گزشتہ دس برسوں کا ادب

ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
اردو تحقیق اپنے شا ندار ماضی کے سا تھ اکیسویں صدی میں دا خل ہو ئی۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہا ئی یعنی2000تا2010 کا زما نہ اردو تحقیق کے اعتبار سے کیسا رہا؟ یہ ایک اہم ادبی سوال ہے۔اس دس سال کے عرصے میں ہم نے کیا کھو یا اور کیا پایا؟کون سے نئے تحقیقی کارنامے منظر عام پر آ ئے؟کن نئے نا قدین و محققین نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کیااورکون سے اکابرین ہمیںالوداع کہہ گئے؟ ان تمام سوالوںکے جوا بات

Read more

ایک بات میں مختلف باتیں کہہ جانا

پرکاش بھنڈاری
یہ سال اردو سے محبت کرنے والوں کے لیے کچھ خاص ہے۔ اس سال عظیم اردو شاعر فیض احمد فیض کا یوم ولادت منایا جارہا ہے۔ ان کی ولادت 13 فروری 1911 کو کالا کادر نامی گاؤں میں ہوئی تھی، جو سیالکوٹ سے کچھ دوری پر واقع ہے۔ انہوں نے لاہور سے انگریزی ادب اور فلاسفی کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنی ملازمت کا سفر بطور انگریزی لکچرر امرتسر سے شروع کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا اور پاکستان ٹائمز

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
تخلیقیجذبہ ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے، جسے زبان کے کنارے محدود رکھنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔ دنیا میں جتنی شکلیں انسانوں کی ہیں، جذبوں کے اظہار کے بھی شاید اتنے ہی پیرایے ہیں، اسی لیے ہر تخلیق، تخلیق کار کے ساتھ مخصوص ہو کر منفرد ہوجاتی ہے اور ان گنت شکلوں میں اظہار پاتی ہے۔ اردو ادب کی شعری و نثری اصناف میں بھی وہ تنوع ہے جو تخلیق کو مختلف صورتوں میں پھلنے پھولنے اور اظہار پانے کے مواقع بخشتا ہے۔ اس لیے زیادہ تر صنفوں نے علاقائی زبانوں، بولیوں اور لہجوں میں بھی مخصوص طریقے سے اظہار کی صورتیں

Read more

(ڈرامہ کا سفر (2000سے2010تک

ڈاکٹر اظہاررصہبائی
جب ہم گزشتہ دس سالہ اردو ڈرامہ کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی تعداد ہمیں ایک درجن سے زائد نہیں ملتی، جسے اردو میں ڈرامہ کی صنف کی سست رفتاری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بقول ڈاکٹر محمد حسن ’’اردو والے اپنی اس متاعِ بے بہا سے ناواقف ہیں اور اردو ڈرامہ کے بڑے حصہ کو پارسی تھیئٹر کی گود میں ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔‘‘ تو کچھ لوگ (انورعظیم) اردو میں اس کے وجود سے یکسر انکار کرتے ہیں۔ اردو میں ڈرامہ جیسی صنف کا آغاز کب ہوا، یہ مسئلہ آج بھی متنازع فیہ ہے۔ ڈرامہ کا طالب علم یہاں بھی بھٹکتا

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
آج کل مشاعروں پر بہار ہے۔ ویسے تو یہ صنف ہر موسم میں پھلتی پھولتی ہے اور اس پر قدرتی موسموں کا وہ اثر نہیں ہوتا جو دوسری فصلوں پر ہوتا ہے، مگر یوم جمہوریہ، یوم آزادی اور اس طرح کے قومی تہواروں کے آس پاس یہ فصل اور بھی زیادہ پھلتی پھولتی ہے۔ جس طرح آم کے موسم میں آم، بس آم ہی عام نظر آتے ہیں، اسی طرح کچھ خاص موسموں میں یہی اور یہی صنف نظر آتی ہے، جس طرح آم پھلوں کا راجا ہے، شاید مشاعرے بھی ادبی اظہار کے شہنشاہ ہیں۔(مشابہتیں اور بھی ہیں، مگر ان میں مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں کے لیے نقص امن کا اندیشہ ہے) نہ اس صنف کا کوئی جواب ہے اور نہ اس کے ذریعے پھلنے پھولنے والوں کا کوئی جواب ہے۔ گویا ہر چیز لاجواب ہے۔
یہ تمہیدی تاثر اس لیے نوک قلم پر آگیا کہ مشاعروں کے تعلق سے گزشتہ دنوں سامع کی حیثیت سے کچھ تجربے بھی ہوئے اور ہم نے کچھ دوستوں کو ان تجربوں میں

Read more