اردو کی ممتاز فکشن نگار :حجاب امتیاز علی

عبد اللہ عثمانی
خواتین کے حوالے سے اردو افسانہ نگاری کے عہد شباب میں جب صالحہ عابد حسین، رضیہ، سجاد، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور ان کی دیگر معاصر فکشن نگارعورتوں کی عظمتِ قلم اور فکری بصیرتیں بلندیاں چھورہی تھیں نیز ان کے نقشِ قدم پر چلنے والی متعدد خواتین افسانہ نویس، مثلاً آمنہ ابو الحسن، عفت موہانی، جمیلہ ہاشمی، واجدہ تبسم، رضیہ بٹ، رفیعہ منظور الامین وغیرہ کی تحریریں نئی سوچ اور سماج کی تعمیر کررہی تھیں، تبھی افسانوی دنیا کا ایک معتبر نام حجاب امتیاز علی بھی شہرتوں کی چوٹیوں پ

Read more

دلی اور دلی والے

محمد فیروز دہلوی
اس سے پیشتر ’’دلّی کی آوازوں‘‘ کے تعلق سے لکھا تھا کہ کس طرح عہد شاہجہانی سے کچھ عرصہ پہلے تک شاہجہاں آباد کے گلی کوچوں میں سودا بیچنے والے کیسی کیسی صدائیں لگاتے تھے۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ یاد آیا کہ حکیم ناصر نذیر فراقؔ (مصنف لال قلعہ کی ایک جھلک) بیان کرتے ہیں کہ ’’اکبر ثانی کے حضور میں پرچہ گزرا کہ آج شاہ جہاں آباد میں شہر والوں نے کھُٹ بُنوں کو خوب مارا پیٹا، کیوں کہ کھٹ بنوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ شہر میں پھیری پھرنے آتے ہیں، تو آواز لگاتے ہیں، ’کھاٹ

Read more

میں بھی حاضر تھان وہاں۔۔۔۔۔۔۔

بریلی:گزشتہ دنوں آل انڈیا سدبھائو نرمان کی جانب سے راٹری کلب انٹرنیشنل ہال بریلی میںجشنِ ڈاکٹر آصف بریلوی ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا۔جس میں لندن میں مقیم شاعرہ فرزانہ فرحت کو انکی ادبی علمی خدمات اور انکی شاعری پر ’’سد بھاونا ایوارڈ 2013‘‘ سے نوازا گیا۔فرزانہ فرحت جوکہ لندن میں مقیم ہیں، علمی ادبی حلقوں میں اپنا مقام رکھتی ہیں ۔انڈیا کے مختلف ادبی جرائد میں انکا کلام شائع ہوتا ہے۔انکے دو مجموعہ کلام ’’بدلتی شام کے سائے ‘‘ اور ’’خواب خواب زندگی ‘‘ شائع ہوکر شہرت کی بلندیوں کو چھو چکے ہیں ۔2010میں انہیںشریف اکیڈمی جرمنی کا ڈائریکٹر لندن نامزد کیا گیا ۔

Read more

کسی بھی زبان کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا: ڈاکٹر احمد قا ضی

ڈاکٹر احمدعبد الرحمن قاضی دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹی ’جامعہ ازہر‘ مصر کے شعبۂ اردو سے بحیثیت صدر منسلک ہیں۔ ان کا تعلق راجدھانی قاہرہ سے جنوب میں ضلع سوہاج میں ایک کاشتکار فیملی سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں میں حاصل کی اور پھر جامعہ ازہر میں داخلہ لیا، جہاں سے بی اے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوستان میں ایم فل اور پھر پروفیسر شریف صاحب کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ڈگری دلی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ڈاکٹر احمد قاضی نہ صرف درس و تدریس سے جڑے ہوئے ہیں، بلکہ ہندوستان و مصر میں اردو کو فروغ دینے کے لیے انتہائی سرگرم بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں’ چوتھی دنیا‘ کے سینئر سب ایڈیٹر وسیم احمد اور فیض احمد فیضی سے ان کی ملاقات جامعہ ملیہ انڈو عرب کلچرل سینٹر میں ہوئی۔ اس ملاقات میں ہوئی بات چیت کا ماحصل قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

