یہ صورتحال ملک کے لئے تکلیف دہ ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں نریندر مودی کی حمایت اور ان کی مخالفت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں، جن پر پارٹی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ایک دور تھا، جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی سابقہ تنظیم جن سنگھ اپنی ڈسپلن کے لیے جانی جاتی تھی اور پورے کیڈر کو اس بات کے لیے جانا جاتا تھا کہ سبھی بغیر کسی تکرار کے پارٹی لائن پر ہی چلتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی ایک معزز تنظیم تھی، جہاں ایک ہی آواز سے سارے مسائل حل ہوجایا کرتے تھے۔ اب اِن دونوں کے اندر ہی یہ ڈسپلن گم سی ہو گئی ہے۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر بھی باہمی رسہ کشی کا عالم ہے، جو اس کی شبیہ کو اور خراب کرے گی۔ آر ایس ایس نے بھی جو رول ادا کیا، اس کی بھی امید نہیں تھی۔ موجودہ وقت میں

Read more

چھوٹی پارٹیوں کے بڑے منصوبے

اتر پردیش کی فضا سے فرقہ واریت، مافیاگری ، دبنگئی اور ذات پات کا زہر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ لیڈروں کو ہی نہیں، عوام کو بھی یہ کھیل خوب راس آرہا ہے۔ اس کھیل میں عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ کچھ دنوں پہلے الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ریلیوں اور نسلی انعقاد پر روک لگادی تھی، لیکن ذات پات کی سیاست کرنے والے لیڈر اس کی کاٹ نکالنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ ریاست میں کافی چالاکی کے ساتھ ذات پات کی گول بندی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس کے لیے دبنگوں کو بھی اپنی اپنی

Read more

گینگ ریپ کے چاروں مجرمین کو سزائے موت کا فیصلہ: سماج کی اصلاح میں کتنا معاون؟

دہلی میں 16 دسمبر کے گینگ ریپ معاملے میں فاسٹ ٹریک عدالت کا فیصلہ آچکاہے جس پر عام لوگوں کی طرف سے ایک طرف اطمینا ن کا اظہار کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سزائے موت کے مخالف افراد انسانی بنیادوں پر یہ کہہ کر مخالفت کر رہے ہیں کہ محض سزائے موت کے فیصلے سے سماج کی اصلاح نہیں ہوسکتی ہے ۔ان دونوں پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ تحریر پیش خدمت ہے۔

Read more

فرنٹل آرگنائزیشن کی بساط پر یوپی کی سیاست

جنگ جیتنے کے لیے فوج کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اچھے سے اچھا اور طاقتور سے طاقتور سپہ سالار بھی جنگ ۱ٍکے میدان میں اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتا ہے، جب تک کہ اس کے پیچھے کھڑے جوانوں کے حوصلے بلند نہ ہوں۔ یہ فارمولہ سبھی شعبوں میں لاگو ہوتا ہے۔ خواہ سرحد پر کھڑا سپہ سالار ہو یا پھر

Read more

راجستھان اسمبلی انتخابات: مودی اور راہل کریں گےزور آزمائش

ایک ایسی ریاست ہے، جہاں پر ابھی تک کوئی ایسی علاقائی پارٹی نہیں ابھر سکی ہے، جو دونوں قومی پارٹیوں بی جے پی اورکانگریس کو ٹکر دے سکے۔ اس لیے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہونے والے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں راجستھان کا انتخاب بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے اہم ہے۔ دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت اس مہم میں جی جان سے جُٹ گئی ہے۔ عام طور پر ریاستوں میں انتخابی مہم کی شروعات سیاسی

