جموں و کشمیر انتخابات کے بیچ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتیں

چودہ اپریل کی شام، جب لوگ طویل انتظار کے بعد ایک خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے اورہر سو زندگی کا سفر جوش و خروش کے ساتھ جاری تھا، سرینگر کے مضافاتی علاقے احمد نگر میں اچانک گولیوں کی گھن گرج شروع ہوگئی۔ طویل عرصے کے بعد شہر میں گولیوں کی آوازوں نے پہلے لوگوں کو ششدر کردیا اور اس کے بعد ہی بھاگم بھاگ شروع ہوگئی۔ چندگھنٹوں میں تفصیلات سامنے آگئی تھیں، جن کے مطابق فورسز نے ایک اطلاع ملنے پر احمد نگر کی بستی میں ایک مکان کو محاصرے میں لے لیاتھا اور مکان میں موجود جنگجوئوں نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ فورسز کی اضافی کمک منگائی گئی، جس نے گرد نواح کے ایک وسیع علاقے کو محصور کردیا۔ طرفین کے درمیان جھڑپ 20 گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر فورسز نے اعلان کیا کہ مکان کے اندر موجود لشکر طیبہ کے دو جنگجو مار گرائے گئے ہیں۔ فورسز کی

Read more

الیکشن کاوقار گرتا جا رہا ہے

میڈیا یک رخی تصویر پیش کر رہا ہے۔ وہ اپنے سروے میں بتا رہا ہے کہ بی جے پی؍ این ڈی اے کو دن بہ دن بڑھت حاصل ہو رہی ہے۔ ابھی میڈیا یہ پیشن گوئی کر رہا ہے کہ این ڈی اے کو 275 سیٹیں مل جائیں گی۔ بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ نے بی جے پی کو خود 272 سیٹیں ملنے کی بات کہی ہے۔ ان پیشن گوئیوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کا میڈیا مینجمنٹ زبردست ہے اور پیسہ بھی اپنا کام خوب کر رہا ہے، جس سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ جیت کا دعویٰ ٹھیک ہے۔ الیکشن لڑنے والی سبھی پارٹیاں محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیت رہی ہیں ، جیت کا دعویٰ کرتی ہیں، کرنا بھی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی بھی سو سیٹوں کی بات کر رہی ہے۔ اس کے لیے کوئی زیادہ اعتراض نہیں ہے، قابل اعتراض بات کچھ اور ہے۔ ٹی وی پر کچھ نجی انٹرویو میں نریندر مودی کا بیان آیا ہے کہ وہ 2002 کے فسادات کے لیے معافی نہیں مانگیں گے۔ بہت سنجیدگی سے وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ قصوروار ہیں، تو ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے انہیں چوراہے پر عوام کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔

Read more

مسلم مذہبی رہنمائوں سے ملنے کی سیاست زوروں پر

الیکشن کا موسم آیا اور چاروں طرف مسلمان، مسلمان کی ہاہاکار مچ گئی ۔ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے ، یہ صرف الیکشن کے وقت ہی پتہ چلتا ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی پارلیمنٹ میں بہت کم ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی پولس میں کم ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی ریلوے میں ، بینکوں میں اور سرکاری عہدوں پر کم ہے۔ یہ سب احساس سب کو الیکشن ہی کے زمانے میں ہوتا ہے۔ ایک طرف کانگریس، بی جے پی ، سماجوادی پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے سربراہان مسلمانوں سے ملاقات کرنے اور ان کے مذہبی لیڈران کو خوش کرنے کی سیاست میں لگ جاتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے نام نہاد مذہبی رہنما خود کو مسلمانوں کا مسیحا سمجھ کر ساز باز کرتے نظر آتے ہیں۔

Read more

سب کے لئے روزگار والی اقتصادی پالیسی چاہئے

ہندوستانی الیکشن واقعی میں مزیدار ہوتے ہیں۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطاروں میں کھڑے ہوئے، ہنستے مسکراتے ہوئے لوگ اپنا ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی شاندار انتظامات کیے جاتے ہیں اور ووٹوں کی گنتی تو گھنٹوں میں پوری جاتی ہے، یہ وہ کام ہے، جسے پورا کرنے میں برطانیہ اور امریکہ کو کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اب سارے لوگ بے صبری سے انتخابی نتائج کا انتظار کر نے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read more

