(ڈرامہ کا سفر (2000سے2010تک

ڈاکٹر اظہاررصہبائی
جب ہم گزشتہ دس سالہ اردو ڈرامہ کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی تعداد ہمیں ایک درجن سے زائد نہیں ملتی، جسے اردو میں ڈرامہ کی صنف کی سست رفتاری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بقول ڈاکٹر محمد حسن ’’اردو والے اپنی اس متاعِ بے بہا سے ناواقف ہیں اور اردو ڈرامہ کے بڑے حصہ کو پارسی تھیئٹر کی گود میں ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔‘‘ تو کچھ لوگ (انورعظیم) اردو میں اس کے وجود سے یکسر انکار کرتے ہیں۔ اردو میں ڈرامہ جیسی صنف کا آغاز کب ہوا، یہ مسئلہ آج بھی متنازع فیہ ہے۔ ڈرامہ کا طالب علم یہاں بھی بھٹکتا

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
آج کل مشاعروں پر بہار ہے۔ ویسے تو یہ صنف ہر موسم میں پھلتی پھولتی ہے اور اس پر قدرتی موسموں کا وہ اثر نہیں ہوتا جو دوسری فصلوں پر ہوتا ہے، مگر یوم جمہوریہ، یوم آزادی اور اس طرح کے قومی تہواروں کے آس پاس یہ فصل اور بھی زیادہ پھلتی پھولتی ہے۔ جس طرح آم کے موسم میں آم، بس آم ہی عام نظر آتے ہیں، اسی طرح کچھ خاص موسموں میں یہی اور یہی صنف نظر آتی ہے، جس طرح آم پھلوں کا راجا ہے، شاید مشاعرے بھی ادبی اظہار کے شہنشاہ ہیں۔(مشابہتیں اور بھی ہیں، مگر ان میں مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں کے لیے نقص امن کا اندیشہ ہے) نہ اس صنف کا کوئی جواب ہے اور نہ اس کے ذریعے پھلنے پھولنے والوں کا کوئی جواب ہے۔ گویا ہر چیز لاجواب ہے۔
یہ تمہیدی تاثر اس لیے نوک قلم پر آگیا کہ مشاعروں کے تعلق سے گزشتہ دنوں سامع کی حیثیت سے کچھ تجربے بھی ہوئے اور ہم نے کچھ دوستوں کو ان تجربوں میں

Read more

جے پور کی شہید اعظم کانفرنس میں ’چوتھی دنیا ‘ اردو کا اجرا

ممبئی: شعبہ اردو ،ممبئی یونیورسٹی اور کوکن اردو رائٹرس گلڈممبئی کے زیر اہتمام “انگلستان میں اردو اور ساحر شیوی کی خدمات ” کے موضوع پر ایک سمپوزیم کا انعقاد ممبئی یونیورسٹی میں کیا گیا ۔ اس سمپوزیم کی صدارت علی ایم شمسی نے کی ۔اس موقع پر ساحر شیوی کے شعری مجموعے ’گیت میرے کوکن کے‘ اور اس پر ترتیب دی گئیں دو کتابوں کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔ سمپوزیم کے آخر میں ممبئی یو

Read more

معاصراردو ناول

ڈاکٹر شہزاد انجم
ناول اردو نثر کی اہم ترین صنف ہے۔مختلف ناقدین نے ناول کے حوالے سے اپنی مختلف رائیں پیش کی ہیں۔کلاریوزنے ناول کو روزمرّہ آنکھوں کے سامنے ہونے والے واقعات کو مانوس اور مربوط انداز میں پیش کرنے کانام دیا ہے، وہیں ہنری جیمس نے ناول کوزندگی کاشخصی اور راست اثر قراردیاہے ۔فوسٹر ناول کوایک خاص طویل نثری قصہ گردانتاہے۔دراصل ناول کا لفظ اردو میں انگریزی سے لیا گیاہے اور یہ صنف اردو میں انگریزی سے وجود میں آئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ناول زندگی کی مکمل تصویر ہے جس میں زندگی کے مختلف واقعات

Read more