اردو آزادی کی زبان ہے۔اس کو روزی روٹی سے جوڑیئے

”اردو کی ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اس کو روزی روٹی سے نہ جوڑا جائے گا۔کسی بھی زبان کے ساتھ روزی روٹی نہ جڑی ہو تو اس زبان کو سیکھنے میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔آج اردو کے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ اردو کے دعویدار ہی اردو میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔لوگ اردو بولتے ہیں،اردو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ معیاری اردو کا حق ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ زبان غریبوں کی زبان ہے،لیکن یقین جانئے اس کو غریبوں کی زبان کہنا ناانصافی ہے

Read more

اردو ادب کا مثالی جریدہ

شائستہ میر
اردو مرنہیں رہی ہے، اردو از سر نو زندہ ہورہی ہے۔ زندہ زبان و ادب کی پہلی پہچان ہے کتابیں اور رسائل اور بولنے والوں کی بڑھتی تعداد۔ ان تین پہلوؤں کے تناظر میں غور کیا جائے، تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں ہم آج اردو کے سلسلہ میں زیادہ بیدار مغز ہوگئے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ بہت جلد ہم نے اپنی کھوئی ہوئی وراثت کی بازیافت کی کوشش شروع کردی ہے۔مارچ 2001 سے شائع ہونے والا رسالہ ’’تمثیلِ نو‘‘ کا تقریباً ہر شمارہ اپنے قاری کی خصوصی توجہ کا طالب ہے۔ خاص طور سے جو موضوعاتی گوشے سامنے آرہے ہیں، ان کے مطالعے سے اردو ادب کی سمت و رفتار کے

Read more

دلی اور دلی والے

محمد فیروز دہلوی
گزشتہ مضمون (قسط نمبر:20) میں گراموفون ریکارڈ کے مقابلوں کے تعلق سے بیان کیا گیا تھا کہ دلی والوں کا ایک شوق یہ بھی تھا، چند باتیں بیان کرنے سے رہ گئی تھیں، یہاں شامل کی جاتی ہیں۔ دلی میں آزادی (1947)سے قبل کناٹ پلیس اور چاندنی چوک میں گراموفون ریکارٖڈ کی دوکانیں تھیں۔ گراموفون صدر بازار میں بھی فروخت ہوتے تھے۔ دلی اور دلی کے مضافات کے شائقین انھیں دوکانوں سے ریکارڈ خریدتے تھے۔
پرانے ریکارڈ اور استعمال شدہ گراموفون جامع مسجد کی ان دوکانوں میں مل جاتے تھے ، جو شمالی دروازے کی سیڑھیوں کے دائیں بائیں دریبہ کلاں اور

Read more

افسانہ تیری سادگی کے پیچھے

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ثانیہ خوشی سے بے قا بو ہو تے ہوئے اپنی سہیلی ثمرین سے لپٹ گئی۔
’’ارے…ارے…کیا ہو گیا…؟‘‘ ثمرین نے ثا نیہ کو سینے سے لگاتے ہو ئے کہا۔
’’آج تو غضب ہو گیا…میری تو جیسے قسمت ہی جاگ اٹھی…‘‘ ثانیہ نے بے تحا شہ ثمرین کے ہا تھوں کو چومنا شروع کردیا۔ثمرین اس بے مو سم برسات سے گھبراتے ہو ئے بو لی ’’یار کچھ بتائے گی بھی یا…؟‘‘
’’ارے آج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچا نک ایک چینل پر میرے آئیڈیل معروف فکشن نگار حشمت ضیاء کا انٹرویو آرہا تھا۔‘‘ثانیہ

Read more

دلی اور دلی والے

محمد فیروز دہلوی
ہمارے دادا اور نانا دونوں انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ عالیہ، مسجد فتح پوری، دلی سے فارغ تھے۔ تجارت پیشہ، دلی کے شرفا میں شمار ہوتا تھا۔ 1960 میں اللہ کو پیارے ہو ئے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے ان گنت چھوٹے بڑے کارخانہ داروں کو دیکھا تھا، مراسم تھے، خود ہمارے خاندان کے چند بزرگوں کے بھی ٹھپہ گوٹہ کناری کے کارخانے تھے۔
دادا کے انتقال سے چند سال پہلے ہم نے ان سے دریافت کیا کہ ’’دلی میں چند لوگ لفظ بگاڑ کر بولتے ہیں، یہاں تک کہ اچھ