Read more

انفارمیشن ٹیکنالوجی نے گائوں کی کایا پلٹ دی

ہندوستان گاؤوں کا ملک ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ جب تک گاؤں نہیں بدلے گا ، تب تک ملک نہیں بدلے گا۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے اطلاعاتی شعبے میں بہت ترقی حاصل کی ہے۔ بنگلور، حیدر آباد جیسے شہروں کی پوری دنیا میں جو شناخت بنی ہے، وہ انفارمیشن ریوالیوشن کی وجہ سے ہی بنی ہے۔ سرکار لوگوں کو انفارمیشنٹیکنالوجی کا فائدہ دینے کے لیے بہت سے پر وگرام چلا رہی ہے، جن کے ذریعے سرکاری سہولیات کا فائدہ دیہی علاقے کے لوگوں کو بھی پہنچ سکے۔ لیکن سرکار نے لوگوں کو اس انفارمیشن ریوالیوشن سے

Read more

وزیر اعظم کے نام انا ہزارے کا تازہ خط

انا ہزارے نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے ہی انا جن لوک پال بل کی مانگ کو لے کر دہلی کے رام لیلا میدان میں انشن پر بیٹھیں گے۔ انا ہزارے نے ماضی میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر یہ آگاہ کردیا تھا کہ اگر ان کی حکومت مانسون اجلاس میں لوک پال بل کو پاس نہیں کرتی ہے تو وہ ایک بار پھر سے جن لوک پال بل

Read more

فسادات کے بعد تیزی سے ہوتا ہے ووٹوں کا پولرائزیشن

اجے کمار
اتر کے امن چین کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟ اس سوال کا جواب ہر ایک امن پسند شہری جاننا چاہتا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے ڈیڑھ سال کے دورِ حکومت میں تقریباً 50 بار فرقہ واریت کی آگ میں اور متعدد بار مذہبی تناؤ میں ریاست کے عوام جھلس چکے ہیں۔ سینکڑوں لوگ موت کے منھ میں جا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ کاروبار کا نقصان الگ ہو رہا ہے۔ اتر پردیش کے بگڑے حالات کے سبب صنعت کار بھی یہاں پیسہ لگانے سے پرہیز کر رہے ہیں۔ کوئی اس بات کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے کہ آخر کیوں رہ رہ کر

Read more

شاملی ، مظفر نگر فساد : ندو ، مسلم اتحاد کو کس کی نظر لگ گئی؟

جمیلہ نے عیدگاہ میں ایک بیٹے کو جنم دیا ہے۔ شاملی ضلع کی کاندھلہ تحصیل کی عیدگاہ میں، جب کہ اس کا گھر مظفر نگر ضلع کے لیساڑھ گاؤں میں ہے۔ دوسرے گاؤں میں اور وہ بھی عیدگاہ میں ایک بچے کی پیدائش چونکاتی ضرور ہے۔ اپنے گھر میں نہیں، عید گاہ میں! کیوں کہ گھر اپنا رہا ہی نہیں، فساد کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ فسادات سے پیدا ہوئی تباہی کے معنی کیا ہیں اور اس کا اثر کیا ہوگا، اس نوزائیدہ بچے کو نہیں معلوم۔ لیکن مغربی اتر پردیش کے دو ضلعوں مظفر نگر اور شاملی میں ہوئے فسادات نے ملک کے سماجی تانے بانے پر جو چوٹ پہنچائی ہے، جمیلہ کے بیٹے کا اس طرح جنم لینا موجودہ دور کی مثال ضرور بنے گا۔

Read more

فسادات شروع ہو چکے ہیں

مغربی اتر پردیش کا شاملی اور مظفر نگر ضلع فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے اب تک سینکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں فیملی اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ جگہوں کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اس علاقہ کے زیادہ تر لوگ عام طور سے کسان ہیں۔ ہندو مسلم بھائی چارے کی زندگی جیتے چلے آئے ہیں۔ اس علاقے میں کبھی فسادات نہیں ہوئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ یہا فرقہ وارانہ تناؤ بڑھا اور فسادات نے اتنی خطرناک صورت اختیار کر لی۔ میڈیا کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ایک برادری کی لڑکی کے ساتھ دوسری برادری کے لڑکے کا عشق اور پھر اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے تین لڑکوں کا قتل ہو جانا ہی فساد کی اصل وجہ بنا۔ اسی کو بہانہ

Read more