جینوا اجلاس کے بعد دہشت گردی سے نجات کی امید پیدا ہوئی ہے

دنیا کے کئی ملک دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔ خاص طور پر عرب ممالک اس بربریت کی بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہجرت کرکے دوسری جگہوں پر پناہ لے رہے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کا قتل ہوا ہے۔اربوں مالیت کی جائیدادیں تلف ہوئی ہیں۔عورتیں ،بچے اور بوڑھے سب ہی دہشت گردوں کے نشانے پر رہے ہیں۔دہشت گردی کے تعلق سے

Read more

’چوتھی دنیا‘ نے اجاگر کیا تھا کروڑوں کے فرضی لون کا معاملہ سرکار کوکروڑوں کی چپت

فرضی ایل پی سی (زمین کی ملکیت کے سرٹیفکیٹ)سمیت دیگر فرضی کاغذات کی بنیاد پر مختلف بینکوں کو کروڑوں روپے کی چپت لگانے والے منظم گروہ کے کچھ ممبران کی گرفتاری کے بعد بھی پولیس اہم سرغنہ کو دبوچ نہیں ہوسکی ہے۔ کئی طرح کے فرضی کاغذات اور مختلف بینکوں کی مہر سمیت پولیس کی گرفت میںآئے دو دھندے بازوں نے کئی راز بھی اگلے تھے۔ لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بہار کے کس کس ضلع کے کن کن بینکوں سے کتنے کروڑ روپے کی فرضیلون کی کلیئرنس کی گئی ہے۔ لیکن اتنا تو واضح ہو ہی گیا کہ بہار کے مختلف ضلعوں میں منظم گروہ کے ذریعہ فرضی لون کے ذریعہ سرکار کو کرورڑوں کی چپت لگائی گئی ہے۔ کئی بینکوں کے افسروں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔

Read more

بہار میں مجرمانہ شبیہ والے بے خوف ہیں

لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر اور لالو کے کاروباری باہو بلی برج ناتھی سنگھ کوپٹنہ کی کچی درگاہ علاقے میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ انہیں اے کے 47 کی دس گولیاں ماری گئیں جس سے فوری ان کی موت ہوگئی۔ان کا بیٹا اور بیوی اور بھائی کی بیوی سنگین طور سے زخمی ہیں۔ اس معاملے میں راگھو پور (لالو پرساد ،رابڑی دیوی اور اب تیجسوی پرساد یادو کا اسمبلی حلقہ)کے ایک مجرم سرغنہ منا سنگھ سمیت دیگر لوگوں پر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک پولیس نے کئی گرفتاری کی ہے،لیکن حادثے کا اہم سرغنہ منا سنگھ کو ابھی تک پکڑا نہیں جاسکتا ہے۔

Read more

اتر پردیش میں ذات اور مذہب کے نام پر پھر سے بیوقوف بنانے میں لگی ہیں سیاسی پارٹیاں

اتر پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی انتخاب کا وقت نزدیک آتا جارہا ہے، ویسے ویسے دلت اور مسلم ووٹوں کو لے کر سیاسی پارٹیوں میں مارا ماری اور سبقت لے جانے کا ماحول بنتا جارہا ہے۔اس وقت دو اہم سوال اتر پردیش کے سیاسی منظر پر منڈلا رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ملائم سنگھ یادو مسلم ووٹوں پر اپنی پکڑ برقرار رکھ پائیں گے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مایاوتی دلت ووٹوں پر اپنی پکڑ 2007 کی طرح رکھ پائیں گی؟ان دونوں سوالوں کے جواب موجودہ سیاسی ماحول میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کا حتمی جواب نہ ملائم کے پاس ہے اور نہ مایاوتی کے پاس۔ایک تیسرا سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے اور مایاوتی کے ہاتھوں سے دلت ووٹ چھیننے میں کیا بی جے پی کامیاب ہو پائے گی؟ اس میں بھی شبہ ہی ہے۔ یعنی اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے ما قبل کی سیاسی صورت حال بے یقینی کے ماحول سے گزر رہی ہے۔

Read more

جنتر منتر سے اٹھی بوندیل کھنڈ کو قحط سے پاک بنانے کی مانگ

نوین چوہان
گزشتہ 8 فروری کو دہلی کے جنتر منتر پر بوندیل کھنڈ سے آئے لوگوں نے وہاں کے مسائل کو لے کر دھرنا دیا۔’’ بوندیل کھنڈ سرودلیہ ناگرک سنگھرش مورچہ ‘‘ کے ذریعہ سماجوادی لیڈر رگھو ٹھاکر کی قیادت میں منعقد اس دھرنے میں بوندیل کھنڈ میں پانی کے بحران کا مستقل حل نکال کر اسے قحط سے پاک بنانا سب سے اہم مطالبہ تھا۔ دھرنے میں بوندیل کھنڈ کے مختلف ضلعوں سے آئے لوگوں نے کہا کہ اگر سرکاریں بوندیل کھنڈ کے مسائل کو لے کر سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اسے پانی کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔

