لیفٹ کے لئے کچھ بھی رائٹ نہیں

تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کو بھی لوک سبھا انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں تھی، لیکن محض 10 سیٹوں پرکمیونسٹ پارٹیاں سمٹ جائیں گی، ایسا کسی نے نہیں سوچا تھا۔ مغربی بنگال میں 45 سالوں تک حکومت کرنے والی سی پی ایم کو اس بار صرف دو سیٹیں ہی ملی ہیں، جبکہ گزشتہ بار اسے 16 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بنگال میں سی پی ایم، فارورڈ بلاک اور ریوالیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) اس بار کھاتہ تک نہیں کھول پائی۔

Read more

جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں الیکشن کمیشن کا کرار

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اس لیے یقینی طور پر ہندوستان کے عام انتخابات کا عمل دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونے والا سب سے بڑا جمہوری عمل ہے۔ اس کو غیر جانبدار اور کارگر طریقہ سے مکمل کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، جو ایک آئینی ادارہ ہے۔ آئین ہند نے الیکشن کمیشن کو پارلیمنٹ، ہر ایک ریاست کی اسمبلی، صدر اور نائب صدر کے عہدوں کے انتخاب کرانے اور انتخابی عمل کے کنٹرول کی مکمل ذمہ داری دے رکھی ہے۔ کمیشن 25 جنوری، 1950 کو وجود میں آیا تھا اور تب سے لے کر آج تک اسی ادارہ کی نگرانی میںہندوستان میں انتخاب ہوتے آئے ہیں۔ اگر آج ہندوستان خود کو دنیا کے سیاسی نقشہ پر ایک متحرک جمہوریت کی شکل میں قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے، تو اس میں اس ادارہ کا بھی کچھ نہ کچھ تعاون ضرور ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ کمیشن (خاص طور پر انتخابات کے دوران) کے کام کاج اور اس کے نظام پرانگلی نہیں اٹھتی۔ حالیہ عام انتخابات میں بھی یہ ادارہ تنازعات میں گھرا رہا۔

Read more

مہارتھیوں کو بہا لے گئی سیاسی سنامی

سولہویں لوک سبھا انتخابات کے نتائج صحیح معنوں میں سیاسی سونامی ہیں اور یہ سونامی یقیناً بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حق میں ہے۔ جس طرح سونامی میں اتفاقاً چند افراد اور املاک خوش قسمتی سے بچ جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح کچھ سیاسی پارٹیاں اور ان کے اتحاد بچ گئے، باقی سبھی اس میں بہہ گئے۔ آزادی کے بعد 1977میں جنتا پارٹی کی لہر میں اسی طرح کا کچھ دیکھنے کو ملا تھا اور ایک مخصوص پارٹی کانگریس اس میںبہہ گئی تھی، مگر 2014میں صرف ایک پارٹی اور اتحاد ہی نہیں ، بلکہ متعدد پارٹیاں و اتحاد اور ان کے بڑے بڑے مہارتھی شکست فاش کا شکار ہوئے۔

Read more

اب ایک نئے ہندوستان کی بات ہونی چاہئے

عام انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ تقریباً پورا ملک ایک طرف چلا گیا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان، ٹھیک 1971 اور 1977 کی طرح۔ 1984 کے بعد پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے اکیلے اکثریت کی سرکار بنائی۔ لیکن 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہمدردی کی لہر تھی، جس کی وجہ سے کانگریس جیت گئی۔ دوسری طرف 1971 میں اندرا گاندھی کے ’’غریبی ہٹائو‘‘ نعرے کی وجہ سے کانگریس کو پوری اکثریت ملی تھی اور پھر 1977 میں ایمرجنسی کے خلاف عوام کا غصہ ووٹ بن کر سامنے آیا تھا۔ 2014 کے انتخاب میں لوگوں کا غصہ گھوٹالے کے خلاف ووٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ وہ گھوٹالے جو سی اے جی رپورٹوں سے باہر

Read more

عام آدمی پارٹی نے تاریخ رقم کی

انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے بعد کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے شکست کی ذمہ داری لی۔ یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے خود کو ذمہ دار بتایا۔ بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے شکست کی ذمہ داری لی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش نے مانا کہ چوک ہو گئی۔ صرف اکیلے اروِند کجریوال ہیں، جنہوں نے کہا کہ یہ ان کی شکست نہیں ہے۔ پارٹی نے بہتر مظاہرہ کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سبھی معروف پارٹیوں میں سب سے زیادہ شرمناک ہار عام آدمی پارٹی کی ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے 443 امیدوار کھڑے کیے تھے۔ ان میں سے 421 سیٹوں پر پارٹی کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ بنارس میں کجریوال کی بڑی ہار ہوئی،

