جنگ مستقل حل کا راستہ نہیں : مہاتما گاندھی

مہاتما گاندھی کا ماننا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی، کبھی بھی تشدد اور جنگ سے کسی بھی مسئلے یا تنازع کا مستقل حل نہیں ہوا ہے۔ جنگ سے مسئلے کچھ وقت کے لئے ٹل تو جاتے ہیں۔طاقتور کمزور کو ہرا کر، اس سے عارضی طور سے زبردستی اپنی بات منوا تو لیتا ہے، لیکن تشدد یا جنگ سے کوئی ایسا حل نہیں نکلتا جو دونوں فریق کو رضاکارانہ طور پر منظور ہو۔ تشدد کا جواب جب تشدد سے دیا جاتا ہے ، تو اس سے تشدد ہی بڑھتا ہے، کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ، گاندھی جی کا ماننا تھا کہ اصلی لڑائی ایک ہی طرح کی قوت والوں کے بیچ نہ ہوکر

Read more

چھیاسی سالہ اوم پرکاش سونی کا کارنامہ

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کی خبر لینے والے صحافیوں کی خبر عموماً کوئی نہیں لے پاتا ہے جس کے سبب ان کے بارے میں لوگوں کو بہت کم واقفیت ہوتی ہے۔یہ عدم توجہی تمام زبانوں کے صحافیوں کے ساتھ ہے۔اردو صحافیوں کا بھی حال کم و بیش یہی ہے۔

Read more

تعلیم کے بعد صحت آئین کے بنیادی حقوق میں شامل کیوں نہیں؟

ہندوستان جس تیز رفتاری سے ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے، بڑی طاقت بن رہا ہے۔ ساری دنیا اس کی ترقی سے انگشت بدنداں ہے۔ لیکن جب ہم صحت کے شعبے سے متعلق مختلف سروے پر نظر ڈالتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ صحت و علاج کے معاملے میں ترقی یافتہ ممالک کی تو بات ہی چھوڑیے، ہم دنیا کے پچھڑے ہوئے ملکوںسے بھی زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی اوسط عمر 68 برس ہے، جبکہ چین کے لوگوں کی اوسط عمر 76 سال، سری لنکا کی75 سال اور بنگلہ دیش کے لوگوں کی اوسط عمر 72 سال ہے۔ 2012 میں ہوئے سروے کے مطابق ہندوستان میں ایک لاکھ افراد میں سے 233 افراد لقمۂ اجل بن جاتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر ایک لاکھ افراد میںمرنے والوںکی اوسط178 ہے۔ گویا ترقی کے معاملے میں ہم لاکھ مریخ پر کمندیں ڈالنے کی بات کر رہے ہوں، لیکن صحت کے شعبے میں ہم نیپال اور بنگلہ دیش جیسے غر یب ملکوںسے بھی گئے گزرے ہیں۔

Read more

اردو صحافت میںایک نیا تجربہ

ہندوستان مین ادبی رسائل کی کمی نہیں ہے۔ مگر ایک ایسے اردو ادبی اخبار کی ضرورت یقیناً محسوس کی جاتی رہی تھی جس میںمختلف شعبۂ حیات کو سمیٹتے ہوئے سب کچھ ہو اور وہ ہر عمر کے افراد کی دلچسپی کا باعث بھی ہو۔ اس لحاظ سے سرزمین بھوپال سے ابھی حال میںایک اردو ادبی سہ ماہی اخبار ’’باب ادب‘‘ کی اشاعت کا آغاز قابل تحسین ہے۔ باب ادب کے دوشمارے منظر عام پر آچکے ہیں اور اس نے اردو قارئین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل یہ ٹیبلائڈ سائز میںہے اور اس کے چارٹائٹل صفحات رنگین اور دلکش ہیں۔

Read more

محمد مسلم کی ’کچھ یادیں کچھ باتیں‘

ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز، ڈی 307، دعوت نگر، ابو الفضل انکلیو ،جامعہ نگر، نئی دہلی۔ 110025
صحافی بھی انسان ہے، لہٰذا حیات پوری ہونے پر وہ بھی ایک دن مرجاتا ہے،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔محمد مسلم ایک بڑے صحافی تھے۔ ان کے پاس کوئی صحافتی ڈگری نہیں تھی،مگر ان کی تحریروں میں پروفیشنل رنگ

Read more

شاعرکی زندگی حقیقی زندگی ہوتی ہے،تنہائی میں کھو کر اس کا جنم ہوتا ہے:مہیش بھٹ

ہندوستان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مردہ پرستوں کا ملک ہے۔یہاں جیتے جی آپ کو عزت و شہرت نصیب نہیں ہوتی لیکن مرنے کے بعد آپ کے بت بنائے جاتے ہیں۔بڑے بڑے تعزیتی جلسے منعقد کئے جاتے ہیں اور مرنے والے کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔لیکن اردو ادب میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہیں جیتے جی بے پناہ شہرت و عزت نصیب

Read more

بابا سائیں شکیل الرحمن کے بہانے کچھ باتیں

بابا سائیں بھی چلے گئے۔ جانے والوں کے قافلے میں ایک اور نام جڑ گیا۔ لیکن بابا سائیں صرف ایک نام نہیں تھے، ایک ایسے قدآور درخت کی طرح تھے جس کی شاخیں (ادبی تحریر) آج بھی ان کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں۔ وسیع تر تناظر میں اگر ان کے افکا رو نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ ان کا طرز اسلوب سب سے جدا، سب سے مختلف تھا۔ سیاسی وسماجی بحران سے پیدا شدہ اس غیر شائستہ معاشرہ پر ان کی گہری نظر تھی جہاں صحرائی و وحشی ثقافتیں سر نکال رہی تھیں۔ جدید شہری نظام

Read more

نوجوانوں میں اردو زبان کے لئے دلچسپی بڑھ رہی ہے

’جشن ادب ‘کے تحت لگاتار اردو شاعری اور بحث و مباحثہ کے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور اس کا سہرا یقینا نوجوان شاعر کنور رنجیت سنگھ چوہان کو جاتا ہے جن کی مادری زبان ہندی ہے ،لیکن اردو سے بے پناہ لگاﺅ کی وجہ سے بے حد کامیاب پروگرام منعقد کراتے ہیں۔”چوتھی دنیا“ کے سینئر کورسپونڈنٹ وسیم احمد نے ان سے مختصر سی بات کی ۔پیش ہے اس کے اقتباسات۔

Read more

جشن ریختہ :اردو تہذیب و تمدن کا جشن

’’اردو ایک تہذیب ہے ، اردو ایک ثقافت ہے‘‘۔ ایسی باتیں اکثر سننے کو مل جاتی ہیں،لیکن آج اردو اپنی تاریخ کے ایسے دور میں پہنچ گئی ہے، جہاں اکثر اس کی تباہی کے مرثیے بھی سننے کو مل جاتے ہیں۔ اس میں کچھ حقیقت بھی نظر آتی ہے ۔کیونکہ اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ نئی نسل

Read more

انتظار حسین : اردو فکشن کا ایک روشن استعارہ

کچھ ایسے بھی انساں ہیں جو مر جائیں تو
صدیوں تک قبروں کو بھی حیرانی ہوگی
p-11اردو کے ممتاز فکشن نگار انتظار حسین کا شمار انھیں شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ جو لوگ تخلیق کار کے ساتھ ساتھ اچھے اور نیک انسان ہوتے ہیں اور جو انسانی عظمت کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کی موت کا یقین ہی نہیں ہوتا۔ 2 فروری 201

Read more