Read more

کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا: کلیان سنگھ

میں سنتوش بھارتیہ کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں آنے کا موقع دیا۔ میں سنتوش بھارتیہ کا بہت احترام کرتا ہوں۔ راجستھان میں آئے مجھے ایک سال p-45 ماہ ہوئے ہیں۔ ابھی میرے بارے میں کہا گیا کہ راجستھان چھوڑ کر یو پی چلے جائیں گے۔ بھروسہ رکھئے، راجستھان میں میرا دل لگ گیا ہے۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں، میں راجستھان کے دیہی علاقوں کا دورہ کر رہا ہوں۔ وہاں بھی مجھے بہت اچھے لوگ ملتے ہیں۔

Read more

ہندوستانی معیشت شور بنام حقیقت

2014 میں نئی سرکار آنے کے وقت ملک و بیرونی ممالک کے اقتصادی حالات کوئی بہت اچھے نہیں تھے، لیکن لوگوں کے دل میں ایک امید تھی کہ سرکار معیشت کی مونوٹونی کو توڑے گی، ملک اور دنیاکی حالت کو دیکھتے ہوئے ملک کے مفاد میں پالیسیاں بنائے گی اور معیشت کی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک بننے کے لیے تیار ہندوستان کی معیشت میں مسلسل اصلاحات کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک مثال بنائے گی۔

Read more

کیا جموں و کشمیر میں نئے انتخابات ہوں گے؟

اس بات کے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں فی الحال پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار قائم نہیں ہونے جارہی ہے اور ریاست میں نافذ گورنر راج ابھی مزید کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ مبصرین ریاست میں نئے انتخابات کے انعقاد کا امکان بھی مسترد نہیں کررہے ہیں۔
ریاستی گورنر این این ووہرا نے اپنی معاونت کے لئے دو ریٹائرڈ آئی اے ایس افسران کو بطور مشیر تعینات کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر گورنرکو لگتا کہ آنے والے چند دنوں میں سیول حکومت قائم ہونے جارہی ہے تو وہ اپنے لئے مشیروں کی تقرری عمل میں نہیں لاتے۔ سال 2014کے انتخابات کے نتائج سامنے آجانے کے بعد پی ڈی پی اور بی جے پی نے مخلوط سرکار قائم کرنے کے لیے شرائط طے کرنے میں دو ماہ کا وقت لگایا تھا اور ان دو ماہ میں ریاست میں گورنر راج قائم رہا، لیکن اُس وقت گورنر اپنے مشیروں کی تعیناتی عمل نہیں لائے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اب کی بار گورنر نے اپنے مشیر تعینات کرکے یہ صاف عندیہ دیا ہے کہ فی الحال ریاست میں سیول حکومت کے قیام کے امکانات نہیں ہیں۔

Read more

وزیر خزانہ صاحب، کچھ تو گڑ بڑ ہے

کچھ ہی دنوں میں عام بجٹ پیش ہونے والا ہے۔وزیر خزانہ کے لئے یہ ایک مشکل وقت بھی ہے اور ایک موقع بھی ہے۔وزیر خزانہ اب تک دو بجٹ پیش کر چکے ہیں، جن کو لے کر بازار نے مثبت رائے نہیں دی ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ موجودہ سرکار ،یو پی اے 3 سرکار ہے۔ دراصل ارون شوری نے اسے یو پی اے 3 پلس کاؤ( گائے) کہا ہے۔ان کا یہ کہنا سچائی سے بہت الگ بھی نہیں ہے،کیونکہ موجودہ سرکار نے نہ تو کانگریس کی پالیسیوں کو پوری طرح بدلا ہے اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی نئی پالیسی پیش کی ہے۔

Read more

اتر پردیش میں تیزی سے بدل رہا سیاسی رجحان شرد اور یچوری دکھا گئے ملائم کو تیور

اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں جنتا دل ( یو) اور لیفٹ مل کر سماج وادی پارٹی کو گھیرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ یو پی میں کچھ الگ ہی شکل میں مہا گٹھ بندھن بنانے کی قواعد چل رہی ہے۔ جنتا دل (یو) صدر شرد یادو اور ماکپا جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری الگ الگ پروگراموں کے بہانے گزشتہ دنوں لکھنو میں تھے اور دونوں لیڈر یو پی کے اسمبلی انتخابات میں اختیار کی جانے والی پالیسی کی طرف اشارہ کرکے چلے گئے۔ کچھ باتیں تو بالکل صاف صاف ہوئیں، ان لیڈروں نے اشاروں کا سہارا نہیں لیا۔ مثلاً جنتا دل ( یو) صدر شرد یادو نے صاف صاف کہا کہ اتر پردیش میں مہا گٹھ بندھن قائم کرنے کی کوشش میں سماج وادی پارٹی کو بالکل ساتھ نہیں رکھا جائے گا۔

Read more