بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری

کمل مرارکا
بدعنوانی ایک اہم ایشو ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ایشو ہے روزگار کے مواقع کی کمی۔1991 سے پہلے کی اقتصادی نظام میں ترجیحات تھیں، غریبوں کو سستی غذائی اشیاء فراہم کرانا ، اناج کی کمی سے بچنے کے لئے زراعتی علاقے کو سبسڈی دینا اور پبلک یا نجی علاقے کے توسط سے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ۔یہ ترقی یقینا نظر نہیں آرہی تھی لیکن ہومسلسل رہی تھی ۔لیکن 1991 کے بعد اقتصادی شرح نمو کئی گنا بڑھ گئی۔ اس سال بھی 7 فیصد کی نمو ہوئی،جسے کم مانا جارہا ہے،کیونکہ امید 10-9 فیصد کی تھی۔یہ صحیح بات

Read more

یو پی میں کانگریس کا ابھرتا ہوا مسلم عشق

اتر پردیش میں 18.49 فیصد مسلم ووٹوں کو حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی کانگریس کے سامنے سماجوادی پارٹی روڑا بن کر کھڑی ہے۔ پہلے تین بار ملائم اور 2012 میں مسلم ووٹوں کے سہارے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے والے اکھلیش یادو کا مسلمان مضبوطی کے ساتھ ہاتھ پکڑے ہوا ہے۔ کانگریس مسلمانوں کے سماجوادی پارٹی سے عشق سے حیران ہے۔ نہ تو مرکزی حکومت کی اقلیتوں کے لیے چلائی جا رہی اسکیمیں اور نہ ہی مسلمانوں کو سماجوادی پارٹی سے دور کرنے کے لیے مرکزی وزیر اور سابق ایس پی لیڈر (اب کانگریسی) بینی پرساد ورما، سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال جیسے تمام کانگریسیوں کے ملائم کے خلاف چلائے جا رہے لفظوں کے تیر نشانے پر لگ رہے ہیں۔

Read more

مسلمان کانگریس سے بیزار ہو رہا ہے

ریاستی یوتھ کانگریس کے سابق سربراہ اور پردیش کانگریس کمیٹی کے آبزروَر نیز بلڈر 53 سالہ غلام مصطفی تو سیدھے طور پر تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کانگریس نے پالیسی نہیں بدلی اور اپنے کیے گئے اعلانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا، تو پھر یقینا مسلمان کانگریس سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر مسلم عوام کو اقتدار میں صحیح حصہ داری کیوں نہیں مل پاتی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس اُن لوگوں کو، جن کی عوام میں پکڑ ہے، اہمیت نہیں دیتی ہے، تو مسلمانوں کا اعتماد اس پر سے یقینی طور پر اٹھ جائے گا۔ یہ بڑے دل جلے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نے کانگریس کو 30 برس دے دیے، مگر اس نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق، صورتِ حال تو یہ ہے کہ

Read more

چارہ گھوٹالہ: جیل جانے کی صورت میں لالو کا جانشین کون بیوی یا بیٹا؟

اشرف استھانوی
بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی سپریمو لالو یادو کو چارہ گھوٹالے کے جس معاملے میں سزا سنائے جانے کا امکان ہے وہ غیر منقسم بہار کے چائی باسا ضلع کے سرکاری خزانہ سے 37.70 کروڑ روپے غلط طریقے سے نکالے جانے سے متعلق ہے۔ اس معاملے کے انکشاف اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد کے خلاف چارج شیٹ داخل کیے جانے کے بعد 1997 میں لالو کو بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا اور اپنی اہلیہ رابڑی دیوی کو حکومت کی کمان سونپنے کا فیصلہ کرنا پڑا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات پٹنہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر 2000 میں سی بی آئی کو سونپی گئی تھی۔ اس معا ملے میں لالو پرساد کے علاوہ بہار کے ایک اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا سمیت 56 افراد

Read more

وقف ترمیمی بل کو لے کر ہنگامہ آرائی

ایک ایسے وقت میں، جب وقف ترمیمی بل اِس بار مانسون اجلاس میں پیش کیے جانے کی خبر گرم تھی اور اس میں شامل نوٹ سے وقف آراضی کے سودے کی گنجائش نکل رہی تھی اور اس تعلق سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اندر محاذ آرائی کا شروع ہونا بہت ہی افسوس ناک ہے۔ ذیل کا انکشافاتی مضمون اس ایشو کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بحث کرتا ہے اور ملت کی توجہ اس جانب مبذول کراتا ہے۔

