لال قلعہ سے پنڈت نہرو کی تاریخی تقریرکشمیر پر ہندوستان کی پالیسی

’’چوتھی دنیا‘‘ کے ایڈیٹوریل پیج پر ’’ جب توپ مقابل‘‘ کے ساتھ ’’ خیال در خیال‘‘ نام سے ایک کالم شروع کیا جارہا ہے۔ اس کالم کے ذریعہ ہم آپ کو وطن عزیز اور دنیا کے مختلف سماجی، سیاسی ،معاشی ،مذہبی اور دیگر ضروری مسئلوں پر اس خطے کے تجزیہ کاروں،لیڈروں،دانشوروں، ریسرچ اسکالروں کے نظریات سے واقف کرائیں گے۔ ’’ خیال در خیال ‘‘ جمہوریت کی بنیادی شرط ہے۔ہم ان کے خیالات جانیں گے تب ہی تو یہ طے کر پائیں گے کہ نظریہ کی سطح پر ہم کہاں کھڑے ہیں۔

Read more

جورہاٹ آپریشن کا شرمناک سچ

پونہ گوگوئی جورہاٹ کے باشندے ہیں۔ وہ آرمی کے لیے ٹھیکے کا کام کرتے ہیں۔ ا س کہانی کی شروعات تب ہوتی ہے، جب 20 ستمبر 2011 کی رات کچھ لوگ سرجیت گوگوئی عرف پونہ گوگوئی کے گھر میں زبردستی گھس جاتے ہیں۔ اس رات وہ اپنے گھر میں موجود نہیںتھے۔وہ گوہاٹی میںتھے۔ یہ لوگ پونہ گوگوئی کے گھر کے پچھلے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے تھے۔ گھر میںصرف ان کی بیوی رینو اور تین بچے تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ رات کا وقت تھا۔ گھر میںسب سو

Read more

جنرل کی سچائی کا سچ

ابھی کچھ دنوں پہلے اچانک ایک خبر آئی کہ آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی کے سنگھ پر سنگین الزام لگائے ہیں۔انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے لکھا کہ جنرل دلبیر سنگھ نے سپریم کورٹ میں دیئے اپنے ایک حلف نامے میں کہا ہے کہ 2012 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے انہیں ایک خفیہ منصوبہ ،بری منشا اور جرمانہ دینے کے مقصد سے نشانہ بنایا ۔اس کا مقصد صرف آرمی کمانڈر کے طور پر ان

Read more

پنجاب سیاست پر خصوصی پیش کش کب راج کرے گا خالصہ

پنجاب میں اسمبلی انتخابات سر پرہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اکالی دل کی مخلوط سرکار کے خلاف ماحول گہرا ہورہا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس دور حکومت میں پنجاب کی معیشت اور سماجی گراف کافی نیچے گرگیا ہے۔ کسان خودکشی کررہے ہیں اور کھیتی کسانی کے بنیادی کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ نشے کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان برباد ہوا ہے اور پنجاب کی شبیہ کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ عوام میں سیاسی متبادل کی چھٹ پٹاہٹ بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے میں یونائیٹڈ اکالی دل ایک بار پھر خم ٹھوک کر میدان میں آڈٹا ہے۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی بھی مؤثر موجودگی کے ساتھ میدان میں ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کیا ہے اصل صورت حال۔

Read more

یوم اساتذہ طلباء و اساتذہ کے محبوب تھے ڈاکٹر رادھا کرشنن

عظیم مفکر دانشور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن سوویت یونین میںسفیر رہے اور ملک کے 1952 سے 1957 اور 1957 سے 1962 تک نائب صدر اور 1962 سے 1967 تک صدر رہے اور اپنی 50سے زائد فکر و فلسفہ و دیگر علمی ایشوز پر معرکۃ الاراء کتابیں تصنیف کیں۔ان کی عالمانہ اور دانشوارانہ افکار و خیالات کی قدر ان کے ہم عصروں میں گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو،ڈاکٹر راجندر پرساد، رابندر ناتھ ٹیگور، اور مولانا ابولکلام آزاد نے اندرون ملک اور

