ہنگامۂ حیات کی شاعر ثروت زہرا

حیدر طبا طبائی
ان کے مجموعہ کلام بنام’ جلتی ہوا کا گیت‘ میں ظاہری شان و شوکت کے بجائے معنوی خوبیاں ملتی ہیں، وارداتِ قلب کا انداز بھی بدلا ہوا ہے، اشعار میں اظہارِ درد و غم ، کاوش و محنت اور اسلوب بیان بہت خوب ہے۔
ابن معتز کی رائے ہے کہ عمدہ شعر وہ ہے جو دل سے کسی چیز کو پوشیدہ نہ رکھے۔ ابن معتز شعر کو سرور و آگہی کا باعث کہتے ہیں۔ان کا قول ہے کہ ایسا کب

Read more

بھول بوڑبھی ہو گئی

یوسف منصوری
زمین کی سفید جنت، شملہ کی حسین وادی میں سرسبز شاداب درختوں کی شاخوں پر برف کے سفید پھول، سواد شام کے منظر کو دلکش بنائے ہوئے تھے۔ وادی میں رہ رہ کے برف باری کا سلسلہ جاری وساری تھا۔ وادی کی دوطرفہ ڈھلان کے نشیب میں برف سے ڈھکی ہوئی سڑک پر آتی جاتی موٹرکاریں ایسی نظرآرہی تھیں۔ جیسے جگنوئوں کے قافلے ادھر سے ادھر آجارہے ہوں۔ انہیں موٹرکاروں میں سے ایک کار گنگا کے گھر کی طرف آرہی تھی۔ بوڑھی گنگا اپنے بوڑھے گھر کے بوڑھے کمرے میں بوڑھے پلنگ پر تکیے کاسہارا لیے بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی بوڑھی آنکھیں بوڑھی دیوار پر ٹنگی ہوئی بوڑھی گھڑی کو باربار دیکھ رہی تھیں۔ گھڑی کی ٹک ٹک ک

Read more

بات سے بات چلے

انجم عثمانی
یہ اور بات ہے کہ جدا ہے مری نماز
اللہ جانتا ہے کہ کافر نہیں ہوں
یہ شعر اردو ، ہندی کے مشہور معتبر شاعر راجیش ریڈی کا ہے جو ان کے تازہ مجموعہ ’’وجود‘‘ کے پہلے صفحہ پر درج ہے۔ راجیش ریڈی ان شاعروں میں سے ہیں جنھوں نے شاعری میں گلے گلے ڈوب جانے کے بعد اردو باقاعدہ سیکھی ہے اور ہمارے ان کامیاب شاعروں اور نایاب دوستوں میں سے ہیں جن کا نامہ اعمال ابھی سے دائیں ہاتھ میں ہے۔
راجیش ریڈی کا تازہ مجموعہ کلام ’’وجود‘‘ ہم تک پہنچا تو اشعار کے تیور دیکھ کر ہمیں ان کے ساتھ گزاری ہوئی بہت سی شامیں یاد آ گئیں۔ یادش بخیر: تقریباً تین دہائیاں پہلے جب ہم یونین پبلک سروس کمیشن (

Read more

میرے زمانہ کی دلی

سید ضمیر حسن دہلوی
دلی کی تعمیر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ناصر نذیر فراق نے لکھا ہے کہ جب لال قلعہ اور جامع مسجد بن کر تیار ہوگئے تو شاہجہاں نے حکم دیا کہ امراء اور رئوساء کی حویلیاں شہر کے بیچوں بیچ اور کاریگر ، صنعت کاروں کے کوچے کنارے کنارے بسائے جائیں۔دلی گیٹ سے جٹواڑے، قصاب پورے، گھونسیوں کے محلے، کھٹیکوں کی بستی،کونڈے والان، نیاریان،رود گران، چابک سواران اور فراش خانے سے گزر کر آپ مسجد فتح پوری پہنچ جائیں گے۔چاندنی چوک میں جو گلیاں اور کوچے ہیں وہ نوابین، رئوساء اور جوہریوں سے آباد تھے۔جامع مسجد کے قریب کوچہ چیلان میں علماء اور صلحاء رہتے تھے۔بنگش کے کمرے کے پاس نواب مصطفیٰ شیفتہ کی حویلی، صدر الصدور کی حویلی ، نواب دوجانے کا مکان ، نواب عزیز آبادی کا پھاٹک، ش

Read more

اسکول چلیں ہم کا نعرہ تو اچھا ہے،مگر۔۔۔۔

خلیل احمد خلش
یکم جولائی سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی اسکولوں کی رونق لوٹ آئی ہے۔ حسب سابق امسال بھی تعلیمی سیشن شروع ہوتے ہی ’’ سَرو شکشا ابھیان‘‘ کے تحت اسکول کے بچوں بچیوں نے اس نعرے کے ساتھ ریلیاں نکالیں۔’’ آدھی روٹی کھائیں گے اسکول پڑھنے جائیں گے‘‘۔تعلیمی نعرے دینے اور دلوانے والے سبھی علم پرور اور علم دوستوں کا اس بات پر زور تھا کہ غریب امیر سبھی بچے پڑھیں،سبھی آگے بڑھیں۔انہی تعلیمی سرگرمیوں کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے مارا ماری کا سلسلہ شروع ہوا۔ گلی کوچوں میں پرچون کی دکان کی طرح کھلنے والی تعلیمی دکانوں کے دکانداروں نے نونہالوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے معیاری تعلیم ، اعلیٰ تعلیم یافتہ استادوں کے ذریعہ دینے کے خوبصورت اشتہار اخباروں م

Read more

میں بھی حاضر تھا وہاں

مدرسہ قادریہ میں جلسۂ دستار بندی کا انعقاد
ہماچل پردیش: ’’جب حشر کے میدا ن میں اولین و آخرین کا اجتماع ہوگا، حضرت آدم ؑ سے حضرت محمدصلے اللہ علیہ وسلم تک تما م انبیا ء و اولیاء اور ساری مخلوق خداکے سامنے حاضر ہوگی اس وقت حافظ قرآن کے والدین کو بلا یا جائے گا، رب کائنات حافظ قرآن کے والدکی تاج پوشی کرے گا، جس کی روشنی عر ش اعظم کی روشنی سے زیا دہ ہو گی ۔‘‘اس فکر کا اظہار مدرسہ قادریہ، مسروالا، ہماچل پردیش کے نا ظم حضرت مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے جلسۂ دستار بندی کے موقع پر ہماچل پردیش ،پنجاب

Read more