بہار اسمبلی انتخابات: مسلم ووٹر ہی کریں گے نتیش کی قسمت کا فیصلہ

اشرف استھانوی
بہار میں 15 ویں اسمبلی کے انتخاب کی سرگرمیاںبتدریج زور پکڑتی جا رہی ہیں ۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما امیدواری اور نامزدگی کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے ان کے دروازے پر پہنچنے لگے ہیں۔ اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالوپرساد اور لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس پاسوان کے بعد اب وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی ان

Read more

ہم تو ڈوبیں گے صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے

سروج سنگھ
پورا بہار انتخابی موڈ میں ہے، ہر طرف فتح وشکست کے اعداد و شمارپر رائے زنی اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ صبح کے وقت جو امیدوار بھاری نظر آتاہے وہ شام ہوتے ہوتے کمزور ثابت کردیا جاتا ہے۔ حامیوں کی ایک بڑی فوج نیتا جی کے گاؤں میں آتے ہی زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے لگتی ہے، لیکن نیتا جی کے جاتے ہی گٹکھا منہ میں جاتا ہے اور تھوکنے کے ساتھ یہ تبصرہ ہوتا ہے ’ا

Read more

مائکروسافٹ کی اصلیت کو سمجھے حکومت

ریتیکا سونالی
کمپیوٹرکے فروغ نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ موجودہ دور میں زندگی کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے، جہاں کمپیوٹر کا استعمال نہ ہورہا ہو۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ترقی پذیر ممالک بھی کمپیوٹر کے ذریعہ سبھی کاموں کو آسان بنانے کے لئے اس کی

Read more

یہ ہیں نول گڑھ کے گائڈ

ششی شیکھر
مرارکا حویلی میں ببلو شرما فراٹے دار فرینچ اور انگریزی میں سیاحوں کو حویلی کی تاریخ سے واقف کرا رہا ہے، لیکن یہ معلوم ہونے پر تعجب ہوا کہ ببلو پڑھا لکھا نہیں ہے، غریبی کی وجہ سے اسکول نہیں جاسکا تھا۔ شروع سے ہی دوستوں کے ساتھ نول گڑھ آنے والے غیرملکی سیاحوں کے ساتھ گھومتا رہتاتھا۔ انہیں سے تھوڑی بہت فرینچ سیکھنے لگا۔ اپنے دوست محمد یونس سے انگریزی سیکھی۔ سالوں تک گھومتے سیکھتے آج ببلو نول گڑھ کا ایک جانا مانا ٹورسٹ گائڈ بن چکا ہے۔ فرینچ اور انگریزی زبان پر اس کی ایک جیسی گرفت ہے۔ ببلو کی ہی طرح شیر محمد کو بھی دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ پانچویں درجہ تک پڑھا شیر محمد اتنی اچھی انگریزی بول سکتا ہے۔ پانچویں تک ہی پڑھا جاوید بھی فرینچ

Read more

حکومت کی بے رخی

دلیپ چیرین
ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر میں انصاف کا پہیہ بے حد آہستہ آہستہ گھومتا ہے۔ خود ریاستی حکومت بھی یہ قبول کرتی ہے کہ ریاست میں سول افسران کے خلاف 600سے بھی زیادہ معاملے زیر التوا ہیں۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان میں کئی معاملے ایسے ہیں، جن میں وزیر اور بڑے نوکر شاہ ملزمین میں شامل ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی ویجلینس کمیشن فی الحال سیاست دانوں اور نوکرشاہوں کے خلاف بدعنوانی کے تقریباً 125معاملوں کی جانچ کر رہی ہے۔ ان میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹو سروسیز اور اسٹیٹ سروسیز کے کئی ایسے افسر ہیں جو سبکدوش

Read more

اندھی عقیدت پر مبنی ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ

ایل ایس ہردینیا
ہندوستان کا آئین نافذ ہونے کے بعد سے آج تک عدالت کے کسی فیصلے پر شاید ہی اتنا زبردست ردعمل سامنے آیا ہو، جتنا کہ حال میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے ذریعہ اجودھیا معاملے میں دئے گئے فیصلے پر آیا۔ جہاں متعدد لوگ فیصلے کا استقبال کررہے ہیں وہیں ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، جو اسے غلط ٹھہرارہے ہیں۔ پورا ملک بے چینی کے ساتھ اس فیصلے کا انتظار کررہا تھا۔ پہلے الٰہ آباد ہائی کورٹ اس فیصلہ کا اعلان 24ستمبر کو کرنے والا تھا، لیکن اس درمیان سپریم کورٹ نے فیصلے کے اعلان پر روک لگادی اور بالآخر 30ستمبر کو

Read more

ڈائنوں کی ہلاکت ،قبائلی خواتین کونگل رہی ہے جائیداد کی ہوس

راجیش ایس کمار
چھ ستمبر2010: شمالی دیناجپور ضلع کا تلنا گاؤں۔ ایک آدیواسی کو پیٹ پیٹ کر گاؤں کے لوگ موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ مقتول ہیم برم سوم کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک ایسی خاتون کا شوہر ہے، جسے گاؤں کے لوگ ڈائن مانتے ہیں، گاؤں کے لوگ اس خاندان کے لیے سزا طے کرتے ہیں۔ شوہر کے لیے سزائے موت اور مالو کے لیے گاؤں چھوڑنے کی سزا۔
لیکن یہ کہانی ابھی ادھوری ہے۔ اس پورے معاملے کی اصل حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ دراصل اس آدیواسی اکثریت والے تلنا گاؤں کی غیرفطری موت ہوجانے سے گاؤں کا ایک دبنگ خان

Read more

فیصلہ انصاف اور دستور کی روح کے منافی

سندیپ پانڈے (میگ سیسے ایوارڈ یافتہ)
اجودھیا معاملے پر فیصلہ آچکا ہے۔ چاروں طرف فیصلے کی تعریف ہورہی ہے۔ کسی کو بھی مایوس نہیں کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ امن وسکون غارت ہونے کا جو خطرہ تھا، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔انتظامیہ نے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پورا بندوبست کررکھاتھا،لیکن ایسا کوئی بھی قابل ذکر حادثہ رونما نہیں ہوا۔امن وسکون برقرار رہا، لوگوں نے بڑی سنجیدگی سے فیصلہ سنا اور معاملے کی نزاکت کو سمجھ کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا۔
سبھی مان رہے ہیں کہ فیصلہ عقیدت کی بنیاد پر ہوا ہے۔ ججوں کی منشا یہ تھی کہ تنازع کا حل نکل آئے۔ یہ فیصلہ تمام فریقوں کو ’تنازع کا حل‘ پیش کرنے کے نقطہ نظر سے تو بہت اچھا ہے، لیکن یہ آئین کی روح کے منافی اور قانونی نقطہ نظر سے غلط ہے۔ اس فیصلے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مستقبل میں اس نوعیت کے نئے تنازعات اٹھ کھڑے ہونے کے امکانات

Read more