سرکاری منصوبوں میں جم کر لوٹ کھسوٹ

جب بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز کے اقتدار پر قابض ہوئی ، تب وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈیولپمنٹ اور گڈ گورننس کو اپنی سرکار کا اصل منتر بتایا تھا۔ وہ اپنی تقریروں میں بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی گڈ گورننس کی بات کہتے ہیں، جن میں مدھیہ پردیش بھی شامل ہے۔ گڈ گورننس کے نعرے کو لے کر ہی دسمبر 2013میں بی جے پی تیسری بار مدھیہ پردیش کے اقتدار پر قابض ہوئی اور شوراج سنگھ ایک بار پھروزیر اعلیٰ بنے، لیکن مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع میں جس طرح سے سرکاری منصوبوں کولوٹ اور بندر بانٹ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، اس سے شوراج سرکار کاگڈ گورننس کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوتا ہے۔

Read more

پاکستان میں نئی فوجی عدالت : دہشت گردوں میں اچھے و برے کی تقسیم

پاکستانی قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں21ویں ترمیم کی متفقہ طورپرمنظوری دے دی ہے اورآرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کا بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔اجلاس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں سے تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلامی نے شرکت نہیں کی۔

Read more

بنگلہ دیش میں سیاست کے نام پر انتقامی کارروائی

انیس سو اکتر کا بھوت بنگلہ دیش کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے۔یہ بھوت کسی نہ کسی شکل میں اپنے خونی پنجے سے بنگلہ دیش کو لہو لہان کر رہا ہے۔بنگلہ دیش ان ملکوں میں شامل ہے جہاں مسائل زیادہ ہیں اور وسائل کم ۔اس کا شمار دنیا کے غریب ملکوں میں ہوتا ہے۔قیامِ بنگلہ دیش کے وقت جو خواب دیکھا گیا تھا وہ آج تک پورا نہیں ہوسکا۔نہ تو ملک میں امن قائم ہوسکا ہے اور نہ ہی غریبی دور کرنے کے لئے کوئی مضبوط ذریعہ اختیار کیا گیا۔آزادی کے بعد سے اب تک یہاں کی حکومتیں اپنے مفاد کے لئے قوانین کا استعمال کرتی رہی ہیں اور عوام کا استحصال ہوتا رہا ہے۔لیکن 1996کے بعد سے ملک کی جو صورت حال بنی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔
1996 میں حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ۔اس دوران بنگلہ دیش کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا۔عوام میں ناراضگی بڑھتی گئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2001

Read more

ساہتیہ اکادمی ایورڈ سے سرفراز ہونے والے منور رانا سے خاص بات چیت

منور رانا کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری کے ذریعے عام آدمی کے درد کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ رومانٹک شاعری کے علاوہ بھی جہاں میں اور درد ہیں۔
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازے گئے ملک کے مشہور شاعر منور رانا نے کہا کہ شاعری پر ہمیشہ سے الزام لگتا رہا ہے کہ وہ کچے گوشت کی دوکان ہے۔ شاعری کو اس دلدل سے باہر نکالنے کے لیے ہی انھوں نے اپنی شاعری میں ماں جیسے مقدس رشتے کو ترجیح دینے کی شروعات کی۔ رانا اس بات کو بڑی بے باکی سے قبول کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تلسی داس کی محبوبہ رام ہو سکتے ہیں، تو میری محبوبہ میری ماں کیوں نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے رانا نے اپنی شاعری میں ماں کو ایک آئیڈیل کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

Read more

چھوٹے کاروباریوں پردھیان دینے کی ضرورت ہے

اگلے مہینے بجٹ آنے والا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا دھیان یہ دیکھنے پر مرکوز ہوگا کہ بجٹ میں کوئی بڑا اعلان ہوتا ہییا نہیں۔ پیٹرولیم کی بین الاقوامی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے سرکار کو تھوڑی آسانی ہوگئی ہے۔ پیٹرولیم کی قیمتوں کی وجہ سے امپورٹ کے خرچوں میں کافی کمی آئے گی۔ دوسرے یہ کہ ملک کے فوڈ اسٹورز بھی اطمینان بخش ہیں۔ ابھی سرکار پر دباؤ کم ہے اور اگر وزیر مالیات چاہیں، تو سرکار کچھ رِسک اٹھا سکتی ہے۔ فی الحال سرکاری خسارے کی حالت بہت اچھی نہیں ہے، لیکن مارچ سے پہلے اگر اسپیکٹرم کی فروخت سے ایک بڑی رقم حاصل کر لی جاتی ہے، تو سرکاری خسارے کے اعداد و شمار خطرناک سطح پر پہنچیں گے۔ کل ملا کر صورتحال کنٹرول میں ہے۔

Read more

جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی دائو پر

اگست 1947 کے پہلے ہفتہ میں مہاتما گاندھی نے پہلی اور آخر ی بار جموں و کشمیر کے چار روزہ دورے کے دوران اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ’’کشمیر میں اُمید کی کرن‘‘ نظر آرہی ہے۔ دراصل، یہ وہ وقت تھا، جب بر صغیر تقسیم کے دہانے پر تھا اور ہر سو فرقہ واریت اور مذہبی منافرت دیکھنے کو مل رہی تھی۔ لیکن ان مایوس کن حالات میں اس ہمالیائی ریاست میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے آپسی بھائی چارے کی وجہ سے ہر طرف سکون و اطمینان کی فضا قائم تھی۔ گاندھی جی نے اس ریاست میں فرقہ وارانہ بھائی چارے کی اسی فضا کو محسوس کر لیا تھا۔