Read more

دلی اوردلی والے : چند تہذیبی مرقعے

محمد فیروز دہلوی
یہ1940-41 کی بات ہے۔ دلی کے معروف ادیب خواجہ محمد شفیع نے دلی کے مختلف پیشہ وروں اور دوکانداروں کے تعلق سے چند مضامین قلم بند کیے تھے، جو اس وقت کے جرائد میں شائع ہوئے۔ بعد ازاں انہیں مضامین کا مجموعہ ’’دلی کی آوازیں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان آوازوں کے تعلق سے دلی والا اور باہر والا کے درمی

Read more

میں بھی حاضر تھا وہاں۔۔۔۔

’آتش رفتہ کا سراغ‘ کا اجرا
نئی دہلی۔پرگتی میدان ، ورلڈ بک فیئر میں مشرف عالم ذوقی کے نئے ناول’آتش رفتہ کا سراغ‘ کی رسم اجراء کی تقریب عمل میں آئی۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے نورین علی حق نے کہا کہ’ آتش رفتہ کا سراغ ‘کی اہمیت اس بات سے مسلم ہے کہ یہ ناول ہندوستانی مسلمانوں کے دو ہزار برسوں کے سفر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس موقع پر بولتے ہوئے ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کی ایڈیٹر محترمہ وسیم راشد نے کہا کہ ذوقی کے یہاں جو جرأت مندانہ لہجہ پایا جاتا ہے، وہ کمیاب ہے۔ ذوقی ہمیشہ نئے موضوعات کو برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ یہ

Read more

بچوں کے ادیب: رئیس صدیقی

بسمل عارفی
رئیس صدیقی اپنے فرضِ منصبی کی مصروفیات کے باوجود جس جذبے اور انکسار کے ساتھ اردو زبان و ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں اور تصنیف و تالیف کا جو عمدہ ذوق اپنا رکھا ہے، وہ انہیں ممتاز رکھنے کے لیے کم نہیں ہے۔ ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا اعتراف اردو دنیا پہلے ہی کر چکی ہے اور انہیں سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈ سے نوازا بھی جا چکا ہے۔ رئیس صدیق ریڈیو سے باضابطہ طور پر منسلک ہونے سے قبل ہی بچوں کے پروگرام ترتیب دینے کی وجہ سے ریڈیو آرٹسٹ کے طور پر معر

Read more

درد اور امید کی شاعرہ، شاہین رضوی

(شفیق مراد (جرمنی
شاعر تو معاشرے کے دکھ درد کا آئینہ ہوتا ہے اور اگر شاعر کے اندر ہی درد کا سمندر موجزن ہو تو درد عکس در عکس کے مراحل سے گزرتا ہوا ظلمتوں کے پہاڑ سے تیشۂ قلم بن کر ٹکراتا ہے، تو وہ معاشرتی نا ہمواریوں اور انفرادی مجبوریوں کو قلم کے تیشہ سے کبھی صفحۂ قرطاس پر اور کبھی کینوس پر اتارتا ہے۔ فنکار لفظوں سے منظر نگاری کرے یا رنگ و روغن سے کینوس پر، دیکھنے

Read more

آتشِ رفتہ کا سراغ

مشرف عالم ذوقی
میر صاحب خاموشی سے آگے آگے جارہے تھے۔ پلیا اور تنگ سڑکوں سے گزرتے ہوئے چوراہے سے پہلے بھی ایک قبرستان کی چہاردیواری دور سے نظرآتی ہے۔ اب 4 بجنے والے تھے۔ سڑک اب بھی سنسان تھی۔ یہ مشہور چوراہا تھا، ایک ایسا چوراہا، جہاں سے دلی کے مختلف علاقوں کے لیے بسیں آرام سے مل جاتی ہیں۔ صبح ہوتے ہی، 7 بجے کے بعد سے ہی، اس چوراہے پر جو ٹریفک کے ہنگامے شروع ہوتے ہیں، وہ رات 10-11 بجے تک چلتے رہتے ہیں، لیکن اس وقت چوراہے پر خاموشی تھی۔ ٹھہر ٹھ

Read more