بارہواں پنچ سالہ منصوبہ :کیا عوامی امنگوں کا ترجمان ہوگا ؟

عبد الباری مسعود
پلاننگ کمیشن آف انڈیا یا منصوبہ بندی کمیشن نے با رہویں پنج سالہ منصوبہ (2012-17) کا ا پروچ پیپر ( منصوبہ کا تعارفی خاکہ ) پیش کردیا ہے جس کا بنیادی مقصد تیز رفتار، مزید اشتمالی (Inclusive) اور پائیدار ترقی و نمو بیان کیا گیا ۔ آئندہ منصوبہ کو حتمی شکل دینے کے سلسلہ میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں کمیشن کی ایک خصوصی میٹنگ میں تعارفی خاکہ پیش کیا گیا۔یہ دراصل گیارہویں پنج سالہ منصو بہ کا عکس ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی منصوبہ کا مرکزی نکتہ وہی زیادہ سے زیادہ اقتصادی شر ح نمو کا حصول ہے ۔ خود وزیر اعظم نے ( جو کمیشن کے چیئر مین بھی ہوتے ہیں) اپنی اختتامی تقر

Read more

عوام سے دوری مایاوتی کو مہنگی پڑ سکتی ہے

اجے کمار
دو ہزار سات میں چوتھی بار وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والی مایاوتی کا آغاز جتنا اچھا تھا، انجام اتنا ہی خراب لگ رہا ہے۔ ان کی سرکار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اور اگلے سال انتخابات ہونے ہیں، لیکن مایاوتی کے پاس ایسی کوئی حصولیابی نہیں ہے جس کے دم پر وہ عوام سے ووٹ کی اپیل کریںگی۔ ان چار سالوں میں مایاوتی عرش سے فرش پر آگئی ہیں، لیکن اندازے ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ عوام کی نظروں میں مایاوتی سرکار کی اہمیت اس سے بہتر ہو، صرف ایک سال اورہے، اس کے بعد عوام خود تیار کریںگے مایاوتی سرکار کا رپورٹ کارڈ۔ عوام کی نظروں میں مایاوتی کی شبیہ ٹھیک ویسی ہی ہے، جیسی مخالف جماعتیں پروپیگنڈہ کر رہی ہیں یا پھر ان کے کام کاج سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ اس بات کا فیصلہ 2012 میں ہوجائے گا۔ بی ایس پی نے پانچ سالوں میں کیا کھویا کیا پایا، اس ک

Read more

کمیونزم کی جیت لیکن کمیونسٹوں کی ہار

ڈاکٹر منیش کمار
بایاں بازو کا صفایا کیوں ہوا؟ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح کیا ہندوستان کے نقطۂ نظر میں بھی کمیونسٹ غیر موزوںہو گیا ہے۔ کیا مغربی بنگال اور کیرالا کی ہار سے لیفٹ کا خاتمہ ہو گیا ہے ؟ کیا مستقبل میںبایاں بازو مضبوط ہو سکتا ہے؟کیا ہندوستان میں لیفٹ سیاست کا مقام نہیں رہا؟کیااس شکست کے بعد بایاں بازو کے پاس متبادل بچ گیا ہے؟ آنے والے وقت میں کمیونزم کی مشکلیں کیا کیا ہیں۔ ایسے کئی سوال ہیں جنہیں سمجھنا اہم ہے۔
برلن کی دیوارمہندم ہونے اور سوویت یونین کی توڑ پھوڑکے کئی سال بعد ہندوستان میں پہلی بار ایسا لگنے لگا ہے کہ ہتھوڑے اور ہنسیا والا لال جھنڈا خلیج بنگال میں گم ہونے والا ہے۔

Read more

اب تبدیلی کرنے کی باری ممتا کی ہے

راجیش ایس کمار
عوام نے تو اقتدار بدل دیا ہے، اب تبدیلی کرنے کی باری ممتا بنرجی کی ہے۔ اکیلے دم پر تقریباً دو تہائی سیٹیں جیتنے کے بعد بھی اگر ممتا بنرجی کانگریس کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہیں تو اسے صرف ان کی دلجوئی یا اتحادی رسم نبھانے کی بات نہیں مانا جانا چاہیے۔ ویسے بھی سیاست میں دلجوئی جیسے لفظ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ مغربی بنگال میں سالوں تک اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی ممتا بنرجی کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ عوام نے جو تبدیلی کی ہے، وہ محض34سال پرانے اقتدار کی وجہ سے ہی نہیں کی ہے۔ عوام نے یہ تبدیلی اس امید کے ساتھ بھی کی ہے کہ ممتا اب ان کی زندگی اور مغربی بن

Read more

کیا اب بھوٹان کی بجلی کرے گی بہار کو روشن

اشرف استھانوی
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار این ڈی اے کی حکومت والی دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی طرح ہی باتیں بہت بڑی بڑی کرتے ہیں، مگر کام کے معاملے میں عموماً پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نتیش کمار گذشتہ 5 برسوں سے بہار کو بجلی کے معاملے میں خود کفیل بنانے کی بات کر رہے ہیں مگر خود کفیل بنانا تو دور رہا وہ ابھی تک ایک میگا واٹ اضافی بجلی کی پیداوار کا بھی انتظام نہیں کر پائے ہیں۔ ایسے میں ان کا یہ دعویٰ کہ بہار میں صنعتوں کا جال بچھایا جائے گا اور ہر گھر میں بجلی پہنچائی جائے گی ، اپنی معنویت کھوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ریاست بہار کو فی الوقت یومیہ 2200میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے۔ مگر بڑی مشکل سے وہ مختلف ذرائع س

