جھارکھنڈ: ’ بی جے پی پر تالا‘

بی جے پی کے ریاستی صدر تالا مرانڈی نے اپنی ہی سرکار کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ سی این ٹی،ایس پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کو لے کر بی جے پی کے زیادہ تر آدیواسی ایم ایل اے متحد ہوگئے ہیں اور سرکار کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیاہے۔ ایک طرح سے کہا جائے تو بی جے پی کے اقتدار اور اتحاد میں سب کچھ نارمل نہیں ہے، اقتدار سے اتحاد تک اختلاف کے سُر تیز ہو گئے ہیں۔ادھر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور جھامومو لیڈر ہیمنٹ سورین نے یہ کہہ کر کہ بی جے پی کے 17ایم ایل اے ان کے رابطہ میں ہیں، بی جے پی کے سینئر لیڈروں کی نیند اڑا دی ہے، جبکہ سرکار کی اتحادی پارٹی آجسو نے بھی رگھور سرکار کے خلاف مہم چھیڑ کر سرکار کو ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ آجسو سپریمو سدیش مہتو نے کہا کہ سرکار نے مقامی پالیسی اور سی این ٹی ،ایس پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کا جو فیصلہ لیا ہے، اس سے آدیواسی ناراض ہیں۔

Read more

بہار: پل در پل ،پھر بھی منزل سے دور کوسی کے باشندے

گائوں ، قصبے اور شہر کے ساتھ ساتھ بہا ر کی راجدھانی پٹنہ کو ایک دھاگے میں پیرونے کی مرکز ی اور ریاستی سرکار کی مہم جاری ہے ،لیکن کوسی کے قہر اور لہر کے آگے سرکاروں کا دم پھول رہا ہے۔سونم نکی پل کا افتتاح کرکے بہار کی سرکار کوسی کے علاقے کی ترقی کے امکانات دیکھ رہی تھی لیکن کوسی کے قہر نے ان امکانات پر بریک لگانا شروع کردیاہے۔آئے تفصیل سے دیکھتے ہیں وہاں صحیح صورت حال کیا ہے اور کتنی راحت مل پاتی ہے وہاں کے باشندوں کو۔

Read more

آزادی کے 70سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں

کمل مرارکا
ایک بار پھر ملک نے یوم آزادی منایا۔حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟یہ ہم سبھی کو ،پھر چاہے وہ لیڈر ہوں،دوسرے لوگ ہوں، صنعتی گھرانوں کے سربراہ ہوںیا سول سوسائٹی کے لوگ، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہئے۔ کیا ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں جیسا کہ آئین میں خاکہ پیش کئے گئے ہیں یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے بگاڑ رہے ہیں۔ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے لئے آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہے۔سرکار کا کردار کیا ہو، یہ بھی صاف ہے کہ منتخب کی ہوئی سرکار پالیسیاں بنائے ،وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی ،لیکن ان کا نفاذانتظامیہ کے آفیسر کے ذریعہ سے ہونا چاہئے، ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز اور دوسری سروسز کے آفیسر شامل ہیں ،جو ایک سخت سرگرمی کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ان سروسز کے لئے مسابقتی امتحان کے ذریعہ تجربہ کار لوگوں کے انتخاب ہوتے ہیں۔اس لئے ان پالسیوں کے نفاذ کے لئے یہ آفیسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں،لیکن کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟

Read more

جموں وکشمیر: کشمیری عوام شدید نفسیاتی تنائو کا شکار

ذراتصور کریں، آپ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔آپ کا دوسرے لوگوں سے مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا گیا ہو۔ فون اور انٹر نیٹ تک آپ کی رسائی نہیں ہے۔آپ کام پر نہیں جاسکتے ہیں۔اس وجہ سے آپ کی فی الوقت کوئی آمدنی نہیںہے ۔ آپ کے بچے سکول نہیں جاسکتے ہیں۔ گھر میں اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اگر گھر میں کوئی مریض ہو تو اسے ادویات میسر نہیں۔آپ گھر سے باہر نکلنا چاہیں تو تشدد کی کسی واردات میں آپ کی جان جاسکتی ہے یا آپ بری طرح زخمی ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ کو ہفتوں رہنا پڑے تو آپ کی نفسیات پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہونگے؟ یہ وہ خوفناک صورتحال ہے، جس کے وادی کشمیر کے عوام گزشتہ چالیس دنوں سے شکار ہیں۔

Read more

موضوع بحث پی ایم مودی کی انکہی، کہی نہیں

دہلی کے تاریخی لال قلعہ سے گزشتہ 70 برسوں سے ہندوستان کے وزراء اعظم ترنگا جھنڈا پھہرا کر تقریر کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ 15-14 اگست 1947 کی نصف شب سے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے شروع ہوا تھا اور ہنوز قائم ہے۔ یہتقریر ملک کے پالیسی پروگرام کے نقطہ نظر سے بڑی اہم گردانی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہرسال اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور یہ موضوع بحث بنتی ہے۔ لہٰذا اس سال بھی موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میڈیا و دیگر جگہوںپر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

