شاعرکی زندگی حقیقی زندگی ہوتی ہے،تنہائی میں کھو کر اس کا جنم ہوتا ہے:مہیش بھٹ

ہندوستان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مردہ پرستوں کا ملک ہے۔یہاں جیتے جی آپ کو عزت و شہرت نصیب نہیں ہوتی لیکن مرنے کے بعد آپ کے بت بنائے جاتے ہیں۔بڑے بڑے تعزیتی جلسے منعقد کئے جاتے ہیں اور مرنے والے کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔لیکن اردو ادب میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہیں جیتے جی بے پناہ شہرت و عزت نصیب

Read more

بابا سائیں شکیل الرحمن کے بہانے کچھ باتیں

بابا سائیں بھی چلے گئے۔ جانے والوں کے قافلے میں ایک اور نام جڑ گیا۔ لیکن بابا سائیں صرف ایک نام نہیں تھے، ایک ایسے قدآور درخت کی طرح تھے جس کی شاخیں (ادبی تحریر) آج بھی ان کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں۔ وسیع تر تناظر میں اگر ان کے افکا رو نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ ان کا طرز اسلوب سب سے جدا، سب سے مختلف تھا۔ سیاسی وسماجی بحران سے پیدا شدہ اس غیر شائستہ معاشرہ پر ان کی گہری نظر تھی جہاں صحرائی و وحشی ثقافتیں سر نکال رہی تھیں۔ جدید شہری نظام

Read more

نوجوانوں میں اردو زبان کے لئے دلچسپی بڑھ رہی ہے

’جشن ادب ‘کے تحت لگاتار اردو شاعری اور بحث و مباحثہ کے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور اس کا سہرا یقینا نوجوان شاعر کنور رنجیت سنگھ چوہان کو جاتا ہے جن کی مادری زبان ہندی ہے ،لیکن اردو سے بے پناہ لگاﺅ کی وجہ سے بے حد کامیاب پروگرام منعقد کراتے ہیں۔”چوتھی دنیا“ کے سینئر کورسپونڈنٹ وسیم احمد نے ان سے مختصر سی بات کی ۔پیش ہے اس کے اقتباسات۔

Read more

جشن ریختہ :اردو تہذیب و تمدن کا جشن

’’اردو ایک تہذیب ہے ، اردو ایک ثقافت ہے‘‘۔ ایسی باتیں اکثر سننے کو مل جاتی ہیں،لیکن آج اردو اپنی تاریخ کے ایسے دور میں پہنچ گئی ہے، جہاں اکثر اس کی تباہی کے مرثیے بھی سننے کو مل جاتے ہیں۔ اس میں کچھ حقیقت بھی نظر آتی ہے ۔کیونکہ اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ نئی نسل

Read more

انتظار حسین : اردو فکشن کا ایک روشن استعارہ

کچھ ایسے بھی انساں ہیں جو مر جائیں تو
صدیوں تک قبروں کو بھی حیرانی ہوگی
p-11اردو کے ممتاز فکشن نگار انتظار حسین کا شمار انھیں شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ جو لوگ تخلیق کار کے ساتھ ساتھ اچھے اور نیک انسان ہوتے ہیں اور جو انسانی عظمت کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کی موت کا یقین ہی نہیں ہوتا۔ 2 فروری 201

Read more

اردو آزادی کی زبان ہے۔اس کو روزی روٹی سے جوڑیئے

”اردو کی ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اس کو روزی روٹی سے نہ جوڑا جائے گا۔کسی بھی زبان کے ساتھ روزی روٹی نہ جڑی ہو تو اس زبان کو سیکھنے میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔آج اردو کے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ اردو کے دعویدار ہی اردو میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔لوگ اردو بولتے ہیں،اردو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ معیاری اردو کا حق ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ زبان غریبوں کی زبان ہے،لیکن یقین جانئے اس کو غریبوں کی زبان کہنا ناانصافی ہے

Read more

اردو ادب کا مثالی جریدہ

شائستہ میر
اردو مرنہیں رہی ہے، اردو از سر نو زندہ ہورہی ہے۔ زندہ زبان و ادب کی پہلی پہچان ہے کتابیں اور رسائل اور بولنے والوں کی بڑھتی تعداد۔ ان تین پہلوؤں کے تناظر میں غور کیا جائے، تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں ہم آج اردو کے سلسلہ میں زیادہ بیدار مغز ہوگئے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ بہت جلد ہم نے اپنی کھوئی ہوئی وراثت کی بازیافت کی کوشش شروع کردی ہے۔مارچ 2001 سے شائع ہونے والا رسالہ ’’تمثیلِ نو‘‘ کا تقریباً ہر شمارہ اپنے قاری کی خصوصی توجہ کا طالب ہے۔ خاص طور سے جو موضوعاتی گوشے سامنے آرہے ہیں، ان کے مطالعے سے اردو ادب کی سمت و رفتار کے

Read more

دلی اور دلی والے

محمد فیروز دہلوی
گزشتہ مضمون (قسط نمبر:20) میں گراموفون ریکارڈ کے مقابلوں کے تعلق سے بیان کیا گیا تھا کہ دلی والوں کا ایک شوق یہ بھی تھا، چند باتیں بیان کرنے سے رہ گئی تھیں، یہاں شامل کی جاتی ہیں۔ دلی میں آزادی (1947)سے قبل کناٹ پلیس اور چاندنی چوک میں گراموفون ریکارٖڈ کی دوکانیں تھیں۔ گراموفون صدر بازار میں بھی فروخت ہوتے تھے۔ دلی اور دلی کے مضافات کے شائقین انھیں دوکانوں سے ریکارڈ خریدتے تھے۔
پرانے ریکارڈ اور استعمال شدہ گراموفون جامع مسجد کی ان دوکانوں میں مل جاتے تھے ، جو شمالی دروازے کی سیڑھیوں کے دائیں بائیں دریبہ کلاں اور

Read more

افسانہ تیری سادگی کے پیچھے

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ثانیہ خوشی سے بے قا بو ہو تے ہوئے اپنی سہیلی ثمرین سے لپٹ گئی۔
’’ارے…ارے…کیا ہو گیا…؟‘‘ ثمرین نے ثا نیہ کو سینے سے لگاتے ہو ئے کہا۔
’’آج تو غضب ہو گیا…میری تو جیسے قسمت ہی جاگ اٹھی…‘‘ ثانیہ نے بے تحا شہ ثمرین کے ہا تھوں کو چومنا شروع کردیا۔ثمرین اس بے مو سم برسات سے گھبراتے ہو ئے بو لی ’’یار کچھ بتائے گی بھی یا…؟‘‘
’’ارے آج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچا نک ایک چینل پر میرے آئیڈیل معروف فکشن نگار حشمت ضیاء کا انٹرویو آرہا تھا۔‘‘ثانیہ

Read more

دلی اور دلی والے

محمد فیروز دہلوی
ہمارے دادا اور نانا دونوں انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ عالیہ، مسجد فتح پوری، دلی سے فارغ تھے۔ تجارت پیشہ، دلی کے شرفا میں شمار ہوتا تھا۔ 1960 میں اللہ کو پیارے ہو ئے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے ان گنت چھوٹے بڑے کارخانہ داروں کو دیکھا تھا، مراسم تھے، خود ہمارے خاندان کے چند بزرگوں کے بھی ٹھپہ گوٹہ کناری کے کارخانے تھے۔
دادا کے انتقال سے چند سال پہلے ہم نے ان سے دریافت کیا کہ ’’دلی میں چند لوگ لفظ بگاڑ کر بولتے ہیں، یہاں تک کہ اچھ

Read more