Read more

انتخابی نتائج: قومی پارٹیاں اپنی شناخت کھو رہی ہیں

سنتوش بھارتیہ
تاریخ کروٹ لینے جا رہی ہے، اور جب تاریخ کروٹ لینے والی ہوتی ہے تو اس کا اشارہ وہ پہلے سے ہی کر دیتی ہے۔ پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جوکسی کی جیت یا کسی کی شکست سے بڑا اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم اس سے سبق لیں یا نہ لیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ لیکن اگر ہم اس سے سبق لینا چاہیں تو سبق بالکل صاف اور واضح ہے کہ تاریخ کروٹ لینے والی ہے۔ ہندوستان کے رائے دہندگان جن میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پانڈیچیری کے لوگ شامل ہیں،نے فیصلہ کن نتائج ہمارے سامنے پیش کیے ہیں اور یہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایشوز جنھیں ہم نے مان لیا تھا کہ وہ اب ایشو نہیں ہیں، حقیقتاً وہ ایشو ہیں۔ ان انتخابات

Read more

راہل گاندھی نہیں چاہتے کہ کسانوں کے مسائل ختم ہوں

کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کی پالیسیاں کچھ اور ہیں اور راہل گاندھی کچھ اور بات کرتے ہیں۔ حکومت لینڈ ایکوائرنگ سے متعلق برسوں پرانے قانون کی سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھاتی ہے اور راہل گاندھی اسی قانون کے تحت ہونے والی لینڈ ایکوائرنگ کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن صرف وہیں جہاں غیر کانگریسی حکومت ہے۔ یہی رویہ انھوں نے اترپردیش کے گوتم بدھ نگر میں ہوئی لینڈ ایکوائرنگ معاملہ میں اختیار کیا۔ گوتم بدھ نگر کے گائوں بھٹا میں لینڈایکوائرنگ کے خلاف تحریک کر رہے کسانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، کسان مرتے ہیں، عورتیں بیوہ ہوتی ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، لیکن راہل گاندھی ان کی خبر لینے نہیں جاتے۔ مگر جیسے ہی ح

Read more

اسامہ کا قتل اور ہندوستانی میڈیا کا پروپیگنڈہ

عابد انور
ہندوستانی میڈیا کا رویہ مسلمانوں کے تئیں ہمیشہ معاندانہ رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کوئی ایسا موضوع ہاتھ لگ جائے جس سے مسلمانوں کو بدنام کرنے میں اسے لطف آئے اور ذہنی تسکین ہو۔ مسلمانوں پر مظالم، وقف املاک کی لوٹ کھسوٹ، فسادات میں مسلمانوں کی تباہ حالی، مسلمانوں کے تئیں پولس کا دہشت گردانہ رویہ اور بے قصور مسلمانوں کو کسی جعلی معاملے میں ملوث کرنے کی بات اور بال کی کھال نکالنے والا ہندوستانی میڈیا کبھی غیر جانبدار نظر نہیں آتا۔ گزشتہ دنوں جب جنگ پورہ بھوگل میں نور مسجد کی شہادت عمل میں آئی تھی تو اس وقت میڈیا کو سانپ سونگھ

Read more

اسامہ کی موت سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ؟

رضوان عابد
اسامہ بن لادن کے مارے جانے سے دوباتیں تو طے ہوگئیں ایک تو یہ کہ اوبامہ کا افغانستان سے امریکی فوجیں نکالنے کا آخری فیصلہ ہوگیا۔ بہت دن سے امریکہ کے صدر اوبامہ تذبذب میں تھے خاص طور سے اسرائیل کی طرف سے صدر اوبامہ پر بہت دبائو تھا کہ امریکی فوجیں افغانستان سے نہ نکالی جائیں جب تک کہ پاکستان کے ایٹمی دانت نہ توڑدئے جائیں۔ افغانستان میں امریکی فوجی اقتدار کی کہانی اسامہ بن لادن سے ہی شروع ہوئی تھی اور اسی پر ختم بھی ہورہی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسامہ کے قتل کے دوسرے دن پاکستان میں امریکہ کےسفارتخانےکو تالالگادیاگیا۔ کہا یہ جارہاہے کہ سیکورٹی کے مدنظر سفارتخانے کو بند کیاگیاہے۔ دوسری بات ہے

Read more

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

عابد انور
سننے میں شاید یہ بات عجیب سی لگے خصوصاً مغربی فکر کے حامل افراد کویہ دن میںدیکھا ہوا خواب یا شیخ چلی کے حسین سپنے کی طرح معلوم ہوگالیکن یہ اسی طرح حقیقت سے پراور سچ ہے جس طرح سورج کی روشنی، چاندکی چاندنی، سمندر کی گہرائی و گیرائی اور کائنات کی حقیقت کہ امریکہ روز بروز اپنے ملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے۔ امریکہ پوری دنیا کے لئے بدی کا محور بن گیا ہے۔ اس سے نہ اس کا دوست ملک محفوظ ہے اور نہ ہی دشمن ملک۔ امریکہ نے جس سے دوستی کی اسی کی پیٹھ میں خنجر اتار دیا۔نہ اس کے قول کا بھروسہ ہے اور نہ فعل پر اعتبار۔ اس کے سامنے دنیا کا ہر قانون اور اقوا م متحدہ کا ہر منشور ہیچ ہ

Read more
Page 273 of 318« First...102030...271272273274275...280290300...Last »