Read more

اردو کی ممتاز فکشن نگار :حجاب امتیاز علی

عبد اللہ عثمانی
خواتین کے حوالے سے اردو افسانہ نگاری کے عہد شباب میں جب صالحہ عابد حسین، رضیہ، سجاد، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور ان کی دیگر معاصر فکشن نگارعورتوں کی عظمتِ قلم اور فکری بصیرتیں بلندیاں چھورہی تھیں نیز ان کے نقشِ قدم پر چلنے والی متعدد خواتین افسانہ نویس، مثلاً آمنہ ابو الحسن، عفت موہانی، جمیلہ ہاشمی، واجدہ تبسم، رضیہ بٹ، رفیعہ منظور الامین وغیرہ کی تحریریں نئی سوچ اور سماج کی تعمیر کررہی تھیں، تبھی افسانوی دنیا کا ایک معتبر نام حجاب امتیاز علی بھی شہرتوں کی چوٹیوں پ

Read more

دلی اور دلی والے

محمد فیروز دہلوی
اس سے پیشتر ’’دلّی کی آوازوں‘‘ کے تعلق سے لکھا تھا کہ کس طرح عہد شاہجہانی سے کچھ عرصہ پہلے تک شاہجہاں آباد کے گلی کوچوں میں سودا بیچنے والے کیسی کیسی صدائیں لگاتے تھے۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ یاد آیا کہ حکیم ناصر نذیر فراقؔ (مصنف لال قلعہ کی ایک جھلک) بیان کرتے ہیں کہ ’’اکبر ثانی کے حضور میں پرچہ گزرا کہ آج شاہ جہاں آباد میں شہر والوں نے کھُٹ بُنوں کو خوب مارا پیٹا، کیوں کہ کھٹ بنوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ شہر میں پھیری پھرنے آتے ہیں، تو آواز لگاتے ہیں، ’کھاٹ

Read more

میں بھی حاضر تھان وہاں۔۔۔۔۔۔۔

بریلی:گزشتہ دنوں آل انڈیا سدبھائو نرمان کی جانب سے راٹری کلب انٹرنیشنل ہال بریلی میںجشنِ ڈاکٹر آصف بریلوی ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا۔جس میں لندن میں مقیم شاعرہ فرزانہ فرحت کو انکی ادبی علمی خدمات اور انکی شاعری پر ’’سد بھاونا ایوارڈ 2013‘‘ سے نوازا گیا۔فرزانہ فرحت جوکہ لندن میں مقیم ہیں، علمی ادبی حلقوں میں اپنا مقام رکھتی ہیں ۔انڈیا کے مختلف ادبی جرائد میں انکا کلام شائع ہوتا ہے۔انکے دو مجموعہ کلام ’’بدلتی شام کے سائے ‘‘ اور ’’خواب خواب زندگی ‘‘ شائع ہوکر شہرت کی بلندیوں کو چھو چکے ہیں ۔2010میں انہیںشریف اکیڈمی جرمنی کا ڈائریکٹر لندن نامزد کیا گیا ۔

Read more

کسی بھی زبان کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا: ڈاکٹر احمد قا ضی

ڈاکٹر احمدعبد الرحمن قاضی دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹی ’جامعہ ازہر‘ مصر کے شعبۂ اردو سے بحیثیت صدر منسلک ہیں۔ ان کا تعلق راجدھانی قاہرہ سے جنوب میں ضلع سوہاج میں ایک کاشتکار فیملی سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں میں حاصل کی اور پھر جامعہ ازہر میں داخلہ لیا، جہاں سے بی اے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوستان میں ایم فل اور پھر پروفیسر شریف صاحب کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ڈگری دلی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ڈاکٹر احمد قاضی نہ صرف درس و تدریس سے جڑے ہوئے ہیں، بلکہ ہندوستان و مصر میں اردو کو فروغ دینے کے لیے انتہائی سرگرم بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں’ چوتھی دنیا‘ کے سینئر سب ایڈیٹر وسیم احمد اور فیض احمد فیضی سے ان کی ملاقات جامعہ ملیہ انڈو عرب کلچرل سینٹر میں ہوئی۔ اس ملاقات میں ہوئی بات چیت کا ماحصل قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

Read more

دلی اوردلی والے : چند تہذیبی مرقعے

محمد فیروز دہلوی
یہ1940-41 کی بات ہے۔ دلی کے معروف ادیب خواجہ محمد شفیع نے دلی کے مختلف پیشہ وروں اور دوکانداروں کے تعلق سے چند مضامین قلم بند کیے تھے، جو اس وقت کے جرائد میں شائع ہوئے۔ بعد ازاں انہیں مضامین کا مجموعہ ’’دلی کی آوازیں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان آوازوں کے تعلق سے دلی والا اور باہر والا کے درمی

Read more