Read more

منی پور: ایروم شرمیلا کتنی کامیاب ،کتنی ناکام

ویجن
p-4bلمبے وقت سے آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ (افسپا)کے خلاف چلی آرہی بھوک ہڑتال( انشن )ختم ہوگئی ، جس کی ہیرو شرمیلا تھیں۔ یقینی طور پر ہندوستانی کی سرکار نے 16سال کے ستیہ گرہ کی حوصلہ افزائی نہ کرکے جمہوریت میں ناانصافی کے خلاف پُر امن لڑائی لڑنے کی روایت کو کمزور کیاہے۔ اب شرمیلا نے انشن ختم کر کے منی پور کے آنے والے اسمبلی انتخاب میں آزاد لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شرمیلا کے سیاست میں قدم رکھنے کے فیصلے سے سیاسی پارٹیوں میں بھی ایک ہلچل مچی ہے۔

Read more

اکھلیش یادو کا اراکین پارلیمنٹ کو مراسلہ انتخاب سے قبل جاگے تو کیا جاگے

اترپردیش میں جب اسمبلی انتخابات سامنے ہیں، تو اکھلیش یادو میں ترقی کے تئیں فکر بیدار ہونے لگی ہے۔سیاسینقطہ نظر سے ان کی یہ فکر فطری ہے۔ کیونکہ سماجی نقطہ نظر سے ترقی کہیں دکھائی نہیںدے رہی ہے، تو کم سے کم ان کی فکر انتخاب کے وقت تو عوامی سطح پر دکھائی دینی چاہیے۔ سماجوادی سرکار کو سماج کی ترقی کچھ کلو میٹر کی میٹرو ٹرین کی پٹری لگاکر دکھانے اور ایکسپریس ہائی وے بنانے میںسرگرمی دکھانے پر مرکوز ہے۔ گنا کسانوں کے سیکڑوںکروڑ روپے بقایا ہیں۔ گیہوں، دھان کی فصلیںخریدی نہیں گئیں، کسانوںکو اپنی زرعی مصنوعات بازار میں اونے پونے دام میں بیچنے کو مجبور ہوناپڑا، روزگار کا کوئی ذریعہ تیار نہیں ہوا

Read more

اتر پردیش: پاپا، چچا اور بیٹا کی سماج وادی پارٹی یہ بھی ہے نورا کشتی

سماج وادی پارٹی کے اندرونی جھگڑے، اختلاف اور روٹھنے اور منانے کی کہانی تقریباً پانچ سال سے چل رہی ہے۔اختلاف کی یہ روایت اتنی چل پڑی ہے کہ نکڑ چوراہوں سے لے کر سماج وادی پارٹی کے کارکن تک اس کہانی کو دوہرانے لگے ہیں۔طوطا مینا کی کہانی تو پرانی ہوگئی ،مگر سماج وادی پارٹی میں طوطا مینا کی کہانی اب پھر سے دوہرائی جارہی ہے۔

Read more

مدھیہ پردیش: غذائی کھانوں میں اربوں کا گھوٹالہ

سورین شرما
آدیواسی،دلت اور پسماندہ طبقہ کی دو تہائی آبادی کو سمیٹے مدھیہ پردیش میں غریبی کی ریکھا کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی نئی نسل کے ساتھ جم کر کھلواڑکیا جارہا ہے۔ اس میں سرکاری افسروں سے لے حکومت میں بیٹھے لوگوں کے تار جڑے ہوئے ہیں۔ میڈیا کی بڑی ہستی کا اہم کردار ہے اور شک و شبہ میں ہے گزشتہ کانگریس سے لے کر موجودہ بی جے پی کی سرکار۔ گھوٹالے کی سنگینی کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ متعدد سرکاروں نے لگاتار اسے چھپانے کی کوشش کی۔ لیکن انکم ٹیکس چھاپوں سے معاملہ اجاگر ہوا۔ اس کے بعد بھی مدھیہ پردیش سرکار نے جانچ کی سنجیدہ پہل نہیں کی ہے، اس کے برخلاف معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Read more

ہم گائے کھانے والے نہیں،بیچنے والے بھی نہیں،محافظ ہیں

گئو کشی کے نام پر ملک میں مسلمانوں اور دلتوں کو بربریت کا نشانہ بنانے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔فرقہ پرست عناصر گئو رکشا کے نام پورے ملک میں تانڈو کررہے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کا حوصلہ بلند ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کوایسے گناہوں کی سزا دی جارہی ہے جس گناہ کو اس نے انجام دیا ہی نہیں ہے۔مسلمانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ گئو کشی کرتے ہیں۔وہ خود گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی گائے کو قتل کرنے والے

Read more