Read more

مسلم ووٹنگ پیٹرن : اسٹریٹجی کو بدلنے کی ضرورت

لوکسبھامیں مسلمانوں کی مسلسل گھٹتی تعداد کے لیے جہاں ایک طرف کانگریس پارٹی ذمہ دار رہی، وہیں اس بار عام آدمی پارٹی کو اگر اس کے لیے قصوروا ٹھہرایا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔ پہلے کانگریس پارٹی اس لیے ذمہ دار تھی، کیوں کہ اس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے یا انہیں بیوقوف بنانے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑا۔ اسی طرح اس بار کے عام انتخابات میں ہندوستانی مسلمانوں کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ قومی سطح پر صرف عام آدمی پارٹی ہی ہے، جو انہیں بی جے پی یا نریندر مودی سے نجات دلا سکتی ہے۔ حالانکہ انتخابی نتائج کو دیکھا جائے، تو قومی سطح پر عام آدمی پارٹی اتنا بھی ووٹ حاصل

Read more

کیا کیا گل کھلائے مسلم سیاسی پارٹیوں نے؟

تیرہ اعشاریہ چار فیصد مسلم آبادی والے ہندوستان میں مسلمانوں کے ذریعے اپنی سیاسی پارٹیوں کے ایک درجن سے زائد تجربات کیے گئے ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں سے کچھ ریاستوں میں کیے گئے یہ تجربات تعداد کو بڑھانے کے لحاظ سے کچھ حد تک کامیاب تو دکھتے ہیں مگر وہ اتنے محدود ہیں کہ ان کی بنیاد پر کل 29 ریاستوں اور 7 یونین ٹیریٹوریز میں ان کا تجزیہ ناقابل ذکر ہو جاتاہے۔ ایک اندازہ کے مطابق ان ایک درجن سے زائد مسلم سیاسی پارٹیوں کے ذریعے 1952 میں ہوئے اولین پارلیمانی انتخابات سے لے کر آج تک کل 16 انتخابوں میں کم و بیش ڈیڑھ درجن مسلم نمائندے پارلیمنٹ کی ایوان زیریں لوک سبھا اور آدھے درجن ایوان بالا راجیہ سبھا میں بھیجے جا سکے ہیں۔ 2014 میں منعقد 16ویں لوک سبھا کے انتخابات میں تین مسلم سیاسی پارٹیوں انڈین یونین مسلم لیگ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور آسام یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے آدھے درجن امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔

Read more

نریندر مودی کے لئے ایک سنہرا موقع

نریندر مودی کو ایشور نے، اللہ نے، گاڈ نے، واہے گرو نے یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو، وقت نے تاریخ کا سب سے اہم موقع فراہم کیا ہے۔ نریندر مودی کے سامنے گزشتہ 64 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجربات ہیں۔ کس پارٹی نے یا کس وزیر اعظم نے لوگوں کے لیے کیا کیا، کیا نہیں کیا، اس کی فہرست ہے اور آج نریندر مودی کے سامنے یہ ملک مواقع کی ایک کھلی کتاب بن کر سامنے کھڑا ہوا ہے۔ نریندر مودی کو ملے اس موقع کے پیچھے ملک کے عوام کی مثبت حمایت ہے اور یہ مثبت حمایت ان کے حق میں جب بن رہی تھی، تو اس کو ملک کا کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی سروے کرنے والا کسی بھی طرح سمجھ نہیں پایا۔ شاید اس بنتی حمایت کو نریندر مودی بھی سمجھ نہیں پائے ہوں گے اور وہ بھی کہیں نہ کہیں ایشور کو یا وقت کو مبارکباد دے رہے ہوں گے اور اس بے پناہ حمایت کو سلام کر رہے ہوں گے۔
اس بے پناہ حمایت کی تعمیر جن اسباب سے ہوئی، ان اسباب کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہر شخص کو جاننا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تو ضرور جاننا چاہیے۔ وجہ، غصہ اور اس سے نکلی ہوئی حمایت دراصل ایک شیر ہے، جس کے اوپر آج نریندر مودی سوار ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تھے، تو ملک کے سامنے مسائل کا پہاڑ تھا۔ وہ مسائل دو وجہوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پہلا مسئلہ، آزادی کے بعد ملک کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو ترجیح نہ ملنا۔ اس وجہ سے لوگ ترقی کے دائرے سے دھیرے دھیرے باہر ہونے لگے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ خود کو اقتدار سے محروم سمجھنے لگا، جس کا نتیجہ ملک میں خانہ جنگی بھی ہو سکتی تھی۔

Read more

یونی سیف کی ٹیکہ کاری پر اردو ایڈیٹرس کانفرنس وقت کی اہم ضرورت

یونیسیف کا نام بچّوں کے حفظان صحت کے اصولوں سے متعلق کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ 11دسمبر 1946میں اس کا قیام دوسری جنگ عظیم کے دوران بچّوں کو ایمرجنسی غذا کی فراہمی اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کیاگیا تھا اور 1953میں یہ ایجنسی پوری طرح اقوام متحدہ کا حصہ بن گئی تھی۔ اس وقت تقریباً 200ممالک میںیہ ایجنسی بچوں کی حفظان صحت کے اصولوں پر کام کررہی ہے۔

Read more