ہر ہر گنگے

ذکیہ مشہدی
ورما جی کی چغادری لینڈ رور کی ہائیں ہائیں سن کر مسز ورما کمر پر ہاتھ رکھ کر اٹھیں۔
’’اری اور رام دئی! آگئے تیرے صاحب اب مسالہ پیس پانچ کلو۔‘‘ انھوں نے مسرور لہجے میں کہا اور انگلی سے پیشانی پر لگی چونی برابر بندیا درست کی۔
ورما جی ہفتے بھر بعد فارم سے لوٹے تھے۔ شکار کے دھتی تھے۔ مرغابیاں اور ہرن تواکثر لٹکائے چلے آتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ شکار کے ساتھ جیب میں کچھ زندہ جانور بھی تھے۔ایک لڑکا کوئی دس ایک برس کا۔ تین لڑکیاں۔ ایک اٹنگی دھوتی میں ملبوس مرد۔ ایک حاملہ عورت۔ سب جی بھر کالے، آدھے ننگے۔مریل سیاہ چہروں پر زرد آنکھیں، سپید دانت۔ یہ کوڑا کر

Read more

گزشتہ دس برسوں کا ادب

ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
اردو تحقیق اپنے شا ندار ماضی کے سا تھ اکیسویں صدی میں دا خل ہو ئی۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہا ئی یعنی2000تا2010 کا زما نہ اردو تحقیق کے اعتبار سے کیسا رہا؟ یہ ایک اہم ادبی سوال ہے۔اس دس سال کے عرصے میں ہم نے کیا کھو یا اور کیا پایا؟کون سے نئے تحقیقی کارنامے منظر عام پر آ ئے؟کن نئے نا قدین و محققین نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کیااورکون سے اکابرین ہمیںالوداع کہہ گئے؟ ان تمام سوالوںکے جوا بات

Read more

ایک بات میں مختلف باتیں کہہ جانا

پرکاش بھنڈاری
یہ سال اردو سے محبت کرنے والوں کے لیے کچھ خاص ہے۔ اس سال عظیم اردو شاعر فیض احمد فیض کا یوم ولادت منایا جارہا ہے۔ ان کی ولادت 13 فروری 1911 کو کالا کادر نامی گاؤں میں ہوئی تھی، جو سیالکوٹ سے کچھ دوری پر واقع ہے۔ انہوں نے لاہور سے انگریزی ادب اور فلاسفی کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنی ملازمت کا سفر بطور انگریزی لکچرر امرتسر سے شروع کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا اور پاکستان ٹائمز

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
تخلیقیجذبہ ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے، جسے زبان کے کنارے محدود رکھنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔ دنیا میں جتنی شکلیں انسانوں کی ہیں، جذبوں کے اظہار کے بھی شاید اتنے ہی پیرایے ہیں، اسی لیے ہر تخلیق، تخلیق کار کے ساتھ مخصوص ہو کر منفرد ہوجاتی ہے اور ان گنت شکلوں میں اظہار پاتی ہے۔ اردو ادب کی شعری و نثری اصناف میں بھی وہ تنوع ہے جو تخلیق کو مختلف صورتوں میں پھلنے پھولنے اور اظہار پانے کے مواقع بخشتا ہے۔ اس لیے زیادہ تر صنفوں نے علاقائی زبانوں، بولیوں اور لہجوں میں بھی مخصوص طریقے سے اظہار کی صورتیں

Read more

(ڈرامہ کا سفر (2000سے2010تک

ڈاکٹر اظہاررصہبائی
جب ہم گزشتہ دس سالہ اردو ڈرامہ کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی تعداد ہمیں ایک درجن سے زائد نہیں ملتی، جسے اردو میں ڈرامہ کی صنف کی سست رفتاری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بقول ڈاکٹر محمد حسن ’’اردو والے اپنی اس متاعِ بے بہا سے ناواقف ہیں اور اردو ڈرامہ کے بڑے حصہ کو پارسی تھیئٹر کی گود میں ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔‘‘ تو کچھ لوگ (انورعظیم) اردو میں اس کے وجود سے یکسر انکار کرتے ہیں۔ اردو میں ڈرامہ جیسی صنف کا آغاز کب ہوا، یہ مسئلہ آج بھی متنازع فیہ ہے۔ ڈرامہ کا طالب علم یہاں بھی بھٹکتا

Read more