سی آئی اے کئی ملکوں میں اقتدار کی تبدیلی کرا چکی ہے

دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوانے کے لیے دوسرے ملکوں میں اقتدار میں تبدیلی کرانے کی امریکی حکمت عملی جگ ظاہر ہے۔ عراق کا حال دنیا کے سامنے ہے۔ صدام حسین پر مختلف الزام لگا کر انھیں اقتدار سے بے دخل کردیا۔ افسوسناک بات یہ رہی کہ امریکہ نے اپنی داداگیری کا نمونہ صاف طور پر پیش کیا ، لیکن کسی بھی طاقتور ملک نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ ملک میں صدام کا دور ختم ہو جانے کے بعد وہاں کے حالات نہیں سنبھلے، بلکہ اور زیادہ بدتر ہوگئے۔ آج وہاں خانہ جنگی چل رہی ہے۔

Read more

این جی اوز کو سیاست سے دور رکھنے کی ضرورت ہے

ایک وقت تھا، جب مجرموں کے سہارے کئی لیڈر الیکشن جیتتے تھے۔ بعد میں ان مجرموں کو لگا کہ جب وہ کسی کو الیکشن جتوا سکتے ہیں، تو خود کیوں نہیں الیکشن لڑ سکتے اور اس طرح سے پہلے جرم کی سیاسی بازی گری ہوئی اور اب تو سیاست کا ہی مکمل طور پر کرمنلائزیشن ہو چکا ہے۔ اسی طرح کی کچھ کہانی ملک میں چل رہی لاکھوں غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کی بھی دیکھنے سننے کو ملنی شروع ہو گئی ہے۔ 1990 کی دہائی میں، لبرلائزیشن کے بعد سے اچانک این جی اوز کی تعداد بڑھنے لگی۔ سرکار کی طرف سے اور بیرونی ممالک سے پیسے آنے کا زبردست سلسلہ بھی شروع ہوا۔ این جی او کی شروعات اس مقصد سے کی گئی تھی کہ اس سے سرکار کے کاموں کو زمین تک لے جانے میں اس کا رول ہوگا اور ساتھ ہی کئی ایسے سیکٹر میں کام کرے گی، جہاں سرکار سیدھے نہیں پہنچ پاتی۔ ویسے این جی اوز کے پیچھے ایک اور سرکاری

Read more

غیر ملکی فنڈ سے چلنے والے این جی اوز ملک کے لئے خطرہ بن چکے ہیں

خفیہ ایجنسی اور غیر ملکی طاقتیں دوسرے ملکوں میں ہمیشہ خفیہ طریقے سے کام کرتی ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں لوگوں سے اپنا کام بھی کرا لیتی ہیں اور ان کے لیے کام کرنے والوں کو یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کسی غیر ملکی سازش کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ طریقہ دنیا کی خراب سے خراب خفیہ ایجنسی اپناتی ہے۔ پھر امریکہ، اسرائیل، چین اور دوسرے بڑے ملکوں کی ایجنسیاں کیا کرتی ہوں گی، یہ تو سوچا تک نہیں جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سماجی تنظیموں، این جی اور اور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام پر کس طرح سازش ہوتی ہے اور لوگوں کو کس طرح گمراہ کیا جاتا ہے، میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکہ میں ڈرگس کا کاروبار بڑے پیمانے پر پھیلا۔ اس نے تیزی سے نوجوانوں کو اپنے جال میں جکڑنا شروع کیا۔ ڈرگس، یعنی نشیلی دواؤں کی کئی قسمیں سامنے آئیں، لیکن نوجوان اس میں اتنی تیزی سے نہیں پھنسے، جتنی تیزی سے وہاں پر بنا طاقتور

Read more

سلمان خورشید کے ’’غریب حاجی‘‘ سشما کے لئے باعث کار ِ ثواب

ہر سال حج بیت اللہ شریف سے دو ڈھائی ماہ قبل عازمین حج کے مسائل پر غورو فکر کرنے اور ہندوستانی عازمین حج کو مزید سہولیات پہنچانے کی غرض سے قومی راجدھانی دہلی میں حج کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس کے دوران عموما ً مرکزی وزیر خارجہ کے ذریعہ کلیدی خطبہ دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کا اہتمام حکومت ہند کے قانون حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے تحت قائم قانونی ادارہ اور نوڈل ایجنسی حج کمیٹی آف انڈیا کرتی ہے۔ یہ کانفرنس گزشتہ 29برسوں سے ہوتی آئی ہے۔ اس برس 30ویں آل انڈیا سالانہ حج کانفرنس 23جون 2014 کو پارلیمنٹ انیکسی میں ہوئی جبکہ گزشتہ برس 29ویںکانفرنس 27 جون کو وگیان بھون میں منعقد ہوئی تھی۔
اس بار کی حج کانفرنس نسبتاً بالکل الگ تھی۔ گزشتہ بار کی حج کانفرنس کے مہمان خصوصی اور اُس وقت کے مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے بالمقابل اِس بار حج کانفرنس کے مہمان ذی وقار اور موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے شرکاء کا دل موہ لیا اور کانفرنس کے دوران چند شرکاء و ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات دیے اور اسی روز شام کو عازمین حج کو درپیش مسائل پر اپنی رہائش گاہ پر گفتگو بھی کی۔