میدان چھوڑ کر بھاگنے والے امیدوار

انتخابات اسمبلی کے ہوں یا پارلیمنٹ کے، سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے لوگ سفارش اور دولت کے ڈھیر لگا دیتے ہیں، تب کہیں جا کر الیکشن لڑنے کا پروانہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر انتخاب میں سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مارا ماری ہوتی ہے اور جب یہ ٹکٹ مل جاتا ہے تو امیدوار ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے اعلیٰ ایوان میں پہنچنے کاپاس مل گیا ہے۔ اس کے اندر ایک نیا جوش اور جذبہ بھر جاتا ہے، لیکن شاید یہ ملک کا پہلا انتخاب ہے، جس میں کچھ امیدواروں نے اپنے حریفوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرکے انتخابی میدان مارنے کی بجائے الٹا میدان چھوڑ کر ہی بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی اور اپنے ٹکٹ سیاسی پارٹیوں کولوٹانے کے لیے دوڑ لگادی۔ ذرا غور توکیجیے کہ لوک سبھا انتخابات 2014 ابھی پایۂ تکمیل کو بھی نہیں پہنچے ہیں اور اب تک دو درجن سے زیادہ امیدوار اپنے ٹکٹ لوٹا چکے ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ کئی امیدواروں نے پرچہ نامزدگی بھرنے کی تاریخ نکلنے کے بعد اپنے ٹکٹ واپس کیے، جس کی وجہ سے پارٹی کوان امیدواروں کی جگہ اس حلقہ میں اپنے دوسرے امیدوار اتارنے کا موقع بھی میسر نہ ہوسکا۔

Read more

مسلم عوام کی سوچ سے دور انتخابات پر مسلم تنظیمیں بے سمت و غیر واضح

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ بیشتر مسلم تنظیمیں و شخصیات دعویٰ تو کرتی ہیں کہ وہ فاشسٹ و فرقہ وارانہ قوتوں کو اقتدار سے روک کر اپنا فریضہ نبھا رہی ہیں، مگر جب عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کا وقت آتا ہے، تو وہ غیر واضح اور مبہم موقف اختیار کرکے اصولی بننے کی کوشش کرنے لگتی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ اس کاز میں واقعی سنجیدہ اور مخلص ہیں، تو انہیں واضح و غیر مبہم اپروچ اختیار کرنا چاہیے اور ابھی حال میں بنارس میں مختار انصاری کے انتخابی میدان سے مسلم ووٹ کو تقسیم سے روکنے کے لیے اپنی امیدواری کو واپس لینے کے فیصلے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ پیش ہے اس تعلق سے تفصیلی جائزہ…

Read more

کتابوں کو سیاسی چشمے سے دیکھنا غلط ہے: پی سی پارکھ

’چوتھی دنیا‘ نے اپریل 2011 میں کوئلہ گھوٹالے کا پردہ فا ش کیا تھا۔ اس وقت نہ تو سی اے جی کی رپورٹ آئی تھی اور نہ ہی کسی نے یہ سوچا تھا کہ اتنا بڑا گھوٹالہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت اس گھوٹالے پر کسی نے یقین نہیں کیا اور جنہیں یقین بھی ہوا تو پورا نہیں۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے آپ سے اپریل 2011 میں جو باتیں کہیں، اس پر وہ آج بھی قائم ہے۔ ہماری تحقیقات کے مطابق یہ کوئلہ گھوٹالہ کم سے کم 26 لاکھ

Read more

انتخابی دور میں کتابوں کی سیاست

اس انتخابی دورمیں جہاں میڈیا پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ مودی کی حمایت میں متحد نظر آر ہا ہے، وہیں دوسری طرف اب یو پی اے سرکار کے رکن رہے بعض اعلیٰ پایے کے افسران بھی کتابوں کی شکل میں بہت سے چونکانے والے انکشافات کر رہے ہیں۔ اس کی شروعات سب سے پہلے کوبرا پوسٹ کی طرف سے ’آپریشن جنم بھومی‘ نامی سی ڈی عوام کے سامنے پیش کرکے کی گئی تھی۔ اس میں کوبرا پوسٹ نے اپنے مختلف اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایک منظم سازش کی تھی۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی، جسے اس منظم سازش کا پردہ فاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسے اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے۔

Read more

الیکشن سے پہلے ہی راہل گاندھی ہار گئے

کانگریس پارٹی کا پرچار ایک شرمناک حالت میں ہے۔ راہل گاندھی لوگوں کی نظر میں الیکشن سے پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ ان کی تقریروں سے لوگوں میں کوئی اعتماد نہیں جگتا ہے۔ وہ ایک ہی طرح کی بات ہر ریلی میں کہتے ہیں، اس لیے جب ان کی تقریر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے، تو لوگ چینل بدل لیتے ہیں۔ اگر نریندر مودی کی ریلی ساتھ میں ہوتی ہے، تو ٹی وی چینل والے ہی راہل کی آواز بند کر دیتے ہیں۔ راہل کی ساکھ ایک لیڈر کی نہیں بن سکی۔ راہل گاندھی کسانوں کا دل نہیں جیت سکے۔ ملک کے مزدور اور دلت بھی انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی وہ اپنا مقام نہیں بنا پائے ہیں اور ملک کے نوجوانوں کے درمیان وہ ایک مذاق بن کر

Read more

الزامات کا کھیل

لیور پول فٹ بال کلب کے مشہور منیجر رہے بل سینکلی سے ایک بار یہ پوچھا گیا کہ جب مخالف ٹیم کے کھلاڑی بہت زیادہ فاؤل کرتے ہیں، تو ایسے میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے ان کی صلاح کیا ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں سینکلی نے کہا کہ میں انہیں صلاح دیتا ہوں کہ اپنے اوپر فاؤل ہونے سے پہلے ہی تم اپنے بالمقابل کھلاڑیوں پر حملے شروع کر دو۔

Read more