Read more

دو پارٹیوں کا ضم ہونا کہیں مانجھی سرکار کو گرانہ دے

انتخابی سال میں بہار کی سیاست امید سے کہیں زیادہ امکانات اور تشویشوں کو جنم دے کر روز نئی نئی سرخیاں بٹور رہی ہے۔ اپنی پارٹیوں کو ایک دوسرے میں ملانے پر آمادہ نتیش کمار اور لالو پرساد ریاست میں ایک ایسی سیاسی لائن کھینچنے کی تیاری کر رہے ہیں، جسے سر کرنا بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کے لیے تقریباً ناممکن ہو جائے۔ دونوں لیڈروں نے اب عوامی طور پر اس کی مکمل تیاری کرنے کے پلان کا اعلان بھی شروع کر دیا ہے۔ اخباروں اور نیوز چینلوں کی ہیڈ لائنس میں دونوں پارٹیوں کے ایک دوسرے میں ضم ہونے کی خبروں کی بھرمار ہے، لیکن یہ انضمام کب ہوگا، کیسے ہوگا، دہلی اور پٹنہ میں اس کا لیڈر کون ہوگا جیسے سوال چٹخارے لے کر چوپالوں اور اقتدار کے گلیاروں میں کہے اور سنے جا رہے ہیں۔ چائے کی دکان پر بیٹھے پکے پکائے سیاسی کارکن کا اپنا الگ تجزیہ ہے، تو سیاسی پنڈتوں کا الگ۔ کوئی انضمام کو نریندر مودی کے

Read more

یو پی میں قانون ساز کونسل کا انتخاب ہوا دلچسپ

اقتدار اور سیفئی مہوتسو کے نشے میں ڈوبی سماجوادی پارٹی کو یہ بھی ہوش نہیں رہا کہ 23 جنوری کو ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخاب میں کسے امیدوار بنانا ہے اور کسے نہیں۔ قانون ساز کونسل کے جس رکن کی ابھی ڈیڑھ سال کی مدت باقی تھی، سماجوادی پارٹی نے اسے بھی اپنا امیدوار بنا دیا۔ سیفئی میں ناچ و رنگ کی محفل ذرا سست پڑی، تو کسی نے یاد دلایا، تب لیڈروں کو ہوش آیا۔ لہٰذا، آناً فاناً لسٹ بدلی گئی اور پھر نئے امیدواروں کا اعلان کیا گیا۔ لیکن اس نئی لسٹ کو لے کر بھی پارٹی کارکنوں میں ناراضگی ہے۔ دوسری طرف، بہوجن سماج پارٹی بھی بوکھلاہٹ کی شکار ہے، کیو ںکہ اس کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ ڈاکٹر اکھلیش داس نے کہہ دیا کہ مایاوتی ٹکٹ اور پوسٹ بیچتی ہیں۔ یہ بات مایاوتی کو بہت بری لگی تھی، اب جگل کشور نے اس کی تصدیق کر دی، تو شاہانہ انداز والی مایاوتی کو دلت یاد آنے لگے۔ بھارت رتن کے اعلان کے بعد اس انعام کو لے کر

Read more

علماء کے لئے بھی شجر ممنوعہ نہیں رہی بی جے پی

خبر ہے کہ مسلم علمائ، دانشوروں و دیگر شخصیات کی قابل ذکر تعداد 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل اور بعد بی جے پی میں شامل ہوئی ہے۔ بی جے پی اقلیتی سیل کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کا مسلم گراف پارلیمانی اور دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 5فیصد سے بڑھ کر 15-20 فیصد ہو چکا ہے۔ ایک ماہ قبل دہلی کے چاندنی چوک پر واقع مسجد فتح پوری کے سامنے بعد نماز جمعہ بی جے پی کے سد ستیا ابھیان (رکنیت سازی) مہم میں صرف 4گھنٹے میں2500افراد اور اوائل جنوری میں اوکھلا کی مسجد خلیل اللہ کے سامنے اسی طرح کی مہم میں 400 افراد کا ارکان بننا مذکورہ بالا دعویٰ کو تقویت دیتا ہے۔
لہٰذا معروف مسلم تنظیموں ،اداروں اور شخصیات کے برعکس عام مسلمانوں اور علماء و دانشوروںکا برسر اقتدار بی جے پی کے تئیں بڑھتا ہوا رجحان یقینا توجہ طلب ہے اور مسلم کمیونٹی میں قیادت سے ہٹ کر ایک نئی

Read more

اڑیسہ میں جندل کا میگا مائننگ گھوٹالہ

ہندوستان میں سب سے زیادہ اسٹیل پیدا کرنے والوں میں سے ایک، جندل گروپ اڑیسہ کے ایک بڑے مائننگ گھوٹالے میں ملوث دکھائی دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں شاردا مائنس پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ایم پی ایل) کے ذریعے مائننگ کے قوانین کی خلاف ورزی اور غلط استعمال کے کئی معاملوں کا ذکر کیا ہے۔ جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ (جے ایس پی ایل) اورایس ایم پی ایل کے درمیان تجارتی معاہدہ ہے، جس کے تحت جندل اسٹیل اپنی اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں واقع اسٹیل اکائیوں کے لیے ایس ایم پی ایل سے کچا لوہا خریدتا ہے۔

Read more