Read more

کیا یہ بجٹ تبدیلی لائے گا؟

قومی بجٹ 11جولائی کو آنا ہے۔ عوام کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آنے والا بجٹ کس طرح کا ہوگا؟ دو باتیںاہم ہیں۔پہلاویٹ ہے۔ اس میںزبردست تبدیلی کی ضرورت ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ پہلی بار ایک خاص آئیڈیا لوجی والی پارٹی کو آزادی کے بعد ایک واضح اکثریت ملی ہے۔ اگر بی جے پی یا اس کے پچھلے اوتارجن سنگھ یا سنگھ پریوار اپنی ہی آئیڈیا لوجی کی پیروی کرتے ہیں، تو بجٹ پوری طرح سے ایک نوبل کانسپٹ (Concept)ہونا چاہیے۔ اسے ٹریڈ فرینڈلی ہونا ہوگا، اسے متوسط طبقہ کے موافق، انسپکٹر راج اور نوکر شاہی کی بدعنوانی کے خلاف ہونا ہوگا۔ اس کے لیے بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کانگریس یا قلیل مدت کے لیے آئی پچھلی حکومتوں میں ایک ہی فارمولہ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اپنایا جاتا رہا ہے، جس کا کوئی اہم نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ آج ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے، جہاں نوکر شاہی، خاص طور سے لوور

Read more

ہندوتو سے خوفزدہ کون ہے؟

ہندوستان میں ایک سیکولرریاست میں نہیں بلکہ انگریز عیسائی سلطنت میں رہتا ہوں۔ برطانوی پارلیمنٹ کی ایوان بالا یعنی ہائوس آف لارڈس میں 26 پادری (Bisheps) ہیں اور ہر روز کی شروعات عیسائی عبادت سے ہوتی ہے۔ان تمام حقائق کے باوجود جو معاشرہ یہاں ہے وہ قوت برداشت والا سیکولر معاشرہ ہے۔ یہاں مختلف عیسائی مکاتب فکر و دیگر مذاہب کے حاملین کے ذریعے بھی مذہبی اسکول چلائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں سرکاری اسکول بھی ہیں جو کہسیکولر ہیں۔ یوروپ بر اعظم میں متعدد عیسائی ڈیموکریٹک اور عیسائی سوشلسٹ پارٹیاں بھی موجود ہیں۔ کوئی بھی انہیں سیکولرزم مخالف نہیں گردانتا ہے۔

Read more

شرد یادو بے بس اور لاچار ہیں: اوپیندر کشواہا

لالو پرساد اور نتیش کمار کے درمیان گھٹتی دوریوں نے بھونچال لا دیا ہے۔سیاسی ماہرین بھلے ہی اس کی مختلف معنوں سے تعبیر کر رہے ہوں، لیکن اپوزیشن اسے پوری طرح موقع پرستی کی سیاست قرار دے رہی ہے۔ بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سماجوادی پس منظر کے لیڈر اور کبھی نتیش کمار کے ساتھ رہے لوک سمتا پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر مملکت اوپیندر کشواہا سے ابھیشیک رنجن سنگھ نے تفصیلی بات چیت کی۔ پیش ہیں اہم اقتباسات:

Read more

نتیش کمار اور لالو پرساد: سماجوادی اتحاد کے نام پر خود کو بچانے کی قواعد

راجدھانی دہلی میں بیٹھ کر بہار کی سیاست جتنی آسان نظر آتی ہے، حقیقت میں یہ اتنی ہی مشکل ہے۔ وہاں جو سامنے ہوتا ہے، وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے، وہ نظر نہیں آتا۔ لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بہار کی سیاست میں دو غیر متوقع واقعات پیش آئے۔ سب سے پہلے نتیش کمار نے وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور مہا دلت فرقہ کے لیڈر جیتن رام مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کر دیا۔ نتیش کمار کے اس فیصلے کے بعد بہار کی جے ڈی یو حکومت کے استحکام کو لے کر قیاس آرائیاں کی جانے لگیں، لیکن راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو نے جس طرح جیتن مانجھی حکومت کو اعتماد کے ووٹ کے دوران بغیر مانگے حمایت دی ، تو وہ نہ صرف حیران کرنے والی تھی، بلکہ سیاسی حلقوں میں اسے لے کر طرح طرح کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ لالو پرساد یادوکے مطابق انھوں نے بہار میں فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لئے جنتا دل یونائٹڈ کو حمایت دی۔ ان کے مطابق، فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سماجوادی خیالات والی پارٹیوں کو متحد ہوجانا چاہئے۔

Read more

قدرتی گیس کی قیمتیں ایک ڈھیٹ سیاست کا نمونہ

مغربی یو پی اے 2کی حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت 4.2ڈالر سے بڑھا کر 8.4ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور موجودہ بی جے پی نے اس فیصلے کو روکنے کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یعنی، موجودہ حکومت بھی ان بڑھی ہوئی قیمتوں کو نافذ کرنے جا رہی ہے۔ دوسری طرف، بین الاقوامی بازار میں (ہینری ہب، یو ایس اے) اسی نیچرل گیس کی قیمت 3.6ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے اور زیادہ سے زیادہ ، عام طور پر ، کسی بھی بین الاقوامی بازار میں اس کی قیمت 4یا 5ڈالر تک جاتی ہے۔

Read more