میں بھی حاضر تھا وہاں۔۔۔۔

’آتش رفتہ کا سراغ‘ کا اجرا
نئی دہلی۔پرگتی میدان ، ورلڈ بک فیئر میں مشرف عالم ذوقی کے نئے ناول’آتش رفتہ کا سراغ‘ کی رسم اجراء کی تقریب عمل میں آئی۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے نورین علی حق نے کہا کہ’ آتش رفتہ کا سراغ ‘کی اہمیت اس بات سے مسلم ہے کہ یہ ناول ہندوستانی مسلمانوں کے دو ہزار برسوں کے سفر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس موقع پر بولتے ہوئے ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کی ایڈیٹر محترمہ وسیم راشد نے کہا کہ ذوقی کے یہاں جو جرأت مندانہ لہجہ پایا جاتا ہے، وہ کمیاب ہے۔ ذوقی ہمیشہ نئے موضوعات کو برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ یہ

Read more

بچوں کے ادیب: رئیس صدیقی

بسمل عارفی
رئیس صدیقی اپنے فرضِ منصبی کی مصروفیات کے باوجود جس جذبے اور انکسار کے ساتھ اردو زبان و ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں اور تصنیف و تالیف کا جو عمدہ ذوق اپنا رکھا ہے، وہ انہیں ممتاز رکھنے کے لیے کم نہیں ہے۔ ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا اعتراف اردو دنیا پہلے ہی کر چکی ہے اور انہیں سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈ سے نوازا بھی جا چکا ہے۔ رئیس صدیق ریڈیو سے باضابطہ طور پر منسلک ہونے سے قبل ہی بچوں کے پروگرام ترتیب دینے کی وجہ سے ریڈیو آرٹسٹ کے طور پر معر

Read more

درد اور امید کی شاعرہ، شاہین رضوی

(شفیق مراد (جرمنی
شاعر تو معاشرے کے دکھ درد کا آئینہ ہوتا ہے اور اگر شاعر کے اندر ہی درد کا سمندر موجزن ہو تو درد عکس در عکس کے مراحل سے گزرتا ہوا ظلمتوں کے پہاڑ سے تیشۂ قلم بن کر ٹکراتا ہے، تو وہ معاشرتی نا ہمواریوں اور انفرادی مجبوریوں کو قلم کے تیشہ سے کبھی صفحۂ قرطاس پر اور کبھی کینوس پر اتارتا ہے۔ فنکار لفظوں سے منظر نگاری کرے یا رنگ و روغن سے کینوس پر، دیکھنے

Read more

آتشِ رفتہ کا سراغ

مشرف عالم ذوقی
میر صاحب خاموشی سے آگے آگے جارہے تھے۔ پلیا اور تنگ سڑکوں سے گزرتے ہوئے چوراہے سے پہلے بھی ایک قبرستان کی چہاردیواری دور سے نظرآتی ہے۔ اب 4 بجنے والے تھے۔ سڑک اب بھی سنسان تھی۔ یہ مشہور چوراہا تھا، ایک ایسا چوراہا، جہاں سے دلی کے مختلف علاقوں کے لیے بسیں آرام سے مل جاتی ہیں۔ صبح ہوتے ہی، 7 بجے کے بعد سے ہی، اس چوراہے پر جو ٹریفک کے ہنگامے شروع ہوتے ہیں، وہ رات 10-11 بجے تک چلتے رہتے ہیں، لیکن اس وقت چوراہے پر خاموشی تھی۔ ٹھہر ٹھ

Read more

دلی اور دلی والے

فیروز دہلوی
دلی میں ایک کہاوت ہے ’’پیٹ ہے یا قاضی حوض…‘‘ کچھ لوگ ’’قاضی کا حوض‘‘ بھی کہتے ہیں۔ بہت زیادہ کھانے والے کے لیے یہ کہاوت وضع کی گئی۔ بیرونِ دلی کے قارئین کے لیے اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ قاضی حوض پرانی دلی کا مشہور چوراہا، جس کے ایک سمت میں چاوڑی بازار، دوسری جانب سیتا رام بازار، اجمیر بازار (اجمیری گیٹ) تیسری سمت میں اور چوتھی

Read more

علامہ شبلی نعمانی اور تحریک ندوۃ العلماء

خورشید عالم قاسم
اٹھارہ سو ستاون ا دور ہندوستانی مسلمانوں کے لیے خصوصاً بڑی آزمائش کا دو رتھا ۔ اس کی وجہ بہت صاف یہ تھی کہ 1857میں ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے ہندوستانیوں کی طرف سے ایک متحدہ اور منظم بڑی کوشش ہوئی ،جس میں مسلمان پیش پیش تھے۔ اس بڑی کوشش کو انگریزوں نے شاطرانہ طورپرغدر کانام دیا، لیکن

Read more

لندن میں اردو سے محبت رکھنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے

اقبال مرز صاحب کا تعلق کشمیر محلہ لکھنؤ سے ہے۔تقریباً دو سو سال پہلے ان کے اجداد خیرآباد میں رہتے تھے۔انہیں عوام میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 1857 میں بیگم محل ان کے یہاں تین دنوں تک مہمان رہیں۔چونکہ ان کا خاندان محب وطن اور قوم پرست ہونے میں مشہور تھا ، جس کی پاداش میں ان کے خاندان کے زیادہ ترلوگ مارے گئے۔ البتہ جو بچ گئے ان میں سے کچھ تو حیدرآباد جاکر آباد ہوگئے اورپھر وہاں سے وہ لوگ بھی لکھنؤ ہی آگئے۔ اس طرح مرزا صاحب کا پورا خاندان لکھنوی ہوگیا۔ وہ خود لکھنؤ سے کراچی چلے گئے،وہیں ان کی شادی ہوئی اور پھر شادی کے بعد لندن میں مقیم ہوگئے۔ آج وہ اپنے تین بچے اور اہلیہ کے ساتھ وہیں مقیم ہیں۔ چونکہ ادب سے دلچسپی ان کی سرشت میں شامل تھی ۔ لہٰذا لندن کے انگریزی ماحول میں رہ کر بھی انہوں نے ادبی سرگرمیوں کو ترک نہیں کیا۔وہ نہ صرف ایک اچھے رائٹر ہیں بلکہ بہترین شاعر اور ادیب بھی ہیں اور ایک ماہ نامہ ’صدا‘ کے نام سے نکال کر اردو ادب کی دیار غیر میں بے پناہ خدمت کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ ’چوتھی دنیا ‘کے سینئر سب ایڈیٹر وسیم احمد اور فیض احمد سے ہوئے ایک انٹرویو کا اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش ہے:

Read more

حمیدہ معین رضوی سے ایک ملاقات

میدہ معین رضوی لندن کا ایک بہت ہی معتبر نام ہے جو 45 سال سے لندن میں مقیم رہ کر نہ صرف اردو زبان و ادب کی تدریس کا کام کررہی ہیں بلکہ خواتین افسانہ نگاروں میں انہوں نے اپنا منفرد مقام بنایا ہے۔ ان کی شاعری کا سفر بھی اتنا ہی طویل ہے اور وہ اپنے منفرد لب ولہجہ کے لیے لندن کے ادبی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ گزشتہ دنوں وہ دہلی تشریف لائی ہوئی تھیں تو چوتھی دنیا کی ایڈیٹر وسیم راشد نے چوتھی دنیا کے دفتر میں ان کا استقبال بھی کیا اوران سے انٹر ویو بھی کیا۔ پیش ہے اس انٹرویو کے چند اقتباسات:

Read more