بات سے بات چلے

انجم عثمانی
لیجئے!سمیناروں، مذاکروں، استقبالیوں، اجرائوں اور مشاعروں کی بھر پور فصل کا موسم پھر آگیا۔ ہر ماہ جنوری کے وسط سے مارچ کی آخری تاریخ تک مشاعروں کی بہتات تو ہوتی ہی ہے ،سمیناروں کی دھکاپیل کا بھی یہی موسم ہے۔شروع میں ہر ہفتے، پھر ہفتے میں دو تین پھر تقریباً روزانہ اور31مارچ تک آتے آتے بالکل ویسا ہی منظر ہوتا ہے جیسا رمضان شریف میں سرکاری اور سیاسی افطار پارٹیوں کا ہوتا ہے۔جس طرح ان افطار پارٹیوں میں روزہ دار ہونے کی شرط نہیں، اسی طرح ان سمیناروں میں بھی ادب، زبان، موضوع وغیرہ سے م

Read more

سب کچھ اندر ہے

فیروز عابد
آنکھ کھلی تو دیکھا بیوی جائے نماز ٹھیک کر رہی تھی۔
’’کیا وقت ہوا ہے…؟‘‘
’’بس اب اذاں ہوگی…!‘‘
کل شام جب اسکول کی نو تعمیر شدہ عمارت دیکھ کر گھرواپس آیا تو بیٹے نے کہا تھا ’’ڈائریکٹر صاحب بھی تیسری منزل پر پہنچ کر کچھ تھک سے گئے تھے مگر آپ کی تو سانس ہی پھول گئی تھی۔ چلیے کل سے مارننگ واک کیجیے میں آپ ک

Read more

تبصرۂ کتب

شاہد نعیم
سرزمین امروہہ نے ایسے ایسے عظیم سپوت پیدا کئے، جنہوںنے بین الاقوامی سطح پر اپنے وطن کا نام روشن کیا۔ رئیس امروہوی، جون ایلیا، کمال امروہوی اور عظیم امروہوی جیسے عظیم شاعر، ادیب، نقاد اور فن کار امروہہ کی سرزمین نے ہی پیدا کیے۔ سلیم امروہوی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ بھی اسی باکمال سرزمین امروہہ کے سپوت ہیں اور قلیل مدت میں ہی ملک اور بیرون ملک کے مشاعروں میں کامیابی کے ساتھ اپنی سرزمین کا نام روشن کر دیا ہے۔ سلیم امروہوی کے تعارف کے لیے بس اتنا ہی بتانا کافی ہے کہ وہ عظیم امروہوی کے بھائی ہیں۔ سلیم صاحب کے بارے میں احمد فراز صاحب(پاکستان) نے لکھا کہ ان کی شاعری ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جب کہ کیف بھوپالی صاحب نے انہیں ’’روشن دیا‘‘ سے

Read more

تبصرہ ٔ کتب

فرمان چودھری
آج سے سوا چودہ سو سال قبل سرزمین عرب میں آنکھیں کھولنے والے آخری نبی حضرت محمدؐ کی سیرت پاک کو صفحۂ قرطاس پر اتارنے کا کام آپؐ کے عہد مبارک میں ہی شروع ہو چکا تھا۔جو آہستہ آہستہ ایک مستقل فن کی شکل اختیار کرگیا۔صحابۂ کرام ؓجس طرح احادیث رسولؐ کو جمع کر رہے تھے،اسی طرح حیات رسولؐ کی ایک ایک ادا،ایک ایک قول و فعل اور طریقۂ زندگی کے ایک ایک عمل کو بھی انتہائی عقیدت کے ساتھ جمع کر رہے تھے۔سیرت نگاری کا یہ کام اس زمانے سے تا حال جاری و ساری ہے۔اس کام میں کسی بھی زمانے میں کوئی جمود نہیں آیا۔سیرت نگاری کا یہ قافلہ یوں ہی رواں دواں ہے اور اس وقت تک جاری و ساری رہے گا جب تک یہ دنیا قائم ہے ۔ یہ ایسا بحر بیکراں ہے جسے عبور کرنے م

Read more

تبصرۂ کتب

فرمان چودھری
افسانہ اردو ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو زندگی کے بے حد قریب مانی جاتی ہے۔شاید اسی لیے اردو میں افسانہ کی ابتدا سے لے کر آج تک اس صنف کی مقبولیت میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔گرچہ افسانہ مغربی ادب سے اردو میں آیا،پھر بھی اردو میں اگر غزل کو مقبولیت حاصل ہے توافسانوں کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہےاورافسانوں کی تخلیق کا سلسلہ منشی پریم چند سے لے کرتا حال جاری ہے۔اسی سلسلے کو آگے بڑھایا ہے سہیل جامعی کے افسانوی مجموعے ’دہلیز‘ نے۔
24 افسانوں پر مشتمل سہیل جامعی کے افسانو ں کا مجموعہ’ دہلیز‘ گرچہ ایک مختصر مجموعہ ہے ،لیکن اختصار کے باوجود اپنے قاری کو زندگی کے تمام مراحل سے روشناس

Read more