Read more

اخلاق الرحمٰن قدوائی ملک و ملت ہمہ جہت شخصیت سے محروم

تیسرے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کے شاگرد عزیز ڈاکٹر اخلاق الرحمٰن قدوائی کی 24 اگست 2016 کو وفات ہونے سے ایک ایسی شخصیت ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئی، جو کہ بنیادی طور پر سائنسداں تھی، مگر انھوںنے ایک قابل استاد، ایڈمنسٹریٹر، گورنراور پارلیمنٹیرین کے طور پر جو گراں قدر خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد کی جاتی رہیں گی اور ان

Read more

قائدین کو دلچسپی نہیں بنیادی مسلم مسائل سے

یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کا فقدان ہے۔تنظیموں اور اداروں کے جو قائدین ہیں وہ مسلک اور مکتبہ فکر کی بنیاد پر اپنے اپنے پیروکاروں کے رہنما ہیں۔ان کا ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں سے نہ کوئی ربط ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ یہی وجہ ہے کہ عام مسلمانوں کے بنیادی مسائل میں وہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کرپاتے ہیں۔انہی امور کا یہاں جائزہ لیا جارہا ہے۔

Read more

نیا قومی تعلیمی پالیسی ڈرافٹ سیکولر اور عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں

بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت چلی ہے ملک کو فرنگیوں اور دیگر اثرات سے آزاد نئی قومی تعلیمی پالیسی دینے ۔ مگر ڈرافٹ کی تفصیلات پر نظر ڈالتے ہی یہ محسوس ہوجاتا ہے کہ اس کی اصل منشا گنگا جمنا تہذ یب والے سیکرلر اور عوامی امنگوں کے ترجمان نظریوںکو ختم کرکے ہندوستان کو ایک مخصوص ایک رخی نظریہ کی طرف لے جانا ہے۔ عام عوام خصوصاً مسلمان، دیگر اقلیتیں اورکمزور طبقات اس ڈرافٹ سے صرف غیر مطمئن ہی نہیں ،خوفزدہ بھی ہیں۔ اس کا اندازہ ان کے اندر پائی جانے والی بے چینی اور خوف و ہراس سے ہوتا ہے۔ اس رپورٹ میںان ہی باتوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور مشورے دیے گئے ہیں۔ آئیے، دیکھتے ہیںکہ کس طرح موجودہ شکل میں یہ ڈرافٹ ملک کے عوام کو منظور نہیں ہے۔

Read more

میٹرینٹی بل 2016 فطری تقاضے اور انسانی اقدار نظر انداز

گزشتہ 11اگست 2016 کو راجیہ سبھا سے پاس کیا گیا ممتا کے تحفظ کے لئے میٹرنیٹی بینیفٹ (ترمیم) بل 2016کافی نہیں ہے۔ اس میں جو اپروچ اختیار کرنے کی بات کی گئی ہے،وہ فطری تقاضے اور حقوق انسانی کے عین مطابق بھی نہیں ہے۔اولاد کے پالنے پوسنے اور نشوو نما کی ذمہ داری ( Child Care)ماںپر ہی ڈالی گئی ہے اور والدین کے تعلق سے کوئی متبادل ماڈل بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔ا ٓئیے، دیکھتے ہیں کہ کیسا ہے یہ بل اور یہ کتنی راحت ماں کو پہنچا پائے گا؟

Read more

مدرسوں میں علماء اور نئی نسل جذبۂ آزادی سے ہنوزسرشار

یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ تحریک آزادی میں مدارس اور ان کے علماء کا 1857 میں’’غدر‘‘ ، جسے تحریک جنگ آزادی اوّل یا دوئم بھی کہتے ہیں ، کے بعد سے ہی بنیادی رول رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ’’غدر‘‘ کے محض 9 سال کے بعد 1866 میں دور جدیدکا ہندوستا ن کا پہلا مدرسہ دارالعلوم دیوبند قائم کیا گیاتھا۔ جس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھی کہ

Read more