وعدہ کاروبار : جو مہنگائی بڑھانے کا وعدہ کرتا ہے

وعدہ کاروبار بازار سے جڑا ایک ایسا اقتصادی فریق ہے، جسے عام آدمی سمجھتا نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتا، لیکن اس کاروبار کا اثر اس کی زندگی پر شاید سب سے گہرا پڑتا ہے۔ یہ کاروبار جڑا ہے آپ کے، ہمارے گھر سے۔ دال، چاول، چینی، آلو، پیاز جیسی روزمرہ کی ضرورتوں کی بڑھتی قیمت سے۔ کل ملاکر اس کاروبار کی کہانی کو ایک لائن میں ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ہم یا آپ بازار میں اپنے کھانے کا سامان خریدنے جاتے ہیں اور ان سامانوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کو دیکھتے ہیں، تو اس کے پیچھے سب سے بڑا رول اسی وعدہ کاروبار کا ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا اکیلا ایسا کاروبار ہے، جہاں ٹھوس طور پر نہ کسی چیز کو خریدا جاتا ہے اور نہ بیچا جاتا ہے۔ اصل میں، یہاں سب کچھ منھ زبانی خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ مطلب، آلو کی فصل آپ کے کھیت میں بھلے نہ تیار ہوئی ہو، لیکن وہ وعدہ بازار میں کئی بار خریدی اور بیچی جا چکی ہوتی ہے۔ اب، جس نے بھی اسے خریدا، اسے منافع کمانا ہوتا ہے اور اگر بدقسمتی سے آلو کی فصل کم ہوئی، تو منافع کمانے کے لیے جمع خوری اور کالا بازاری ان کا سب سے آسان ہتھیار ہوتا ہے۔

Read more

ہندوستان، پاکستان میں بیٹیوں کے اچھے دن کب آئیں گے؟

بدایوں میں 2نابالغ لڑکیوں سے اجتماعی عصمت دری اور پھر ان کی لاشوں کو پیڑ سے لٹکا دینا، اٹاوہ میں ایک یا دو کے ہاتھوں ایک لڑکی کی عصمت دری اور پاکستان کی فرزانہ کو عدالت کے سامنے اسی کے باپ بھائیوں کے ہاتھوں اینٹوں سے پیٹ پیٹ کر ماڈالنا، کتنا دردناک اور شرمناک ہے یہ سب۔ کیا ہم 21ویں صدی کے اس دور میں یہ باتیں کر رہے ہیں جبکہ خبر سے پہلے ہی خبر سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعہ دنیا میں پھیل جاتی ہے جبکہ مریخ پر رہنے والے خواہشمندوں کی بکنگ کی جا رہی ہے۔

Read more

گاندھی کی کرم بھومی چمپارن بھی: انجمن اسلامیہ بنا ہوا ہے سیاست کا اکھاڑہ

صدیوں سے مختلف مسائل میں گرفتار ہندوستانی مسلمان اپنے ہی سماج کے رہنماؤں کے ذاتی مفاد کے ناپاک سیاسی مکڑ جال میں چھٹپٹانے کو مجبور ہے۔ یہ معاملہ ہے بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں 1975میں قائم کیا گیا انجمن اسلامیہ کا، جو اپنے مقصد سے پوری طرح بھٹکا ہوا ہے۔ موجودہصورتحال یہ ہے کہ وقت کے تمام چیلنجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل سے سروکار ختم کر کے یہ ادارہ سیاست کا اہم اکھاڑہ بن گیا ہے۔ اس کا مقصد اب صرف لاوارث لاشوں کو دفنانا ہی رہ گیا ہے۔ انجمن اسلامیہ کے قیام کے بعد مسلم دانشوروں نے جس طرح سے اس کی آبیاری کر کے اسے آگے بڑھایا، اس سے لوگوں میںبڑی امید جاگی اور انھیں

Read more

جموں و کشمیر: اودھم پور حلقہ غلام نبی آزاد کے لئے آسان نہیں

ضلع اودھم پور ریاست جموں و کشمیر کا ایک ایسا حسین علاقہ ہے جہاں دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے آتی ہے۔ اسی ضلع کے ٹریکوٹا پہاڑ پر وشنو دیوی کی ایک گپھاہے اور شنو دیوں کا مندر اسی گپھا میں ہے۔ جس کو ہندو مذہب میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ان تمام خوبیوں کے باوجود اس ضلع کے لوگ ایک عظیم نعمت کی حصولیابی میں بہت خوش نصیب ثابت نہیں ہوئے ہیں اور وہ نعمت ہے خواتین کا مردوں کی بہ نسبت کم ہونا۔ ضلع میں خواتین کی تعداد مردوں سے کم ہے ۔ ایک ہزار مرد کے مقابلے میں صرف 863 خاتون ہی پائی جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے اس کا اثر رائے دہی پر بھی پڑتا ہے۔یہاں رائے دہندگان کی کل تعداد 1,363,060 ہے ،جن میں مر ووٹرس کی تعداد716,625 اور خواتین کی تعداد صرف646,435 ہے۔ اودھم پور میں ہر مذہب کے لوگ ہیں ۔جن میں ہندو 74 فیصد، مسلم 25 فیصد، سکھ 0.7 اور دیگر 0.3 فیصد ہیں۔

