایس پی کے پیر جمنے شروع ہوئے اور آج سب سے زیادہ ممبران اسمبلی کے ساتھ یہ پارٹی برسراقتدار ہے۔ لیکن اب بی ایس پی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے اتر پردیش کے اسمبلی الیکشن جیتنے کا راستہ بندیل کھنڈ کی اوبڑ کھاب

Read more

یوروپ کی جمہوریت خطرے میں

میگھناد دیسائی
جمہوریت کی جائے پیدائش یونان میں گزشتہ دنوں اس کے ساتھ مذاق ہوا۔ جمہوری طریقے سے منتخب کیے گئے وزیر اعظم جارج پاپندرو کو استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔ پاپندرو یونان کی سماجوادی پارٹی ’پاسوک‘ کے لیڈر ہیں اور ان کے والد اور دادا یونان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ یونان کے وزیر اعظم کی غلطی یہی تھی کہ انہوں نے اقتصادی بحران کے شکار یونان کے قرض کی واپسی کے لیے ریفرنڈم کراکر عوام کو اس میں حصہ دار بنانے کی کوشش کی تھی۔ یہ نہایت حساس موضوع تھا۔ اگ

Read more

کسانوں کی خود کشی کب رکے گی

پروین مہاجن
ودربھ کے کسان بد حال ہیں اور یہاں کے سیاست داں بد معاش ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسان خوشحال ہوں، ان کے مسائل کا حل ہو،وہ ترقی کریں اور اقتصادی طور پر خودکفیل ہوں۔ اس لئے کاشتکاری سے جڑے مسائل کا مستقل حل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔اگر کسانوں سے جڑے مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا تو سیاست کرنے کے لئے ملنے والا ایک جذباتی ایشو ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔یہی یہ وجہ ہے کہ اقتدار کے سیاسی دائو پیچ میں آج کسان ،کاشتکار ی محض ایک ایشو بن کر رہ گئے ہیں۔ جب بھی مہاراشٹر لیج

Read more

عشرت جہاں دہشت گرد نہیں تھی

سمیع احمد قریشی
انیس سالہ عشرت جہاں جسے اب ہم عشرت جہاں کہنے کا حق نہیں رکھتے۔ یقینی طور پر ہم اب اُسے عشرت جہاں کی بجائے عشرت جہاں شہید ہی کہہ سکتے ہیں۔ اب ہمیں یہی کہنا ہے۔ شہید عشرت جہاں۔ گجرات کے مودی یعنی موذی کی پولس نے اُسے ایک مڈبھیڑ میں مارا۔ الزام یہ لگایا کہ وہ لشکر طیبہ کی دہشت گرد ہے۔ مودی کو مارنا چاہتی تھی۔ ہم سلام کرتے ہیں۔ اُن کی بہادری ج

Read more

وجے مالیا اور سیاست کا گٹھ جوڑ آسمان میں گھوٹالہ

یہ ہندوستانی جمہوریت کا بازاری چہرہ ہے، جو کارپوریٹس کے مفاد کے مطابق فیصلے لیتا ہے، جہاں جمہوریت کے پاسباں بھوک سے مرتے کسانوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کا اپنا فرض پورا نہیں کرتے، لیکن صنعتی دنیا کے سپہ سالاروں کے قدموں میں ’’سرخ قالین‘‘ بن کر بچھ جانا اپنی شان سمجھتے ہیں۔ اس جمہوریت کے بازاری پن کا اس سے بڑا ننگا سچ اور کیا ہوگا کہ جب ملک میں ہر آٹھ گھنٹے پر ایک کسان بھوک کی وجہ سے اور محض پچاس روپے کے قرض کا شکار ہو کر خود کشی کر رہا ہے، تب س

Read more

اقتدار کا غلط استعمال روکنا ہوگا

میگھناد دیسائی
کیا یہ چونکانے والی بات نہیں ہے کہ گجرات کے دو ممبرانِ اسمبلی احمد آباد کے پاس ہنگامہ کرتے ہوئے پائے گئے۔ جب پولس نے انہیں گرفتار کر لیا تو وہ تشدد پر آمادہ ہوگئے۔ اس کی خبر جب نریندر مودی تک پہنچی، تو وہ پولس اسٹیشن گئے اور ممبرانِ اسمبلی کو گرفتار کرنے والے پولس والوں کو ڈانٹ لگائی اور اِن ممبران اسمبلی کو چھڑوایا۔ کیا یہ قانون و انتظامیہ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ک

Read more

ملائم گھر سے باہر تک مصیبت میں

اجے کمار
بھلے ہی اینٹ اینٹ جوڑ کر گھر بنتا ہو لیکن اس کی بنیاد اس میں رہنے والوں کے کردار سے مضبوط یا کمزور ہوتی ہے،جس طرح گھر کو وقتاً فوقتاً رکھ رکھائو کی ضرورت ہوتی ہے ، ویسے ہی گھر میں رہنے والوں کے رشتے مضبوط بنے رہیں اس کے لئے خاندان والوں کو مشترکہ طور پر کافی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ ایک بھی غلط فیصلہ خاندان میں بکھرائو جیسی صورت حال پیدا کردیتا ہے۔خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری گھر کے بزرگوں کی ہوتی ہے ، مگر سچائی یہ بھی ہے کہ آج کے زمان

Read more