Read more

کشمیری تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ملی ٹینسی سے رغبت: خطرناک رجحان

گزشتہ 24 سال سے وادیٔ کشمیر میں ایک متحرک اور مؤثر ملی ٹنسی سے جوجھنے والی ہندوستانی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے یہ اطلاعات کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں کہ اب نئی نسل کے تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان ملی ٹنٹوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ اگر فوری طور پر اس کے وجوہات کا پتہ لگا کر انہیں دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، تو حالات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔

Read more

ہندوستان کا اسرائیل پر انحصار: قومی سلامتی کے لئے خطرناک

اے یو آصف
آج مملکت اسرائیل ایک ایسی حقیقت ہے، جسے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، مگر اسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ اس نے سخت ناموافق حالات میں اپنی ذہانت، محنت اور مہارت سے دنیا کے بعض ممالک میں زبردست اثرات قائم کر لیے ہیں۔ اس کے یہ اثرات ان ممالک کی معیشت، تعلیم، زراعت، انٹیلی جنس اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں کھلے طور پرمحسوس کیے جاتے ہیں اور کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں۔ اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے افراد امریکی معیشت پر حاوی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں کے انتخابات پر بھی اس کا اثر لازمی ط

Read more

مائو واد مسئلہ کی اصل جڑ ہے سیاسی نظام

ششی شیکھر
عام طور پر ماؤ واد کے مسئلہ کو ایک سماجی و اقتصادی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن جب اس مسئلہ کے پیدا ہونے کے اسباب کی جڑ میں جائیں گے، تو پتہ چلے گا کہ یہ مسئلہ بھی ہندوستان کے دیگر مسائل کی طرح ہی ہے اور اس کی وجہ بھی وہی ہے۔ وہ وجہ ہے، اقتدار، انتظامیہ اور نظام پر سیاسی پارٹیوں کے ذریعے مکمل قبضہ بنائے رکھنے کی ذہنیت۔ سنٹرلائزڈ پاور، انتظامیہ اور نظام کی وجہ سے اس ملک میں آج بدعنوانی ہے، قدرتی وسائل کی کھلے عام لوٹ مچی ہوئی ہے۔ یہی وہ اسباب ہیں، جو ماؤ واد کو کھاد اور پانی مہیا کراتے

Read more

آئین میں سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے، آزادی کی حفاظت ہر قیمت پر ہونی چاہئے

دوسرا الزام یہ لگتا رہتا ہے کہ مرکز کو جو اختیارات دیے گئے ہیں، انہیں وہ ریاستوں پر تھوپتا ہے۔ اس الزام پر یہاں ضرور بحث ہونی چاہیے، لیکن مذکورہ اختیارات کو لے کر آئین کی مذمت کرنے سے پہلے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ مذکورہ اختیارات آئین کی عام تصویر نہیں پیش کرتے۔ مذکورہ اختیارات کا استعمال اور ان کا نفاذ صرف ایمرجنسی میں ہی ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ دھیان دینے لائق

Read more

اے ایم یو کورٹ میں خواتین نظر انداز کیوں؟

پاپا میاں کی تحریک کی کوکھ سے پیدا ہوئے فیمیل ایجوکیشن ایسو سی ایشن کی موجودہ سکریٹری پروفیسر اے ذکیہ صدیقی، جو کہ عبداللہ کالج کی پرنسپل اور اے ایم یو کورٹ کی ایکس آفیسیو رکن رہیں اور فی الوقت وزارتِ فروغ انسانی وسائل کے ذریعے گرلس ایجوکیشن کمیٹی کی چیئر پرسن ہیں، اے ایم یو کورٹ میں فی الوقت منتخب خاتون رکن کے نہ ہونے کو افسوس ناک بتاتی ہے اور اس کے لیے مردوں کی ذہنیت (Mindset) کو ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ قابل اور با صلاحیت خواتین کی کمی ہے۔ وہ حیرت کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ جب اولڈ بوائز کی اے ایم یو کورٹ میں نمائندگی ہے، تو آخر خواتین منتخب اراکین میں موجود کیوں نہیں ہیں؟ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے دس برس قبل ریٹائر ہوئیں ذکیہ صدیقی اے ایم یو کورٹ میں کم از کم دس فیصد خواتین

Read more