Read more

کیا کشمیری مودی کو پسند کرنے لگے ہیں ؟

ایسا لگ رہا ہے کہ ہندوستان بھر میں ایک زوردار ’مودی لہر‘ چلانے کے بعد بی جے پی واحد مسلم اکثریتی ریاست میںعوام کی حمایت حاصل کرنے کی جی توڑ کوشش کررہی ہے۔ جموں و کشمیر، یعنی ایک ایسی ریاست، جس کی مسلم آبادی کے بارے میں عام تاثر ہے کہ یہ سخت گیر موقف کی حامل ہے، میں حال ہی میں مودی کے حق میں ایک سینئر لیڈر نے غیر متوقع طور پر بیان دیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے کئی سینئر لیڈران نے کشمیری عوام کے حق میں وعدوں کے انبار لگانا شروع کردیے۔ مودی کے حق میں بیان دینے والے یہ کشمیر ی رہنما میر واعظ عمر فاروق تھے، جو نہ صرف علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کی سربراہی کررہے ہیں، بلکہ ایک اعلیٰ مذہبی منصب پر بھی فائز ہیں۔ میر واعظ نے قومی جریدے ’انڈیا ٹوڈے‘ کو اپنے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ انہیں کانگریس کے مقابلے میں مودی کی قیادت والی بی جے پی سرکار سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں، کیوںکہ بی جے پی نے اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں 1998 سے 2004 تک کے اپنے دور اقتدار میں مسئلہ کشمیر کے حل کی سمت میں کئی غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔

Read more

یو پی اے کا فلاپ شو : دس برس مسلمانوں کو سبز باغ دکھاتے گزر گئے

اگراقلیتوں بشمول مسلمانوں کی پسماندگی دورکرکے انہیں ترقی کی دوڑ میں شامل کرانے کے لیے محض اعلانات اور فیصلے کافی ہیں تو پھر مرکزمیں کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت سب سے آگے ہے۔ اسی طرح یہ حکومت اس معاملے میں بھی سب سے آگے ہے کہ اس کے اتنے ڈھیر سارے اعلانات اور فیصلوں کے باوجود گزشتہ تقریباًدس برسوں میں مسلم اقلیت امپاور نہیں ہوپائی۔ حکومت اس میں بھی سب سے آگے رہی کہ فنڈ ’نئی روشنی‘ اسکیم کے تحت مختص ہوئے اقلیتی خواتین کے لیے مگر یہ گئے اقلیتی تنظیموں کے بجائے اکثریتی تنظیموں کی جھولی میں۔ گزشتہ دس برسوں میں مسلم اقلیت کے نتاظر میں یوپی اے کے فلاپ شو پر پیش ہےتنقیدی جائزہ:

Read more

تنہا چلیں گی بائیں بازو کی پارٹیاں

بی جے پی کے ریاستی دفتر میں کچھ رہنما آپس میں آئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ملی جیت کا اثر ا ن کے چہرے پر صاف جھلک رہا تھا۔ نریندر مودی اور دوسری پارٹیوں کی ہوا میں اڑ جانے تک کی بات ہو رہی تھی۔ یہ بات چیت آگے بڑھتے بڑھتے بہار پر رکی۔ چہرے پر داڑھی اور ماتھے پر تلک لگائے بی جے پی کے ایک رہنما کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اسی الیکشن میں نتیش کواپنی اوقات کا اندازہ ہو جائے گا۔ یہ کہے جانے پر کہ آپ کے چھاتی پیٹ

Read more

اتر پردیش میں سیاسی جنگ

دہلی کی گدی کی لڑائی لگاتار تیز ہوتی جارہی ہے۔اقتدار کی جنگ میں کوئی بھی سیاسی پارٹی پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔لیڈروں نے فتح حاصل کرنے کے لئے تہذیب و تمدن کو طاق پر رکھ دیا۔ چھوٹے لیڈر ہی نہیں بڑے بڑے لیڈروں کی زبان بھی فضا میں نفرت کا زہر گھول رہی ہے۔ جیت کے لئے شارٹ کٹ اپنایا جا رہا ہے۔ 21 نومبر کو اترپردیش کی زمین پر اسی طرح کے کئی رنگ دیکھنے کو ملے۔ بریلی میں سماج وادی پارٹی کے شیر دھاڑے تو آگرہ میں مودی کانگریس ، سماجوادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کو للکارتے رہے۔ یو پی کی لڑائی

Read more
Page 68 of 82« First...102030...6667686970...80...Last »